کورونا وائرس اور عوامی اضطراب

اس بات سے بہت کم ہی لوگ اختلاف کریں گے کہ ہم اس وقت اپنی حیات کے سب سے بڑے عالمی بحران سے جوجھ رہے ہیں۔ کورونا وائرس اس وقت دس لاکھ کیسوں کیساتھ دنیا کے ہرکونے میں پھیل چکا ہے۔ اس وبا کے شروع کے دنوں میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ بیان دیا تھا کہ یہ بحران صرف صحت سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ اس سے زندگی کا ہر شعبہ ہی متاثر ہوگا اور اب ہم ان کے اس بیان کو اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ رہے ہیں۔ کرونا کے باعث جنم لینے والی موجودہ صورتحال بھی دیگر عالمی وباؤں کی مانند عوامی بے چینی اور خلفشار کا سبب بن رہی ہے۔ خصوصاً اس سے وہ لوگ زیادہ متاثرہ ہوتے نظر آرہے ہیں جو پہلے سے ہی کسی عارضے یا ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس وباء سے صف اول میں کھڑے ہوکر لڑنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کیساتھ بچوں اور عمر رسیدہ افراد پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عام طور پر ایسے بحرانوں کا ردعمل شدید بے چارگی، خوف اور غصے کی شکل میں نکلنے کی توقع ہوتی ہے۔ لوگ اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کے حوالے سے فکرکرنے لگتے ہیں۔ ممکن ہے اس باعث کچھ لوگوں کو چین کی نیند سونے یا کسی جگہ دھیان مرکوز کرنے میں دقت پیش آتی ہو اور چند افراد پُرہجوم جگہوں پر جانے، میل جول رکھنے اور سفر کرنے سے خوفزدہ ہوں۔ دل اور پیٹ کے مسائل کیساتھ اس صورتحال میں نشہ آور مشروب اور سیگریٹ کے استعمال میں بھی اضافے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ بے سکونی کی ایک بڑی وجہ غیریقینی صورتحال ہوتی ہے اور جب پوری دنیا ہی غیریقینی کا شکا ہو تو ظاہر ہے کہ اس کے بعد تاریکی محسوس ہونا فطری ہوتا ہے۔ زندگی بتانے کے وہ تمام ضابطے جن سے ہم مانوس تھے، اب ہر گھڑی تبدیل ہو رہے ہیں۔ سکول کالجوں کی بندش، معاشی انحطاط، ہوٹلوں، مالز اور پارکوں جیسی تفریحی سرگرمیوں کیلئے مختص جگہوں کی تالہ بندی اور سفر پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔ اب سماجی فاصلہ اختیار کئے رکھنا ہی اصول بن چکا ہے۔ وہ زندگی جس سے ہم خوب مانوس رہتے تھے، اب باقی نہیں رہی۔
لوگوں میں اپنے روزگار کھونے کا ڈر بیٹھ گیا ہے۔ طبی عملے جیسے صف اول کے جنگجو اپنے کام کی نوعیت کے باعث اس سے متاثر ہونے کے خدشے میں قرنطینہ میں جانے کیلئے تیار ہیں جبکہ باقیوں کو اپنے پیاروں کی ممکنہ جدائی اور عدم تحفظ کا خیال چٹ کئے جارہا ہے۔ بے شمار خاندان جو کام یا تعلیم کے سبب مختلف ممالک میںرہتے تھے، وہیں پھنس چکے ہیں۔ ان کے دل اپنوں سے ملنے کیلئے بیتاب ہوئے جاتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ عوام کی جانب سے عام نزلہ زکام کو بھی کرونا کی علامات سمجھ کر غلط فہمی میں مبتلا ہونا بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ جہاں بھی دیکھو، ہر سو ماحول پر ایک خوف کی چادر تنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق اس تمام صورتحال میں گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کھانے پینے کی خشک چیزوں، ہینڈ سیناٹائزر، ماسک اور ٹشو پیپر تک کی ذخیرہ اندوزی کی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں وہ رویہ جو اس سے پہلے معیوب سمجھا جاتا ہے، اب عام رواج بن چکا ہے۔ امریکہ میں بھی سارے معاشرتی نظام کو تہس نہس کر دینے والے معاشی بحران کے خوف سے لوگوں میں پستولیں اور بندوقیں خریدنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جہاں روایتی طبیب اپنے پاس مریضوں کا رش کم ہونے کی اُمید لئے بیٹھے ہیں وہیں ذہنی امراض کے ماہرین ڈاکٹروں کے پاس انزائٹی، ڈپریشن، یاسیت اور بے بسی محسوس کرنے والے لوگوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے۔
بھلا اب ایسی صورتحال سے کس طور نبردآزما ہوا جائے؟ کس طرح ہمیں اپنی ذاتی، معاشرتی اور عالمی سطح پر ذمہ داریو ںکا احساس ہوگا؟ اور کیسے کوئی فرد ان حالات میں ہر طرح کے ڈر وخوف سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سب اپنی جسمانی صحت کیساتھ ساتھ ذہنی صحت کا بھی خوب خیال رکھیں۔مزید برآں بیماری سے متعلق مسلسل خبریںسنتے یا پڑھتے رہنا بھی اضطرب کا سبب بن سکتا ہے اس لئے سوشل میڈیا سمیت خبر کے ان تمام ذرائع سے کچھ وقت کیلئے خود کو دور کر لینا بہتر ہے جو آپ کو اضطراب میں مبتلا کرتے ہیں۔ اپنے ذہن کو منفیت سے بچانے کیلئے مطالعہ، موسیقی، لکھائی یا دوسری شوقیہ سرگرمیاں بھی وقت بتانے کیلئے سودمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں پر عمل کر کے اپنی روح کو تازگی بخشنے کیساتھ ساتھ اپنے رشتوں اور تعلق داروں کی خبرگیری کرتے رہنا بھی یاسیت یا احساس تنہائی سے بچاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ آج جہاں سماجی فاصلہ اختیار کرنا سبھی کی مجبوری بن چکا ہے وہیں یہ گھڑیاں اپنے گھر والوں، پیاروں او ر قریبی لوگوں کیساتھ خوب وقت گزانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اس ہنگامی صورتحال میں جھوٹی خبروں، غلط اعداد وشمار، افواہوں اور سنسنی کا بازار بھی گرم ہوا ہے اور ہر جا اس گمراہ کن مواد کی بہتات پائی جاتی ہے۔ ایسی کسی بھی غیرمستند معلومات کا آگے پھیلانے سے گریز ناگزیر ہے۔ ہمیں اس صورتحال سے نمٹنے کے طریقے وضح کرتے ہوئے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ کچھ چیزیں کسی طور بھی ہمارے اختیار میں نہیں تو ہم حکومتی ہدایات پر عمل پیرا رہنے، مستند معلومات پر ہی یقین کرنے، اپنے پیاروں کیساتھ یادیں سمیٹنے اور اپنے رشتوں کو مزید توجہ اور محبت کیساتھ مستحکم کرنے میں دھیان لگا سکتے ہیں۔ یہی ہمارے ہاتھ میں ہے اور اسی پر ہمیں توجہ دینی چاہئے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)