تبدیلی کی سزا۔۔؟

چینی اور گندم بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقات کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سخت کارروائی کے طور پر اس امر پر اکتفا کو مناسب سمجھا کہ کابینہ میںشامل ان تمام افراد کے قلمدان تبدیل کئے جائیں جن پر ملک کو لوٹنے اور ملک کو مصنوعی بحران میں دھکیلنے کے الزامات ہیں۔ بدعنوان عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کے داعی وزیراعظم اس اقدام کو ایسے ظاہر کر رہے ہیںجیساکہ انہوں نے بحران کے ذمہ داروں کیخلاف انتہائی سخت فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی سیاسی جدوجہد کی معراج بد عنوان عناصر کیخلاف عدم برداشت اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے رقم واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کرانے کے وعدے کی مرہون منت رہی ہے۔ عوام نے بجاطور پر اس اُمید میںحق بجانب ہونے کے بعد ہی عمران خان کو کامیابی دلانے کا فیصلہ کیا، تحریک انصاف کے حامیوں کو تو مکمل یقین ہونا فطری امر تھا۔ معتدل مخالفین بھی عمران خان کے وعدوںکو سنجیدہ سمجھتے ہوئے اُمید وبیم کی کیفیت میں رہے۔ لیکن وقت آنے پر عقدہ کھلا کہ ایک سابق ومعتوب وزیراعظم نے بدعنوان عناصر کیخلاف کارروائی آسان نہ ہونے کی صاف گوئی کر کے جس تنقید کا سامنا کیا تھا وہی کھلی حقیقت تھی۔ وزیراعظم کے ماضی کے دعوئوں اور بیانات کی کسوٹی پران کے حالیہ فیصلے کو پرکھا جائے تو قول وفعل کا تضاد ہی دکھائی دے گا۔ گندم اور چینی سیکنڈل کے ذمہ داروں کیخلاف تبدیلی ہی اگر معیار ٹھہرایا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی اس قطار میں آتے ہیں بلکہ وفاق اور وزیراعظم کی جانب سے منع کرنے کے باوجودسبسڈی دینے کی اصل ذمہ داری ہی ان پر عائد ہوتی ہے۔ عثمان بزدار کی تبدیلی کے سیاسی عوامل بہرحال موجود ہیں جبکہ جہانگیر ترین کیخلاف کارروائی اگر سنجیدہ عمل ہے اور25اپریل کو فرانزک رپورٹ کے آنے کے بعد سکینڈل کے جملہ ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سامنے آتی ہے تو سیاسی منظر نامہ اسی طرح نہیں رہ سکے گا۔ بعض سیاسی مبصرین کے ایوان کے اندر سے تبدیلی کا بیج بو دیئے جانے کا بیان بھی بے وزن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کا ہر جگہ مفادات رکھنے والے افراد کو خود اپنے مفاد میں کام کیلئے عہدہ دینا اور ان کو ملنے والی کھلی چھوٹ یا اندھا اعتماد وہ بنیادی غلطی بن کر سامنے آئی ہے کہ اب اس کی تلافی ممکن نہیں یا پھر بہت ہی مشکل ہے۔ اس تلافی کا اب ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہ لوٹی ہوئی رقم بمع جرمانہ وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔ ان افراد کی وجہ سے ملکی خزانے کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بھی ان سے وصول کیا جائے۔ اگر وزیراعظم کے اقدام کا جائزہ لیا جائے تو ایک کرسی سے ہٹا کر دوسری کرسی پر بٹھا کر لیپا پوتی کی ناکام کوشش نظر آتی ہے جو کسی طور بھی قابل قبول امر نہیں۔ وزیراعظم کا اقدام اور نیب کی خاموشی دونوں ہی واضح طور پر صرف نظر کا معاملہ ہے، جہاں تک کمیشن بٹھا نے کی بات ہے اس سے سب سے بڑا فائدہ ملزمان ہی کو ہوتا ہے، بظاہر تو یہ اتمام حجت اور انصاف کے تقاضے پورا کرنے کا عمل نظر آتا ہے، اگر ایسا ہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کا اطلاق بدعنوانیوں کی دیگر تمام مقدمات پر کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس دورانئے میں خدشہ اسی امر کا ہے کہ ملزمان ابہام پیدا کرنا شروع کریں گے اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ معاملات پر گرد پڑنا شروع ہو جائے گی۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی سکینڈل سامنے آتا تو حکمرانوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگتی تھیں، اب صورتحال یہ ہے کہ ڈھٹائی سے صورتحال کا سامنا کیا جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ اظہارندامت ہو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی عملی مثال بننے لگ جاتی ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ سزا یہی دستور بن گئی ہے کہ تبادلہ کر دیا جائے نہ کوئی سزا اور نہ ہی لوٹی ہوئی رقم کی واپسی نہ عہدے کے غلط استعمال پر کوئی تعزیر اسی روش کا اظہار کابینہ میں چہروں کی تبدیلی کی بجائے کرسیوں کے بدلنے کی صورت میں کیا گیا۔ سرکاری ادارے کی رپورٹ پر کارروائی کا معیار اگر یہی ٹھہرے گا تو اس کا عوام کیا تاثر لیں گے اور آمادہ بہ بدعنوانی عناصر کیا عبرت حاصل کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی سطح پر اگر مجرم کو سزا دینے کی روایت پڑ جائے اور بالائی سطح پر یہ مثال قائم ہو جائے تو نہ صرف مجرموں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ ملک سے جرائم کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیراعظم کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ احتساب کے حقیقی عمل کا آغاز اپنی کابینہ سے کریں اور لوٹی ہوئی رقم کی وصولی اپنی ٹیم سے کر کے مثال قائم کریں، لوٹ مار اور بدعنوانی کے ڈانڈے جس جس وزیر اور عہدیدار سے جاکر ملیں ان کیخلاف سخت کارروائی کریں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غلط بلکہ مفادات پر مبنی فیصلے کر نے کے ذمہ داروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے قوم سے بدعنوان عناصر کو ہر قیمت پر کیفرکردار تک پہنچانے کا جو وعدہ کیا تھا قوم اس وعدے کے ایفاء کی منتظر ہے۔