صرف سوچ کو پڑھ کر الفاظ ٹائپ کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف کر دی گئی

ویب ڈسک: صرف سوچ کو پڑھ کر الفاظ ٹائپ کرنی والی ٹیکنالوجی متعارف کر دی گئی

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے ماہرین نے ابتدائی تجربات میں فکر کو الفاظ اور جملوں میں ڈھالنے کے کامیاب تجربات کئے ہیں

یہ ٹٰیکنالوجی ایک لفظ سنے بغیر صرف سوچ کی سرگوشی کو الفاظ میں ڈھالتی ہے جس پر سائنس فکشن کا گمان ہوتا ہے۔ اس پر کی گئی تحقیقات یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو نے ایک ریسرچ جرنل میں پیش کی ہیں۔ یہاں دماغی سرجن ایڈورڈ چینگ اور ان کے ساتھیوں نے دماغ کے خاص حصے میں ہونے والی ’کورٹیکل سرگرمی‘ کو نوٹ کیا ہے۔ اسے پڑھنے کےلیے دماغ میں خاص الیکٹروڈ لگائے گئے اور اس عمل کو ’الیکٹروکورٹیکوگرام‘ کہا جاتا ہے

اگرچہ بولی گئی گفتگوسے الفاظ لکھنے والے سافٹ ویئر اب عام ہوچکے ہیں لیکن پہلی مرتبہ دماغ کو چکرادینے والی ٹیکنالوجی بنالی گئی ہے جو مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلی جنس) یعنی اے آئی کی بدولت صرف سوچ کو پڑھ کر الفاظ ٹائپ کرتی ہے اور اس کی درستگی کی شرح 97 فیصد نوٹ کی گئی ہے۔

پہلے تجربے میں مرگی کے چار مریضوں کو بیرونی پیوند لگائے گئے جو مرگی کے دورے کو ریکارڈ کرنے کے لیےنصب کئے گئے تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک تجربہ کیا جس میں شرکا کو مختلف نمبربا آواز بلند پکارنے اور دوہرانے کی ہدایت بھی کی۔ اس دوران پوری سرگرمی ریکارڈ ہوتی رہی۔

اب اس ڈیٹا کو نیورل نیٹ ورک میں شامل کرکے آواز کی علامات (سگنیچرز) تلاش کی گئیں جن میں ہونٹوں کی حرکات، حروفِ علت (وووِلز) اور غیرعلت حروف کو جانچا گیا۔  اگلے مرحلے میں عام بولے جانے والے 30 سے 50 جملوں کو نیورل نیٹ ورک میں ڈالا گیا۔ پھر خالص کورٹیکل علامات کو نوٹ کیا گیا اور اگلے مرحلے میں ان کی پیشگوئی کی گئی ۔

مسلسل سیکھنے کے بعد مصنوعی ذہانت کے ذریعے دماغی سگنیچر کی بنا پر سوچ کو ٹیکسٹ میں لکھا گیا اور یوں اس میں غیرمعمولی کامیابی ملی اور صرف 3 فیصد غلطی دیکھی گئی۔ اس طرح یہ نظام سوچ کو 97 فیصد درستگی سے الفاظ میں ڈھالتا ہے۔

لیکن اس نظام نے بعض سوچے گئے جملے اتنے غلط ظاہر کئے جس نے معنی کو بھی بدل دیا ۔ ان جملوں میں ربط ، الفاظ اور آوازوں کی بے ترتیبی تھی۔ مثلا ایک جملہ یہ تھا: ‘she wore warm fleecy woollen overalls’ جسے نیٹ ورک نے تبدیل کرکے کچھ اس طرح کردیا: ‘the oasis was a mirage’۔

اس کے باوجود یہ سوچ کو الفاظ میں ڈھالنے والی ایک عظیم کاوش ہے جو نیچر نیوروسائنس میں شائع ہوئی ہے۔