مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے

شہروں میں رہنے والوں کا ایک مسئلہ ہے، ہماری دنیا اتنے بڑے بڑے شہروں میں رہنے کے باوجود بھی بڑی مختصر سی ہوتی ہے۔
گاؤں دیہات والے کھیتی باڑی نہ بھی کریں تو کم ازکم کھیتوں میں کھیلے ضرور ہوتے ہیں۔ پیسے والے دیہاتیوں کی اپنی زمینیں ہیں جہاں ان کے رکھے ہوئے ملازم زمین کا خیال رکھتے ہیں، فصلیں اُگاتے ہیں اور اناج پھل وغیرہ مالک کو دے دیتے ہیں۔ مجھ سمیت شہر والوں کی اکثریت کھیت کھلیانوں میں پکنک منانے زندگی میں کبھی ایک یا دو بار چلے جاتی ہے جہاں کچی پکی نہریں، ٹیوب ویل، گندم گنے کے ڈھیر اچھے لگتے ہیں۔ ہمیں دیہاتوں میں کھڑی فصل کی ہریالی نظر آتی ہے مگر کھیت کی مٹی میں لتھڑے کسان کے خالی ہاتھوں تک ہماری نظر شاید کبھی نہیں جاتی۔
شہریوں کو کم کم ہی علم ہوتا ہے کہ کونسا موسم فصل بونے کا ہے وہ کب پکے گی اور کب کاٹی جائے گی۔ کسان اپنی تیار فصل کہاں لے جاتے ہیں، ان کا استحصال کون کرتا ہے، جاگیردار حکومت سے فائدے کیسے اُٹھاتے ہیں اور فصل نکالنے یا اسے روکے رہنے کا فیصلہ کب بلیک میلنگ بن جاتا ہے۔ شہریوں کو ایسی خشک معلومات سے دلچسپی نہیں ہوتی۔
ہاں دلچسپی ہے اور وہ اس سوال میں ہے کہ مہنگائی ہوئی تو کیوں ہوئی اور کس نے کی؟ شہری جاننا چاہتے ہیں کہ کون رنگ باز سیاسی بال یہاں وہاں اچھال کر ان کی جیبوں سے سخت محنت کا پیسہ نکال کر لے گیا۔
عمران خان کے بعد تحریک انصاف کا اگر کوئی چہرہ ہے تو وہ اپنے پرائیوٹ ہوائی جہاز میں بیٹھے جہانگیر ترین کا ہے۔ بہت سے طاقتوروں کی طرح تحریک انصاف کی کچھ ڈوریں ترین صاحب کے ہاتھ میں ہیں جبکہ ملکی زراعت کے معاملات کا ایک بڑا حصہ عرصے سے ان کی مٹھی میں ہے۔
آٹا چینی مہنگے ہوئے، عمران خان نے کہا منافع خور آٹا اور شوگر ملز مافیا کو چھوڑوں گا نہیں۔ ہم اسی اطمینان میں تھے کہ تحقیقاتی رپورٹ لیک ہوگئی جو کہتی ہے کہ اس آٹا چینی کی مہنگائی کے پیچھے جہانگیر ترین، سابق وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی خسرو بختیار اور دیگر کے نام نامی آتے ہیں۔
خسرو بختیار تو فی الحال تیل دیکھ رہے ہیں تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ پر جہانگیر ترین چپکے بیٹھنے کو تیار نہیں، کہتے ہیں یہ رپورٹ سازش اور اعظم خان کی شرارت ہے جو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں مگر وزرا سے زیادہ زور بازو رکھتے ہیں۔
بخدا کئی بار آٹے چینی کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے مختلف خبروں کو پڑھا، سبسڈی کے لفڑے کو سمجھنے کی کوشش کی، چینی کی درآمد برآمد کے جلیبی جیسے معاملے کو ٹھونک بجا کر دیکھا۔ سمجھ تو کچھ خاص نہیں آیا پر یہ پتا چل گیا کہ سب گول مال ہے۔
اب حکومت بھی معاشی معاملات میں عوام کی کم علمی کے مزے لے رہی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام کی اکثریت کو یہ گنجلک معاملہ سمجھنے میں وقت لگے گا اس لئے آٹے چینی کی بحران میں گھری رپورٹ پر کبھی آپا فردوس عاشق اعوان کی لن ترانی سنا دی جاتی ہے۔ کبھی وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن وہ سچ سچ بتا دیتے ہیں جسے خود وزیراعظم ہاؤس بھی سچ ماننے کو تیار نہیں اور کبھی شہباز گِل ٹویٹ لکھ کر کرپشن کی اس کہانی کو مزید اُلجھا دیتے ہیں۔
دو دن تک تو انہوں نے ہمیں اسی مدعے پر اُلجھائے رکھا کہ رپورٹ لیک ہوئی، پھر کہا وزیراعظم نے جاری کی، پھر کہا ابھی فرانزک آنا باقی ہے، اگر باقی ہی تھا تو وزیراعظم ٹویٹ میں بیان نہ داغتے۔
انہیں مولا ہی سمجھے جو کہتے ہیں دامن میں چھید کی صورت جہانگیر ترین ہیں یا خسرو بختیار، اوپر والا ہی پوچھے کہ معاشی پالیسی بنانے میں عمران خان کی ٹیم رزاق داؤد، اسد عمر، حفیظ شیخ، حماد اظہر کیا کیا کرتے رہے۔ اللہ ہی جانے یہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کتنے شرارتی ہیں۔
ہوا کرے کوئی اعظم اور ہوا کرے کوئی وزیراعظم، عوام عمران خان کو جانتے ہیں بس۔ عوام اس عمران خان کو جانتے ہیں جس کا دعویٰ تھا کہ وہ خود کرپٹ نہیں اور وعدہ تھا کہ وہ کرپٹ ٹولہ نہیں لائے گا۔
عوام نہیں جاننا چاہتی کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی میں خان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی کیا کرتا رہا، عوام کو اس بات سے بھی دلچسپی نہیں کہ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں آٹے چینی سے متعلق کس نے جھوٹ کہا کس نے سچ۔
ملکی زراعت، زر اور زمین پر جاگیردار سیاسی مافیا کا قبضہ کوئی آج سے نہیں۔ زرداری، شریف، ترین، خواجے، شاہ، مخدوم، سید، غیر سید اس بہتی گنگا میں سب رج کے نہائے۔ عوام کو اب کی بار اس مافیا کا گرداب ٹوٹنے کی اُمید تھی، مافیا تو جوں کا توں ہے ہاں ایک اُمید تھی سو وہ ٹوٹ گئی۔
عوام جاننا چاہتی ہے کہ جب پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی لُٹ رہی تھی اس وقت عمران خان کہاں تھے؟ سبسڈی کے فیصلے دیتے ہوئے خان صاحب کی کپتانی کیا ہوئی؟ عوام پوچھ رہے ہیں کہ جس جاگیردارانہ نظام کیخلاف خان صاحب بولتے نہیں تھکتے تھے اس مافیا کے آگے بولتی کیونکر بند ہوئی۔
ویسے تو لوگ اب خان صاحب کے روز روز کے لیکچرز سے تنگ آگئے ہیں پر یاد کریں وزیراعظم کا حلف اُٹھانے کے بعد عمران خان نے اپنے اولین خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کا خزانہ ان کے پاس پاکستانی عوام کی امانت ہے جس کی ایک ایک پائی کی حفاظت وہ خود کریں گے۔
خان صاحب! پاکستانیوں نے اپنی خون پسینے کی کمائی آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی۔ ذرا خبر لیجئے کہ آپ کے زیرسایہ آپ کی ٹیم آپ کی مرضی منشا کیساتھ امانت میں خیانت کرگئی۔ اس سے پہلے کہ خیانت کا سوال آپ کے دامن تک پہنچے خائن وزرا وسیاسی اشرافیہ کا حساب کتاب بے باک کریں۔
بشکریہ: انڈی پینڈنٹ