نفرت کا آتش فشاں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر سبرامنین سوامی کی طرف سے وائس ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو کا ایک مخصوص حصہ میڈیا میں گردش میں ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ جس ملک میں مسلمان آبادی کا تناسب تیس فیصد سے تجاوز کرجاتا ہے وہ ملک خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا آئین مسلمانوں کو برابری کے حقوق نہیں دیتا کیونکہ کوئی بھی قانون مساوی حقوق صرف مساوی لوگوں کو دیتا ہے، سب لوگ برابر نہیںہوتے۔ سبرامنین نے اپنے اس مؤقف کو نفرت انگیز ماننے سے صاف انکار کیا۔ سبرامنین سوامی کے اس بیان کا مفہوم یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان برابر نہیں بلکہ ہندو مسلمانوں سے برتر ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہندو سماج میں سب ہندو بھی برابر نہیں کیونکہ ہندو مذہب کی کلید ہی ذات پات اور چھوت چھات کے نظام اور تعلیمات ہیں۔ ڈاکٹر سبرامنین سوامی کی بات ہندومت کی تعلیمات کے مطابق درست ہے۔ ہندومت کی بنیاد ہی برہمن، شودر، کھشتری اور ویش ذاتوں کی تقسیم پر ہے۔ اس تقسیم میں صرف برہمن ہی خدا کے فرستادہ برتر اور بالا ہیں، اعلیٰ نسب ہونے کی وجہ سے انہی کو حکومت اور حاکمیت زیبا ہے۔ اس تقسیم میںشودر تو انسانوں کا وہ کمتر درجہ ہے جس میں انسانیت کی تذلیل اور تحقیر کے سوا کچھ بھی نہیں یہ طبقہ اچھوت بھی کہلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان تاجروں، صوفیا اور مبلغین نے ہندوستان کے خانوں میں بٹے ہوئے انسانوں کے سامنے انسانی مساوات اور برابری کا تصور پیش کیا تو عزت وتکریم کے پیاسے ہندوستانی عوام جوق درجوق اس قافلے میں شامل ہوئے۔ سبرامنین سوامی کا شمار بھارت کے سینئر اور تعلیم یافتہ سیاستدانوں میں ہوتا ہے وہ کئی بار بھارتی ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سبرامنین سوامی ہاروڈ یونیورسٹی کے ڈگری ہولڈر ہیں۔ ان کا سماجی پس منظر اس لحاظ سے ٹھیٹھ ہندووانہ نہیں کہ ہاروڈ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی وہ ایک پارسی طالبہ رخسانہ کپاڈیا کے تیرنظر کا شکار ہوئے۔ دونوں خاندان اس بندھن کے مخالف تھے مگر دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ رخسانہ کپاڈیا کو بہت سے لوگ مسلمان سمجھتے ہیں۔ سبرامینن سوامی کی بیٹی بھارت کی مشہور اینکر اور صحافی سہاسنی حیدر ہیں۔ سہاسنی حیدر نے پانچ اگست کے بعد کشمیر کے حالات پر دی ہندو اخبار میں بہت جاندار رپورٹنگ کی۔ بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون پر بھی انہوں نے بہت سے کالم لکھ کر اس سوچ کا تیا پانچہ کر کے رکھ دیا۔ سہاسنی حیدر کی شادی بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ سلمان حیدر کے بیٹے ندیم حیدر سے ہوئی ہے۔ سہاسنی حیدر خود یہ تسلیم کرچکی ہیں کہ وہ مسلمان ہو چکی ہیں۔ سہاسنی حیدر کا یہ اعلان سبرامنین کی سیاست کیلئے مشکلات کا باعث بھی بنتا ہے۔ ابوظہبی کی حکومت نے جب مودی کو ایوارڈ دیا تو سہاسنی حیدر نے عین الیکشن کے موقع پر مودی کو ایوارڈ دئیے جانے کے فیصلے پر تنقید کی جس پر بھارتی جنتا پارٹی کی ایک لیڈر ان پر مسلمان عورت کی تکلیف کی پھبتی کسی تو سبرامنین سوامی غصے میں آگئے اور اس بات کی تردیدیں کرتے رہے کہ ان کی بیٹی نے اسلام قبول کیا ہے۔ یوں سبرامنین سوامی ایک دلچسپ اور نسبتاً کھلے سماجی کلچر میں جی رہے ہیں۔ وہ برطانیہ کے مشہور تعلیمی ادارے کے تعلیم یافتہ ہیں اور اگر ان کی سوچ میں نفرت اور حقارت کا یہ معیار ہے تو عام ہندو مذہبی تعلیمی اداروں سے علم حاصل کرنے والوں کے ذہنوں میں کیا کچھ ہوگا؟ اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ سبرامنین کی سوچ ماضی میں بھی بھارت میں کمزور نہیں رہی۔ یہ سوچ قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھی اور اسی سوچ نے برطانیہ کے تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل محمد علی جناح کو دوقومی نظریہ پیش کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اب یہی سوچ تر وتازہ ہو کر اس سوچ کو جائز اور صائب ثابت کر رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ سوچ ریاستی اداروں میںکیموفلاج کئے ہوئے رہی مگر کانگریس کے زوال کے بعد یہ ملمع کاری ختم ہو رہی ہے اور بی جے پی اپنے اصل خیالات کیساتھ سامنے آرہی ہے۔ خوفناک بات یہ ہے کہ یہ سوچ اب ریاستی اداروں پر کلی طور پر حاوی ہو چکی ہے اور اسی سے ایک نئی تباہی کے آثار واضح طور دکھائی دے رہے ہیں۔ سبرامنین سوامی کے اس انٹرویو پر وزیراعظم عمران خان نے جائز طور پر ایک ٹویٹ کے ذریعے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اب کھلے بندوں نازی ازم کی زبان بولنے لگے ہیں۔ کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کو اس سوچ سے بچانا ہوگا۔ آج یہی سوچ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کو بلڈوز کرکے ان کا کچومر نکال رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے پہلو میں نفرت کا ایک آتش فشاں جمع ہو رہا ہے۔ اس میں صرف نارنجی لباسوں والے جنونی اور ادتیہ ناتھ جیسے سادھو ٹائپ لوگ ہی شامل نہیں بلکہ سبرامنین جیسے جدید تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔ نفرت کا یہ آتش فشاں اگر کسی روز پھٹ گیا تو شاید پھر اس لاوے سے واقعی اس سے کئی ہٹلر نمودار ہوں۔ دنیا نے بھارت کو پابندیوں اور بین الاقوامی قوانین اور فورمز کے تحت جوابدہی کے عمل سے نہ گزارا تو برصغیر کا مستقبل زیادہ اچھا دکھائی نہیں دیتا۔