شطرنج کی بساط پر سانس لیتی زندگی

غالب نے زندگی کو عناصر میں ظہور ترتیب کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہی اجزا کا بکھر کر پریشان ہو جانا موت ہے، زندگی پل صراط کا سفر ہے تلوار کی تیز دھار پر چلنے کا نام ہے، آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری میں سانس بھی آہستہ سے لینے کی تلقین کی گئی ہے، دنیا کی ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے، موت نہ ہوتی تو زندگی کا تصور مفقود ہوتا! تاریکی نے روشنی کے وجود کو اثبات بخشا ہے، بے سکونی اور اذیت کا تعارف سکون کے بغیر ناممکن ہے، زندگی تو سب کی گزر ہی جاتی ہے لیکن اچھے انداز سے کامیاب زندگی گزارنا مسلسل ریاضت کا متقاضی ہے۔ حضرت انسان کی رہنمائی کیلئے پیمبر آتے رہے پھر ان کے بعد مصلح اور رہنما بھی، ان سب کا مقصدحیات زندگی کی اُلجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانا تھا اسے خوبصورت بنانا تھا، آسمانی صحائف سے شروع ہونے والا یہ سفر آج تک ایک تواتر کیساتھ جاری ہے، اس پر لاکھوں کروڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں مگر زندگی کی بوقلمونیاں ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ تو بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ اس کہانی کے معنی طے نہیں ہونے پا رہے، شاید یہی اس کی خوبصورتی ہے زندگی ارتقاء پذیر ہے، یہ مسلسل چولے بدلتی رہتی ہے دنیا کے بہترین دماغ اسے کھوجتے رہے اس کا راز پانے کی کوشش میں عمریں گزار دیں لیکن اس کے اسرار آج بھی اسرار ہیں، اس کے رازوں کو سمجھنا آج بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا کل تھا البتہ اسے اچھے انداز سے گزارے جانے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔
زندگی کو تھوڑی دیر کیلئے شطرنج کی بساط پر ڈال کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس قدیم کھیل کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ دوسرے کھیلوں کی طرح ارتقاء پذیر رہا ہے اس کے اصول دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا ہماری زندگی کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے، دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اس کے اصول زندگی کے روحانی اور مادی دونوں تقاضے پورے کرتے نظر آتے ہیں، زندگی میں وقت کی اہمیت پر ہمیشہ سے زور دیا جاتا رہا ہے، شطرنج کا پہلا اصول یہ ہے کہ جب کھیل شروع ہوجائے تو ابتدائی چالوں میں ایک مہرے کو دو بار نہیں چلنا تاکہ بغیر وقت ضائع کئے آپ کی ساری فوج میدان کارزار میں اُتاری جاسکے اور دشمن پر کاری ضرب لگا نے کے قابل ہو، آج تک انسانی تاریخ کی بہت سی جنگیں اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے جیتی گئی ہیں۔ ہماری زندگی میں مراقبے، سوچ اور فکر وتدبر کی اہمیت روحانی اور مادی دونوں حوالوں سے بڑی واضح ہے، شطرنج کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ہر چال چلنے سے پہلے خوب سوچ لیا جائے، اپنی چال کے عواقب ونتائج پر خوب غور کر لیا جائے اور یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ دشمن کے پاس اس چال کا توڑ کیا ہے؟ اس کے توڑ کو دیکھ کر پہلے اس کا جواب تلاش کیا جائے اور پھر چال چلی جائے۔ اس عمل میں شاطر آنے والی دس پندرہ چالوں تک پہلے سے سوچ لیا کرتا ہے کیونکہ ایک غلط فیصلہ ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن جایا کرتا ہے۔ یہ تاکید اور ہدایت ہے اس بات کی کہ زندگی سوچ سمجھ کر گزاری جائے، زندگی میں اتفاق واتحاد کی اہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ شطرنج کا تیسرا اصول یہ ہے کہ بساط پر بچھے ہوئے سب مہرے ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہوں، ہر مہرہ دوسرے مہرے کے زور پر ہو، کسی مہرے کو بساط پر شتر بے مہار کی طرح نہ چھوڑا جائے جس طرح ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بھیڑ بھیڑئیے کا شکار بن جایا کرتی ہے، اسی طرح تنہا اور بے زور مہرہ بہت جلد زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ آج کرونا وائرس کے اس شب وروز میں ایک دوسرے کو سہارا دینے کی ضرورت واہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ زندگی کے سفر کو کامیابی سے جاری رکھنے کیلئے ہمت، بہادری وشجاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شطرنج کا چوتھا اصول یہ ہے کہ اس میں سپاہی ہمیشہ آگے ہی بڑھتے ہیں انہیں پیچھے نہیں ہٹنا ہوتا، شطرنج کے پیادے شجاعت کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کرتے ہوئے دشمن کو نیست ونابود کر دیتے ہیں، شطرنج کے دوسرے مہرے گھوڑے، ہاتھی، توپیں اور وزیر انہیں پیچھے سے سہارا دئیے رکھتے ہیں۔ رازداری زندگی کے زریں اصولوں میں سے ایک بہترین اصول ہے شطرنج کا پانچواں اصول رازداری ہے شاطر اسی اصول کی روشنی میں مہرے چلتا ہے وہ جو کہتے ہیں:
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ
اپنا راز پوشیدہ رکھنے والا ہی کامیابی سے ہمکنار ہوا کرتا ہے، زندگی میں چیزوں کی اہمیت ان کے صحیح اور بروقت استعمال کی وجہ سے ہوا کرتی ہے، کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد اگر مکا یاد آئے تو اسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے۔ شطرنج کا چھٹا اصول یہ ہے کہ تمام مہرے اتنی مناسب جگہوں یا پوزیشن پر ہوں جہاں سے ان کو بروقت استعمال کرکے دشمن پر کاری ضرب لگائی جاسکے، اگر میدان جنگ میں آپ کی توپ اپنے ہی مہروں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے تو اس سے کاری ضرب نہیں لگائی جاسکتی یہی مثال دوسرے مہروں کی بھی دی جاسکتی ہے۔ انسانی جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ سپہ سالار کی جنگی مہارت ہی فتوحات کا سبب بنا کرتی ہے، دنیا کے بڑے بڑے سپہ سالار خالد بن ولید جن کا ثانی آج تک پیدا نہیں ہوا، امیر تیمور جس نے ستائیس ممالک فتح کئے، چنگیز خان کی شاندار فتوحات، سکندراعظم اور دوسرے بہت سے فاتحین اس کی روشن مثالیں ہیں۔ شطرنج کا ساتواں اصول شاطر کی مہارت، بہادری، حوصلہ مندی اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا ہے، اگر زندگی کی جنگ میں دماغ کو شاطر یا سپہ سالار مان لیا جائے تو ساری بات واضح ہوجاتی ہے۔