لاک ڈاؤن کا خاتمہ وتوسیع کا معاملہ

پشاور شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں کے تاجروں کا مزید لاک ڈاؤن برداشت نہ کرنے کا عملی عندیہ اور کاروبار شروع کرنے کے علاوہ صوبہ بھر میں لوگوں کا گھروں میں رہنے سے سراسر گریز اور مختلف طریقوں سے بین الاضلاعی سفر کرنے کے بعد اس امر کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا سرکاری دفاتر کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی معطلی مزید جاری رکھی جائے، اس کی اہمیت وافادیت کیا ہوگی اور نقصانات کی کیا صورت ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر لاک ڈاؤن کی پابندی کی جاتی اور حکومتی اقدامات کی اہمیت وضرورت کا عوام ادراک کر لیتے تو یہ ایک مؤثر صورت تھی اس کی عدم پابندی سے جہاں لاک ڈاؤن کے مقاصد پورے نہیں ہورہے ہیں وہاں عوام حکومت اور کاروباری طبقہ سبھی کیلئے یہ چیلنج بنتا جارہا ہے۔ معلوم نہیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میںکمی کب آتی ہے البتہ ڈاکٹر ظفر مرزا کا اندازہ ہے کہ اس وائرس کا عروج مئی کے وسط وآواخر میں ہوسکتا ہے۔ اس حساب سے مزید ماہ ڈیڑھ ماہ بلکہ کچھ زائد عرصہ لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑے گی، جس کے ہم شاید ہی متحمل ہوسکیں۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وباء سے صنعت وتجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان جیسی کمزور معیشت کیلئے اس کے منفی اثرات اور فوری طور پر درپیش مشکل واضح امر ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وباء نے ساری منصوبہ بندی اور اندازوںکو اُلٹ کر رکھ دیا ہے، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال فروری کے مقابلے مارچ میں برآمدات میں سولہ فیصد کمی آئی، یہ کورونا وائرس کی وباء کے پیشگی اثرات تھے چونکہ اب یہ وباء پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اس لئے اس کے تجارتی نقصانات کے خطرناک حد تک جانے کا خدشہ ہے۔ بناء بریں حکومت کو جہاں تک ہو سکے برآمدی صنعت کے تحفظ کیساتھ ساتھ تجارتی وکاروباری پہیہ کو رواں رکھنے کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ ممکنہ حفاظتی اقدامات کیساتھ اب معمول کی طرف لوٹ آنے کی منصوبہ بندی ہونی چاہئے۔ بلاشبہ یہ ایک مشکل امتحان ہے اس سے نمٹنے کیلئے انتہائی احتیاط اور بردباری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ لاک ڈاؤن کا خاتمہ وباء کے پھیلاؤ میں اضافے کا مؤجب بن سکتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کہ غیرمعینہ مدت تک لاک ڈاأن بھی نہیں رکھا جا سکتا، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس امر کو یقینی بنانے پر توجہ دے کہ مشتبہ کیسز کے ٹیسٹ جلد سے جلد کئے جائیں تاکہ جتنا جلد ہوسکے مشتبہ افراد کو علیحدہ کیا جا سکے اور دیگر افراد کم سے کم متاثر ہوں۔ جراثیم کش ادویات کے سپرے والے دروازوں کے جگہ جگہ انتظامات اور ٹرانسپورٹ کو اس انتظام سے گزار کر چلانے پر بھی غور ہونا چاہئے۔
رمضان المبارک کیلئے خصوصی تیاریوں کی ضرورت
پنجاب میں شب برأت اور نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے بلکہ اس ضمن میں سیکرٹری اوقاف نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو مراسلہ بھی بھجوایا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی اوقاف کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال یہی رہی تو حکومت کو صورتحال کے تناظر میں مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں اور ان فیصلوں کو عوام کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت اور مزاحمت کا بھی سامنا ہونا بعید نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ جو بھی صورت ہو حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑیں گے، اس ضمن میں مزید مشکل کا حکومت کو اس وقت سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی، کاروبار حیات کی جزوی بحالی کی صورت میں ہی یہ سوال ضرور اُٹھے گا کہ کیا صرف مساجد میں نماز پر پابندی ہی وہ اقدام رہ گیا ہے جسے حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کیلئے ضروری سمجھتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر علمائے کرام سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ نمازیوں کی تعداد میں تحدید پر اسلامی نظریاتی کونسل پہلے ہی رائے دے چکی ہے۔ مختلف اسلامی ممالک میں مساجد میں نماز باجماعت کو محدود کرنے اور لوگوں کو گھروں میں ہی باجماعت نماز ادائیگی کے حوالے سے نہ صرف احکامات دیئے گئے ہیں بلکہ اس کے طریقۂ کار اور اجر وثواب کے حوالے سے بھی لوگوں کو آگاہی وشعور دیکر ان کو ذہنی طور پر بھی قائل کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ بہرحال خوش آئند امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں بھی صورتحال کے تناظر میں علمائے کرام کی مشاورت سے وفاق اور صوبوں کی سطح پر بعض فیصلے سامنے آچکے ہیں اور ان پر عمل بھی ہورہا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حکومت کو ملک بھر کے مختلف مسالک کے علمائے کرام کے درمیان روابط استوار کرنے کیساتھ ساتھ ایک ایسا مشترکہ اور متفقہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی سعی کرنی چاہئے جس میں اہم فیصلے کر کے اختلافات اور تضادات کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ حکومت کو صورتحال کے پیش نظر اور رمضان المبارک کی مناسبت سے موزوں فیصلوں کیساتھ ساتھ اس پر مفاہمانہ طور پر عمل درآمد کرانے کی مساعی کرنی چاہئے تاکہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ان فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہو اور انتشار کی کیفیت پیدا نہ ہو۔