ہنگامی حالات اور ہماری قیادت

قیادت دو اقسام کی ہوتی ہے، ایک وہ جو اپنے عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے نفرت، غصے، انتقام یا خوف کا سہارا لیتی ہے اور دوسری وہ جس کی سحرانگیزی اور روشن خیالی لوگوں میں اُمید بیدار کر کے انہیں اپنا ہمنوا بنا لیتی ہے۔ لوگوں میں نفرت اور غصے کے جذبات اُبھارنا اُمید اور یقین کے بیج بونے سے زیادہ آسان ہے۔ ان نفرت کے سوداگروں کو ہمارے جیسے انتخابی نظام میںکامیابی تو مل ہی جاتی ہے مگر اختلافات کی بنیاد پر چلنے والا یہ سیاسی نظم ایسی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتا جس میں پوری قوم کو متحد ویکجاں ہو کر اپنی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر کے مصیبت سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
کرونا وائرس کے اس بحران نے ہمیں انجانی اور غیرمتوقع صورتحال میں دھکیل دیا ہے اور اب دنیا بھر کے سیاسی قائدین چاہے جو بھی کر لیں، ہمیں بہرحال ایک تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا ہی ہوگا۔ ہم اپنے یا اپنے پیاروں کے جانی ومالی نقصان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس میں سبھی کو اپنے حصے کا نقصان اُٹھانا پڑے گا، البتہ وہ قومیں جو اس بحرانی صورتحال میں متحد رہ کر لڑیں گی انہیں اس صورتحال کے ختم ہونے کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں اتنی دقت نہیں آئے گی۔
اب کسی رہنما سے اپنا طرزسیاست ہی یکسر بدل دینے کی توقع رکھنا انصاف نہیں۔ مگر کورونا کے باعث جنم لینے والی صورتحال میں پوری قوم کو اس قدر متحد ویکجان ہونے کی ضرورت ہے جتنی شاید جنگوں کے درمیان بھی نہیں ہوتی۔ جنگوں میں تو ہمارے سامنے ایک بیرونی دشمن موجود ہوتا ہے جس کیخلاف قیادت جذبہ حب الوطنی، ملکی وقار اور قومی آن کو اکسا کر قوم میں قربانی کا جذبہ جگا سکتی ہے مگر ابھی ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے اس میں ہمارا دشمن ظاہر نہیں بلکہ نظر نہ آنے والا ایک جرثومہ ہے جو بلاامتیاز پوری دنیا پر ہی حملہ آور ہو رہا ہے۔ شاید اس میں کسی کو بھی قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا مگر اب جب ہمارے پاس قوم میں جذبہ حب الوطنی یا مٹ جانے کے خوف کے تحت کوئی اکساہٹ یا تحریک پیدا کرنے کا جواز نہیں، تو ایسے میں ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم میں اُمید اور اتحاد ویگانگت پیدا کر سکے۔
ہمارے پاس اس وباء سے نمٹنے کیلئے کوئی سائنسی حل موجود نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس کچھ مؤثر فیصلے کرنے کیلئے درکار معلومات دستیاب ہے سو ایسے میں ہمیں صورتحال میں پیدا ہونے والے مسلسل تغیرات کے مطابق اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر تواتر کیساتھ نظرثانی کرتے رہنا ہوگی اور ایسی محدود معلومات کے دستیاب ہوتے حکمرانوں کے فیصلوں کو غلط سمجھنا بھی ناانصافی ہے کیونکہ ہمارے پاس موجود حقائق تواتر کیساتھ بدلتے جا رہے ہیں۔ البتہ حاکموں کو موجودہ اور دستیاب معلومات اور ممکنہ نتائج کی روشنی میں فوری فیصلے نہ کرنے پر ضرور قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔
اس فیصلہ سازی کیلئے کچھ عوامل ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے تو حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کیلئے الزام تراشی اور گلے شکوے کے طرزعمل کو ترک کرنا ہوگا۔ ابھی وقت کی یہی ضرورت ہے اور ایک دفعہ یہ بیماری نمٹ جائے تو اس کے بعد حساب چکتا کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہوں گے۔ ہم اس وقت تک قوم کو متحد نہیںکر سکتے جب تک ملک کی اعلیٰ قیادت اپنے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانا بند نہ کرے۔ یہ وقت آپسی مقابلہ بازی کی بجائے ایک دوجے کو مضبوط کرنے کا ہے۔ اس بحران سے وفاق یا صوبے اکیلے نبردآزما ہونے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہم سب کو ہی اس آزمائش کا سامنا ہے اور ہمیں ملکر ایک ٹیم کی طرح ہی کام کر کے اس سے نمٹنا ہوگا۔
ہمارے ہاں اس وقت پالیسی سازی میں صحت اور معیشت دونوں کو ہی ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے مگر اس کے برعکس ہمارا بیانیہ یہ ہے کہ ہم لاک ڈاؤن یا معیشت کی بحالی میں سے فی الوقت ایک ہی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہم یا تو وائرس کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں یا پھر معیشت کا پہیہ چلتا رکھ سکتے ہیں۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یا تو ہم وائرس کے خوف کے تحت اس کا پھیلاؤ روکیں یا پھر اپنے بچوں کیلئے روٹی کمانے کیلئے کام کریں جبکہ اس وقت ہمیں اپنی فیصلہ سازی میں دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ہم بالکل معمول کی طرح کاروبار زندگی بحال کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ اس سے لاکھوں افراد کے وائرس سے متاثر ہونے یا ہلاک ہونے کا احتمال ہے مگر ہم دوسری جانب انتہائی اقدام اُٹھاتے ہوئے مکمل تالہ بندی کی طرف بھی نہیں جا سکتے۔ ہم اس عوامی تاثر پر فیصلہ نہیں لے سکتے کہ زیادہ لوگ وائرس سے خوفزدہ ہیں یا بھوک سے۔
ہمیں دونوں چیزوں میں توازن کی راہ ہی اختیار کرنا ہوگی اور اس کیلئے ہمیںشعبہ صحت کے ماہرین، معاشی ماہرین اور انتظامی امور کے ماہرین سے مشاورت کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ان کی آراء اور کیسوں کی بڑھنے کی تعداد کے مطابق میسر وقت میں فیصلہ کرنا ہوگا اور اس بات کا بھی ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا ہوگا کہ ہماری معیشت کتنی مدت تک لاک ڈاؤن برداشت کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں ایک ایسے نظام کو وضح کرنے کی بھی ضرورت ہے جو حقائق کی بنیاد پر پیش گوئی کرنے کے قابل ہو۔
حکومت اس بحران سنے نمٹنے کیلئے پاک فوج کے افسران کی زیرنگرانی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کا قیام عمل میں لائی ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ سنٹر پاکستان کے بہترین اذہان کی رہنمائی کیساتھ مستند اور سائنسی بنیادوں پر اعداد وشمار کیساتھ اصل صورتحال کی تصویرکشی کرے گا اور آئندہ اس کی پیش کردہ سفارشات کی روشنی میں پالیسی اپنائی جائے گی۔ بلاشبہ یہ ہمارے ارباب اختیار کیلئے بھی آزمائش کی گھڑی ہوگی کہ کس طرح وہ ان پالیسیوں اور فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنا کر عوام کا اعتماد جیتتے ہیں۔ اُمید ہے کہ ہم اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کچھ ٹھوس اقداما ت بھی لیں نا کہ ہم صرف دعاؤں پر ہی تکیہ کئے بیٹھے رہیں۔
( بشکریہ: دی نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)