لگے ہیں پہرے

آج7اپریل کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور ساری دنیا ‘ہائے کرونا وائے کرونا’ کرتی نہ صرف بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کر رہی ہے بلکہ تعلیمات دین اسلام کے ‘الطہارت نصف الایمان” کے سچ کا اقرار باللسان وتصدیق بالقلب کرتے نہیں تھک رہی۔ صحت کے حوالہ سے ہم اپنے بڑے بزرگوں ہی سے نہیں بلکہ اپنے زندگی بھر کے تجربات کی بنیاد پر یہ بات سنتے اور سمجھتے آئے ہیں کہ
باقی جہاں رہے گا، ہوگی جو جان باقی
اللہ نہ کرے اگر کسی وجہ سے ہمارے جسم وجان میں کوئی نقص پیدا ہوجائے یا اس کی کارکردگی میں کمی بیشی آنے لگے تو جہاں بھر کی ساری خوشیاں ان گنت غموں اور تکلیفوں میں بدل جاتی ہیں۔ کوئی چیز دل کو اچھی نہیں بھاتی۔ ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں یا جان کے لالے پڑجاتے ہیں، اگر ہمارے چہارسو فصل بہاراں ہو یا برپا کوئی محفل یاراں ہو ان کے سارے منظر سارے ہنگامے ہیچ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ دنیا سونی سونی لگنے لگتی ہے، ہر سو بیزاری مایوسی بوریت یا اکتاہٹ پہرے دینے لگتی ہے جبکہ اس کے برعکس اگر آپ کا دل مطمئن ہو آپ کے دل کی دھڑکن استوار ہو اور آپ صحت وتندرستی کی زندگی گزار رہے ہوں تو آپ کو ہر چیز صحت مند، صحت افزاء اور خوش وخرم دکھائی د ینے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں فصل خزاں بھی فصل بہار کے رنگ روپ اور خوشبو اوڑھ لیتی ہے۔
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
دل کی فضا صرف اور صرف اس وقت پر بہار محسوس ہوتی ہے جب صرف دل ہی نہیں سارا وجود صحت مند اور تندرست ہو۔
تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
اور اس نعمت کی قدر وقیمت وہی لوگ جانتے ہیں جو نصیب دشمناں کسی نہ کسی وجہ سے صحت وتندرستی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں۔ آپ نے کسی اندھے محتاج کی وہ فریاد یا پکار تو ضرور سن رکھی ہوگی جس میں وہ آنکھوں والوں سے مخاطب ہوکر کہتا رہتا ہے کہ آنکھوں والو! آنکھیں بہت بڑی نعمت ہیں۔ آپ نے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کا محاورہ یا ضرب المثل بھی سن رکھی ہوگی جس کے جو معنی لئے جائیں یا جتنے معنی بیان کئے جائیں۔ یہ ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ ہمارے اردگرد پھیلے رنگ ونور کے سارے نظارے جنہیں ہم دیکھ کر بے اختیار سبحان تیری قدرت کا ورد کرنے لگتے ہیں آنکھوں ہی کے سبب ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ آپ لمحہ بھر کیلئے اپنی آنکھیں بند کر دیں آپ کو جو کچھ نظر آرہا ہے وہ آنکھوں کو بند کرتے ہی گھپ اندھیروں میں روپوش ہوجاتے ہیں۔ ساری دنیا تاریک ہوجاتی ہے صرف آنکھیں بند کرنے سے، بات صرف آنکھوں کے نور یا ان کی بینائی سے شروع ہوکر آنکھوں کے بند ہونے پر ختم نہیں ہوتی ہمارے وجود کا ہر ہر عنصر یا عضو اپنی جگہ مسلمہ اہمیت کا مالک ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ پاؤں ناک کان سلامت ہیں اور ان کی کارکردگی میں کسی قسم کا سقم یا نقص واقع نہیں ہوا تو آپ رب تعالی کا شکر ادا کریں کہ کم ازکم آپ اپنے وجود کے ان عناصر کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک یا صحت مند ہیں لیکن آپ کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ سدا بادشاہی اللہ تعالی کی ہے بچپن لڑکپن جوانی کے بعد ادھیڑ عمری اور پیرانہ سالی بھی زندگی کا حصہ ہیں۔ صحت اور تندرستی کے حوالہ سے عہدجوانی کو زندگی کے سنہرے اور بہترین ماہ وسال سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر نوجوان تندرست اور توانا بھی ہو۔ ہم نے ایسے بہت سے جواں دیکھے ہیں جن کو عہد جوانی ہی میں مختلف النوع بیماریوں نے آن گھیرا اور یوں ان کی زندگی زندگی نہ رہی بلکہ ان کے علاوہ ان کے چاہنے والوں کیلئے بھی اجیرن بن کر رہ گئی۔ اچھی صحت کیلئے اچھا اور صحت مند ماحول اور اس ماحول میں صحت وتندرستی کیلئے متوازن غذا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہنسنا، کھیلنا، کودنا، ورزش کرنا اور اکتاہٹ وبوریت کو دور کرنے کیلئے تفریحی مقامات کی سیر یاتفریحی مواقع کی موجودگی بھی بہت ضروری ہے اور اگر اللہ نہ کرے صحت وتندرستی کیلئے ان تمام ضروری عوامل کے باوجود بھی بیماری سستی کسی کے گلے پڑ جائے تو اس کی صحت بحال کرنے کیلئے مراکز صحت ہسپتال یا مطب خانوں کی ضرورت صحت کو قائم رکھنے کا جزو لاینفک ثابت ہوتی ہے لیکن آج کے دن ہم انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے ان بیکٹریاز، جرثوموں اور وائرس پر بات کئے بناء نہیں رہ سکتے جن کے تباہ کن اثرات نے پورے گلوبل ویلج کے رہائشیوں کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے، جی ہاں میری مراد ملیریا اور ڈینگی کے بعد کرونا جیسی وباء ہے جو عہد حاضر میں پوری انسانیت کیلئے ایک ایسا عذاب بن کر اُتری ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے کا پورا نظام زیست تلپٹ ہوگیا ہے، جسمانی، ذہنی اور روحانی بیماریاں بیماریوں کی عام قسمیں ہیں، جسمانی بیماریوں کا علاج دارو درمل سے ممکن ہو تو ذہنی اور روحانی بیماریوں میں سے ”میں” نامی بیماری ایسی ہے جس کا علاج اتنا آسان نہیں، تاوقت یہ کہ آسمان سے ‘کرونا جیسی کوئی بیماری قہرخداوندی بن کر اُتر نہ آئے’ کہتے ہیں تادم تحریر کرونا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا، سوائے باوضو رہنے اور چلہ کمانے والے صوفیائے عظام کی طرح کسی گوشہ تنہائی میں نماز پنجگانہ ادا کرتے ہوئے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنے کے
کہ مسجدوں معبدوں میں اب کے
منع ہے جانا لگے ہیں پہرے