حکومت ڈیلیور نہیں کررہی سب کو پیسے کی پڑی ہے- چیف جسٹس گلزار احمد

اسلام آباد  : سپریم کورٹ آف پاکستان چیف جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتان، چمن اور طورخم بارڈر پر دو ہفتوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا حکم دیدیا جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ کیسی ہیلتھ ایمرجنسی ہے کہ ملک بھر کے ہسپتال بند کر دئیے، شوگر اور امراضِ قلب کے مریض کہاں جائیں؟کورونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے؟ کوئی حکومت ڈیلیور نہیں کررہی، سب کو پیسے کی پڑی ہے –

سپریم کورٹ میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی کا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے حکومت کورونا سے کیسے نمٹ رہی ہے، صرف میٹنگ میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اسلام آباد میں کوئی ایسا اسپتال نہیں جہاں میں جا سکوں، تمام اسپتالوں کی او پی ڈیز بند کردی گئی ہیں، ملک میں صرف کورونا کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے، مجھے اپنی اہلیہ کو چیک کرانے کیلئے ایک بہت بڑا اسپتال کھلوانا پڑا، نجی کلینکس اوراسپتال بھی بند پڑے ہیں، یہ ملک میں کس طرح کی میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی ہے، ہر اسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہیے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزارت ہیلتھ نے خط لکھا کہ سپریم کورٹ کی ڈسپنسری بند کی جائے، کیوں بھائی یہ ڈسپنسری کیوں بند کی جائے، کیا اس طرح سے اس وبا سے نمٹا جارہا ہے، وفاق کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وفاق تو کچھ کرہی نہیں رہا، آپ نے جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ اس بات کو واضح کررہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی کیا اہلیت، قابلیت ہے، بس روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر ظفر مرزا کی پروجیکشن ہو رہی ہے، کیا وزارت دفاع سے کوئی عدالت آ یا ہے، وزارت دفاع سے معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے وزارت دفاع سے کسی کو طلب نہیں کیا تھا۔