کورونا وائرس پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ ،برآمد کنندگان کو 100ارب کا ریلیف دیا گیا ، ایس ایم ای اور زرعی شعبے کیلئے بھی 100ارب کا ریلیف دیا جارہا ہے،ایمرجنسی رسپانس کیلئے بھی فنڈز مختص کئے گئےہیں ، کورونا سے پہلے معیشت بہتر اور ذخائر میں اضافہ ہورہا تھا، فروری میں مہنگائی میں کمی،،جبکہ برآمدات میں3فیصد اضافہ ہوا، درآمدات 18فیصد کم ہوگئیں،روپیہ مستحکم اوربجٹ خسارہ 2اعشاریہ 3فیصد کم ہوا ، کورونا کے بعد پاکستانی معیشت پر بھی اثرات پڑے ، عالمی سطح پر مینی فکچرنگ اور ائر ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوئیں

ان کا مزید کہنا تھاکہ وسط فروری سے اب تک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 21فیصد کمی ہوچکی ، سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو 1عشاریہ 4ارب کم ہوا ، روپے کی قدر میں 3فیصد کمی واقع ہوگئی ہے
2021میں جی ڈی پی کی شرح نمو کم رہے گی، کورونا کی وجہ سے برآمدات اور ترسیلات زرمیں بھی کمی ہوئی ، حکومت نے موجودہ حالات میں 1240ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا ،تعمیراتی صنعت کیلئے بھی پیکج کا اعلان کیا جاچکا ہے، این ڈی ایم اے کو ڈیڑھ ارب روپے دے چکے ہیں، 100ارب روپے کا انرجی فنڈبنایا گیا ہے ،صحت اور کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ، ڈیلی ویجزورکرزکو 200ارب دیئے جارہے ہیں، پٹرول پر70ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے بلوں کی وصولی موخر کردی ، یوٹیلیٹی سٹورز کو 25ارب روپے جاری کرچکے ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت حماد اظہر نے اجلاس کو بتایا کہ سپلائی لائن کو بحال رکھنا ہماری ترجیح ہے۔عالمی اداروں نے انڈسٹری کو کھولنے سے متعلق رپورٹ دی ہے۔ ضروری اشیاء کے لیے سپلائی لائن کھول دی جائے گی۔ گندم کی کٹائی کے لیے ہر طرح کی انڈسٹری کھول رہے ہیں۔ کم رسک والے انڈسٹری کھول رہے ہیں۔ کمیٹی بھی اپنی تجویز دے کہ ہمیں جن سے رسک کم ہو۔ کورونا سے بڑا کرائسس ہے اکنامک کرائسس