کرونا وائرس سے متعلق گوگل صارفین کا لوکیشن ڈیٹا فراہم کرے گا

ویب ڈسک:کرونا وائرس سے متعلق گوگل صارفین کا لوکیشن ڈیٹا فراہم کرے گا

کورونا وائرسسے متعلق عالمی وبا کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے گوگل لوگوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گا

معروف سرچ انجن 'گوگل' نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کی افادیت جانچنے کے لیے وہ اپنے صارفین کا 'لوکیشن ڈیٹا' فراہم کرے گا۔

گوگل کرونا وائرس سے متاثرہ 131 ممالک میں صارفین کی نقل و حرکت کا ڈیٹا ایک خصوصی ویب سائٹ پر مہیا کرے گا۔ جس میں جغرافیہ کے حساب سے لوگوں کی نقل و حرکت سے متعلق ٹرینڈز دکھائے جائیں گے۔

فرانسیسی خبر رسال ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گوگل کمپنی کا شائع کردہ ایک بلاگ میں کہنا ہے گوگل عوامی مقامات جیسے پارکس، دکانوں، گھروں اور کام کرنے والے مقامات پر لوگوں کے آنے جانے میں کمی یا اضافے سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔

گوگل میپس کے سربراہ جین فٹز پیٹرک اور چیف ہیلتھ آفیسر کیرن ڈی سالوو کے دستخط شدہ بلاگ میں گوگل کا مزید کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس اقدام سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ معلومات لاک ڈاؤن کے دوران کام کے اوقات کا تعین کرنے اور دیگر بنیادی فیصلے کرنے میں حکام کے لیے کار آمد ثابت ہوگی۔

گوگل میپس کے ذریعے سڑکوں پر ٹریفک کی موجودگی سے متعلق آگاہ کرنے کی طرح اپنی لوکیشن آن رکھنے والے صارفین کی نقل و حمل کی معلومات بھی دے گا۔

اے ایف پی کے مطابق چین، سنگا پور اور اسرائیل سمیت کئی ممالک نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے شہریوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

یورپ اور امریکہ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر صارفین کے سمارٹ فونز کی معلومات حکام کو فراہم کرنا شروع کردی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اس معلومات کو صحت عامہ کے سربراہان اور دیگر حکام کورونا کی وبا کو محدود کرنے میں مدد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

گوگل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'یہ معلومات حکام کو عوام کے ضروری دوروں میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے جو کاروباری اوقات میں تبدیلی یا ڈیلیوری سروس کی پیش کشوں کے متعلق آگاہی فراہم کر سکتی ہے۔'"

'اسی طرح لوگوں کی جانب سے بس اڈوں، ٹرین سٹیشنوں یا دیگر ٹرانسپورٹ کے مقامات پر متواتر دوروں کی صورت میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے مزید بسوں اور ٹرینوں کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔'