چینی سکینڈل ایک قابل توجہ نکتہ

چینی سیکنڈل کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں پچھلے5سالوں سے دی گئی شوگر ملوں کو سبسڈی کے معاملہ پر پچھلے چند دنوں سے خوب سیاست ہورہی ہے مگر جس بنیادی سوال کو رپورٹ اورپھر اس حوالے سے جاری بحث میں بھی نظرانداز کیا گیا وہ یہ ہے کہ پچھلے ایک سال میں چینی کی قیمت بڑھنے سے شوگر مل مالکان نے مجموعی طور پر93ارب روپے کا جو اضافی منافع کمایا وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں تھا؟ بدقسمتی سے اس زبردستی کے منافع بارے یہ کہا گیا کہ چینی کی قیمت بڑھنے سے کاشتکار کو فائدہ ہوا، یہ دعویٰ کرنے والے اس امر کو یکسر نظرانداز کر گئے کہ پچھلے سیزن میں گنے کی فی من مقرر حکومتی قیمت 180روپے بھی کسانوں کو درست طور پر نہیں مل پائی تھی بلکہ گزشتہ ستر سالوں جیسی صورتحال تھی۔ بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ شوگر مل مالکان نے قیمتیں بڑھا کر 93ارب روپے بھی جیبوں میں ڈال لئے اور سبسڈی بھی لے لی۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے کہ93ارب کے خالص اضافی منافع میں گنے کے کاشتکاروںکو شریک کیا جائے اس کی بہرطور توقع نہیں کیونکہ سرمایہ دار طبقہ نے صنعتی عمل جاری رہنے میں معاون بننے والوں کے مفادات بارے کبھی نہیں سوچا۔ بہرطور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد اگر واقعی حکومت چینی سکینڈل کے کرداروں کیخلاف کارروائی میں سنجیدہ ہو تو 93ارب کے اضافی منافع کا معاملہ بھی سامنے رکھے۔ اس رقم کے دو ہی حقیقی حقدار ہیں چینی کے صارفین یا گنے کے کاشتکار، صارفین کو رقم کی واپسی کا امکان ہے نا کوئی مربوط طریقہ البتہ شوگر ملوں کے پاس گنا فراہم کرنے والے کاشتکاروں کا ریکارڈ موجود ہے حکومت اگر یہ اضافی منافع ان کاشتکاروں میں تقسیم کروا دے تو اس استحصال کا مداوا ہو جائے گا جو شوگر مافیا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے گنے کے کاشتکاروں کا برسوں سے کرتا چلا آرہا ہے۔
جہالت وتنگ نظری کا خاتمہ ضروری ہے
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا یہ کہنا بجاطور پر درست ہے کہ کورونا وائرس انسانی المیہ ہے اسے کسی مذہب یا مسلک سے جوڑنا صریحاً غلط ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس انسانی المئے پر بھی جس طرح نفرتوں کا کاروبار ہوا اس سے ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی ہوگئی ہے کہ جہالت وتنگ نظری نے پاکستانی سماج میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں، ہمیں اُمید کرنی چاہئے کہ اس ابتر صورتحال اور مشکلات بھرے دنوں سے نجات ملنے پر حکومت اولین ترجیح جہالت، تنگ نظری کا کاروبار کرنے والوں کی سرکوبی کو دے گی۔ انتہائی شرمناک بات ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں اس وباء کے مقابلہ میں بے بس دکھائی دیں مگر ہمارے یہاں کچھ عناصر نے اس انسانی المیہ پر بھی اپنی دکانیں سجالیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان مٹھی بھر عناصر کو عوام الناس نے حقارت کیساتھ مسترد کر دیا مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کے معمول پر آتے ہی جہالت وتنگ نظری کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدام اُٹھایا جائے اور حکومت تعلیم کے فروغ اور نظام صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرے۔