انکوائری رپورٹ سے جڑے سوالات

وزیراعظم عمران خان نے آٹا چینی بحران بارے رپورٹ کے لیک ہونے کی نفی کر کے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ ان کے حکم پر عام کی گئی، انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ آٹا چینی بحران میں جو بھی ملوث ہو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزیراعظم کے ان یقین دہانیوں اور ممکنہ اقدامات میں سنجیدگی اور صرف نظر کرنے کے عمل کا امتحان حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوگا، البتہ اب یہ بات واضح ہو چکا ہے کہ جو بھی ہوا سرکاری اور حکومتی اجازت کیساتھ ہی ہوا، جس کی ذمہ داری حکومت اور حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے، ایسے میں اگر کسی کاروباری شخصیت یا افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو عدالت سے ان کو ریلیف ملنا تقریباً یقینی امر ہوگا۔ چینی برآمد کرنے کا معاملہ سارے عمل کے بعد ہی ہوا تو سزا کس کو دی جائے گی، یہ سوال اپنی جگہ سابق وزیرخوراک پنجاب نے اس امر کا انکشاف کیا ہے کہ پنجاب نے گندم اسد عمر کی ہدایات پر برآمد کی۔ اسد عمر نے وفاقی وزیرخزانہ کی حیثیت سے مخالفت کے باوجود گندم برآمد کرنے کی ہدایت کی تھی سب سے بڑھ کر یہ کہ جب معاملے کی انکوائری ہوئی تو کمیٹی نے کبھی بھی ان کو طلب کرنے کی زحمت نہیں کی، اس سے تحقیقاتی کمیٹی کے مشکوک عمل کا بھی اظہار ہوتا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ کے لیک ہو جانے اور اس سارے عمل میں حکومت کے اندر یا پھر ایسے طاقتور ہاتھوںکی طرف نظر جاتی ہے جو اس سارے عمل میں بظاہر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ میڈیا میں رپورٹ کا افشا معمولی امر نہیں، وزیراعظم کو سرکاری رپورٹ راز میں رکھنے میں ناکامی کا بھی نوٹس لینا چاہئے، یہ امر بھی خاصا تعجب خیز ہے کہ قبل ازیں اور اب بھی رپورٹ کی تیاری کے دوران دھمکیوںکی بازگشت سنائی دیں اب تو خود وزیراعظم نے اس پر برہمی کا اظہار کر کے امرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے ان عناصر کیخلاف تحقیقات اور کارروائی کا حکم نہیں دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سارے عمل کے حوالے سے اور اس سے وابستہ کرداروں اور تحقیقات کے عمل سے لیکر رپورٹ کے غیرسرکاری طور پر قبل ازوقت منظر عام پر آنے اور اس سے پیدا شدہ سیاسی صورتحال اس امر کے متقاضی ہیں کہ اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کر کے مزید کارروائی کی جائے۔
کرغزستان میں پھنسے طالب علموں کی فوری مدد کی جائے
کورونا لاک ڈائون کے باعث کرغزستان میں محصور دس ہزار کے قریب طالب علموں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ اس اصول ونظیر کی روشنی میں حکومت کیلئے ممکن نظر نہیں جو اصول اور قاعدہ چین میں پھنسے طلبہ کے حوالے سے اپنایا گیا تھا۔ ان طلبہ اور ان کے اہل خاندان کی تکلیف اور مشکلات کا احساس فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اصولی طور پر دیگر ممالک کی طرح اپنے شہریوںکو چین سے نکالنے کی بروقت سعی کر لینی چاہئے تھی جس میںنا کامی کو بعد میں حکمت عملی کانام دیا گیا حالانکہ یہی اصول ایران سے زائرین کی واپسی میں نہیں اپنایا گیا، اس طرح سے حکومت نے دوہرا کردار اپناکر دوہری نظیر بھی قائم کی۔ ایک نظیر کی رو سے کرغزستان سمیت دیگر ممالک سے اپنے شہریوں کی واپسی نہیں ہونی چاہئے دوسرے کے مطابق ایسا ہونا چاہئے بہرحال اس بحث سے قطع نظر اس وقت حکومت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ پاکستان کے سفارتخانے کو ان طالب علموں کی ہر قسم کی مددکی ہدایت کی جائے اور ان کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے وزارت خارجہ کی سطح پر اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ اگر پھنسے ہوئے طالب علم وطن واپس نہ بھی آسکیں تو کم از کم وہ زیادہ مشکل سے دوچار نہ ہوں اور ان کے خاندانوں کو کم از کم اس امر کا تو اطمینان ہو کہ ان کے چشم وچراغ بے یارومددگار نہیں۔