یہ بھی عجب طرزعمل ہے

خیر سے جمعہ گزر گیا اور نمازجمعہ بھی ہوگئی، تاہم حکومت اس کاوش میں ہے کہ لوگوں کا کہیں جمگھٹا نہ ہونے پائے تاکہ کرونا وائرس کا پھلنے پھولنے کا موقعہ حاصل نہ ہو مگر اس کا کیا کیجئے کہ مفادات کی جنگ پاکستان میں اس طرح ہوتی ہے کہ ایک قدیم ضرب المثل کے مطابق دو ملاؤں میں مرغی حرام ہی رہتی ہے۔ جب سے حکومت نے اعلان معطلی باجماعت نماز کا اعلان کیا ہے تب سے کچھ دینی شخصیات چیں بجبین نظر آرہے ہیں، جمعہ کے روز بھی ایسا ہی ہوا کہ پشاور کے علاقہ گلبہار نمبر4 کے علاقہ میں جو مسجد بڑی سڑک پر واقعہ ہے وہاں جمعہ کے روز لا ک ڈاؤن رہا چنانچہ اس مسجد میں نمازجمعہ کا اجتماع نہ ہو پایا البتہ اس سے چند گز کے فاصلے پر ایک مسجد میں نمازجمعہ کا اہتمام حسب معمول ہوا، جس مسجد پر نماز جمعہ کے موقع پر تالہ لٹکا دیا گیا تھا وہ علاقہ کی بڑی سڑک پر واقع ہے جبکہ جہاں نمازجمعہ ہوئی وہ بڑی سڑک سے ذرا ہٹ کر گلی کے اندر ہے۔ ہوا یہ کہ مقفل مسجد میں تو نمازجمعہ کا اجتماع نہ ہوا مگر اس کے مسجد میں نماز ادا کرنے والو ں کا رخ دوسری مسجد کی جانب ہو گیا۔ اس طرح دوسری مسجد میں نمازیوں کی تعداد دوگنی ہوگئی، اس طرح کم سے کم اجتماع کا اہتمام اس منصوبہ بندی ملیامیٹ ہو کر رہ گیا، اگر نمازی معمول کے مطابق اپنی اپنی مساجد میں تقسیم رہتے تو ایک مسجد میں اتنی بھیڑ نہ لگتی، ایسا صرف اسی علاقہ میں نہیں ہوا بلکہ شہر کے بیشتر علاقوں میں یہی صورتحال تھی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ شہر کی تمام جامع مساجد میں اس فیصلے کا اطلاق یکساں طور پر کیا جاتا یا پھر ہر مسجد میں نمازجمعہ کی ادائیگی کی اجازت ہوتی تو اس طرح رش نہ بڑھ پاتا لیکن کیا کیا جائے کہ انتظامیہ کی فضیحتوں کی کمی نہیں رہتی ہے تاہم سیاسی جماعتوں میں سیاست بازی قومی مفادات سے بڑھ کر دیکھنے میں آتی ہے۔ جب سے کرونا کی وباء نے پاکستان کو گھیرا ہے تب سے قومی حلقوں سے ایک ہی آواز اُٹھ رہی ہے کہ ایک قوم بن کر اس بلا کا مقابلہ کرنا چاہئے، مزے کی بات یہ ہے کہ جو عناصر سیاسی مفادات کو ترجیح دئیے ہوئے ہیں وہ بھی یہ نعرہ لگاتے ہوئے حیا نہیں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قائد حزب اختلاف پر الزا م جڑا تھا کہ وہ ایسے موقع پر قومی یکجہتی سے کام لینے کی بجائے پارٹی بازی کر رہے ہیں جبکہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی یہ ہی الزام دہرا رہے ہیں، مطلب یہ ہے کہ چند ایک کے استثنیٰ کے سبھی ایک ہی طرح تُتلا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں قومی یکجہتی کیلئے بھاری ذمہ داری حکمران جماعت کو اُٹھانی پڑتی ہے۔ ہوا یہ کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی کانفرنس میں عمران خان اپنی بات کرکے اُٹھ گئے اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کی بات سننے کیلئے نہیں جمے رہے، جس پر حزب اختلاف کے رہنما خاص طور پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو بپھرے اور وہ بھی کچھ بولے بغیر احتجاجاً اُٹھ گئے۔ بندش فعالیت اور اس سے پیدا مشکلات کے ازالہ کیلئے وزیراعظم نے کئی اعلانات کر رکھے ہیں، اس میں اپنی جماعت کے ورکروں پر مشتمل ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے جو تقریباً تشکیل پاگئی ہے، اس سلسلے میں سابق بلدیاتی کونسلروں سے افرادی قوت حاصل کی جا رہی ہے جو زیادہ تر پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں، ان میں سے زیادہ تر ورکر اسی طرح پاکیزہ ہیں جس طرح جہانگیر ترین اور زلفی کے بارے میں رائے عامہ پائی جاتی ہے۔ بہرحال ان ورکروں کو عمران خان نے ٹائیگر کا نام دیا ہے مگر سیاست میں یہ ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر بات سیاست میں گھسیٹ لی جاتی ہے اور ہر بات کا فضیحتہ بنا لیا جاتا ہے۔ اب حزب اختلاف کو لفظ ٹائیگر پر بھی بڑا اعتراض ہے، اس بارے میں طرح طرح کی چوں چوں ہو رہی ہے۔ عمران خان نے کرونا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان حال دیہاڑی داروں کیلئے ریلیف پروگرام کا اعلان کیا اور اس کام کو انجام دینے کیلئے ”ٹائیگر فورس” بنائی، ایک نجی ٹی وی کے اینکر پرسن اور صحافی نے وزیراعظم عمران خان کے ماضی میں کئے گئے ایک انٹرویو کا چھوٹا سا کلپ ٹویٹر پر شیئر کیا ہے جس کیساتھ انہوں نے عنوان بھی درج کیا ہے تاہم اس کے بعد سے ٹویٹر پر طوفان سا برپا ہے جبکہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ”میرے پاس موتی اور اس کیساتھ چار اور کتے بھی ہیں، یہاں پر اینکر پرسن ان سے کتوں کے نام بتانے کا کہتے ہیں، عمران خان نے نام بتاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ”بھالو، ٹائیگر، شیرو اور شیبا ہیں” اس ویڈیو میں انہوں نے اپنے ایک کتے کا نام ”ٹائیگر” بتایا ہے جسے لیکر اس وقت سوشل میڈیا پر ہنگامہ سا برپا ہے اور اینکر پرسن کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کچھ صارفین تو انہیں ایسے ایسے القابات سے نواز رہے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی مناسب نہیں۔ اسی طرح ایک اور صاحب کی بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ وہ ماضی میں پنجاب کے کسی علاقے میں پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں ان کا بتانا تھا کہ ایک مرتبہ وہ زمان پارک لاہور میں واقعہ عمران خان کی رہائش گاہ پر گئے تو ان پر ایک خوفناک قسم کے کتے نے حملہ کر کے ان کو زخمی کردیا جس پر خان صاحب نے غصے سے ٹائیگر کہا تو وہ حملہ آور کتا دبک کر بیٹھ گیا۔ اگر خان صاحب کو ٹائیگر نام پسند ہے تو اس میں ایسی کونسی بات ہے جس کا انسلاک کیا جا رہا ہے، قومی یکجہتی مقدم ہے کیونکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت2020 میں دباؤ میں رہے گی اور رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 206فیصد رہے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔