صارفین سے بلوں کی ادائیگی کی اپیل کی جائے

کورونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کے باعث لاک ڈاؤن اور لوگوں کے روزگار پر اثرات کے باعث مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل امر ہے، معاشرے کا کونسا طبقہ کس حال میں ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو خط غربت سے پست کی آبادی اور خط غربت کو چھوتی اوسط کی آبادی کی مشکلات سب سے زیادہ ہونا فطری امر ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کو پورے ملک کیلئے یکساں پالیسی اختیار کرنا پڑتی ہے جس کے تناظر میں حکومت نے عوام کو بجلی اور گیس کے بل فوری طور پر جمع کرانے سے ریلیف دیا ہے اور جرمانہ کے بغیر تین ماہ بعد جمع کرانے کی سہولت دی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی اصابت سے انکار ممکن نہیں لیکن دوسری جانب قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بلوں کی وصولی کے بغیر خسارے کا شکار ادارے کیسے چلیں گے جبکہ تین ماہ بعد اکٹھا ٹیلیفون، بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کی جب نوبت آئے گی تو بل جمع ہونے کی شرح کیا ہوگی یعنی کتنے لوگ ایسے ہوسکتے ہیں جو ان حالات میں مشکلات کے باعث بل جمع نہیں کرا پائیں گے اور حکومت سے ریلیف کا مطالبہ کریں گے۔ اس وقت کی صورتحال کے سب سے زیادہ جو اثرات روزانہ کی اُجرت پر کام کرنے والے تنخواہ دار اور درمیانہ اُجرت وصول کرنے والوں پر مرتب ہو رہے ہیں اس کے اثرات دو تین ماہ کے اندر سنگین صورت میں ظاہر ہونے کے خدشات ہیں۔ بہرحال فی الوقت حکومت کی جانب سے بلوں کی تاخیر سے ادائیگی کی جو رعایت دی گئی ہے اس کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت اس امر کی بھی اپیل کرے کہ جو لوگ بل جمع کرا سکتے ہیں وہ حکومت کی رعایت کے باعث کاہلی سے کام نہ لیں بلکہ ملکی اداروں کو چلانے کیلئے وسائل مہیا کرنے کیلئے اپنا حصہ ڈالنے اور اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تعاون کریں، اپنے اپنے گھروں کے بل واجب الادا نہ رہنے دیں اور بلوں کی ادائیگی کریں۔ خود صارفین کے مفاد میں بھی یہ بہتر ہوگا کہ وہ بلوں کی ادائیگی کر کے قرض کا بوجھ نہ اُٹھائیں۔ حکومت بنکوں کو اس امر کا پابند بنائے کہ وہ بلوں کی ادائیگی کی تاریخ اور جرمانوں کے چکر میں پڑنے کی بجائے صارفین سے دوران اوقات کار بلوں کی وصولی آسان بنائیں، عوام تعاون کریں تو قطرہ قطرہ دریا کے مصداق ملکی اداروں کا پہیہ رواں رکھنے میں تعاون کر کے حکومت کی مدد کر سکتے ہیں۔ حکومت پر جتنا بوجھ کم ہوگا اتنا ہی بہتر اور ضرورت مندوں کی مدد اور صارفین کو بلاتعطل سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔ گیس، بجلی ٹیلیفون اور آبنوشی کی سہولیات کی فراہمی کرنے والے اداروں کو اپنے صارفین سے باقاعدہ اپیل کرنی چاہئے کہ وہ سہولیات کے بلاتعطل فراہمی کیلئے بلاضرورت بل واجب الادا نہ رہنے دیں اور ان کی ادائیگی کر کے مشکل وقت میں ان کی مدد کریں تاکہ بلوں کی ادائیگی نہ کر سکنے والے صارفین کے باعث بڑھنے والا بوجھ ہلکا ہو اور خدمات وسہولیات کی فراہمی کو جاری رکھا جا سکے۔
مدد مگر رازداری اور عزت نفس کو پامال کئے بغیر
لاک ڈاؤن کے باعث آبادی کے جو حلقے مالی مسائل کا شکار ہیں اور زندگی کی بنیادی سہولیات یہاں تک کہ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوگئے ہیں متمول افراد ہی نہیں بلکہ اوسط طبقے کے افراد کی بھی یہ دینی واخلاقی ذمہ داری بن گئی ہے کہ صاحب ثروت افراد کھلے دل سے اور اوسط طبقہ ایثار اور جذبہ قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی دست گیری کرے۔ انہیں کھانے پینے کی اشیاء لیکر دیں یا پھر نقدی کی صورت میں ان کی مدد کی جائے۔ ان افراد کی مدد کے وقت اس امر کا ازحد خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی عزت نفس محروم نہ ہو، ان کو دی جانے والی امداد کی تشہیر اولاً نیکی کے ضیاع کا باعث معاملہ ہے دوم یہ کہ اس سے مستحق افراد کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ دکھی دل کیساتھ امداد وصول کرتے ہیں، اس کی بجائے اگر رازداری اختیار کی جائے تو ان کے دل سے جو دعا نکلے گی وہی باعث اجر اور مالک کائنات کی خوشنودی کا باعث بنے ہوگا اور اسی طرح کی دست گیری کی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ ہمارے معاشرے کے برعکس یورپی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک اور مہذب معاشروں میں دیکھیں تو مخیر خواتین وحضرات ضرورت کی اشیاء پیکٹوں میں بند کر کے مخصوص جگہوں پر رکھ جاتے ہیں تاکہ ضرورت مند بلاجھجھک اُٹھالیں اور بھی کئی باعزت طریقے اختیار کئے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس قسم کے اطوار مجبوری کے تحت ہمارے معاشرے میں اختیار نہیں کئے جا سکتے، یہاں راشن لیکر فروخت کرنے، دوسروں کو پیچھے دھکیل کر ساری امدادی اشیاء لوٹنے کی کوشش کرنے کے مظاہر عام ہیں، ایسے میں جب اس قسم کا ماحول ہی نہ ہو محولہ مثال صرف عزت نفس کے مجروح نہ کرنے کے حوالے سے ہی دی جاسکتی ہے، ہمارے ہاں راشن بوریوں میں رکھ کر ضرورت مند افراد کی آبادی میں لیجاکر گھروں کے دروازوں پر رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر آگے بڑھ جانے اور تصویرکشی سے قطعی گریز کا جو طریقہ اختیار کیا جارہا ہے سبھی کو اس کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے یا پھر رازداری کیساتھ بہ آسانی جو طریقہ اختیار کیا جا سکے وہ مستحسن ہوگا۔