8171، قرنطینہ اور آرٹی اے

\بہت سے برقی پیغامات میں اس امر کی شکایت آئی ہے کہ انہوں نے8171پر شناختی کارڈ نمبر بھیجا لیکن ان کو کوئی جواب نہیں آیا اور امداد کی تقسیم بھی شروع کردی گئی، میرے خیال میں ابھی نظام کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کچھ دن لگیں گے اور جو مستحقین ہوں گے ان کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام سے ضرور امداد ملے گی۔ بہرحال یہ تاخیر کی نشاندہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ بہت بڑی تعداد میں ایک ہی گھر سے دو دو تین تین شناختی کارڈ نمبروں کو سسٹم میںڈالنا ہے اور بھی وجوہات ہوں گی۔ایک قاری نے جیسے ہی اس نمبر کا اعلان ہوا فوراً شناختی کارڈنمبر مقررہ نمبر پر بھیج دیا، ان کو فوراً جواب آیا ہے کہ چھان بین کے بعد آپ کو مطلع کردیا جائے گا۔ کچھ دن ٹھہر کر شناختی کارڈ نمبر کی جگہ فون نمبر جان بوجھ کر سینڈ کردیا تو جواب آیا کہ آپ کا شناختی کارڈ نمبر درست نہیں، انہوں نے پھر اپنا وہی شناختی کارڈ نمبر سینڈ کردیا تو پھر انتظار کرنے کا پیغام آیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام میںایک ہی شناختی کارڈ کا نمبر بار بار بھیجنے پر خودکار نشاندہی کا نظام موجود نہیں حالانکہ کمپیوٹرائزڈ نظام میں ایسا ہونا چاہئے، اگر اعلان ہوتے ہی نمبر نظام میں ڈالنے والے شخص کو اب تک جواب ہی موصول نہ ہوا تو باقی لوگوں کا کیا بنے گا، وقت کیساتھ ساتھ شکایات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس معاملے کو شفاف اوربروقت بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس پروگرام کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح غلط استعمال کی بعد میں شکایت سامنے نہ آئے۔ بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو حقیقی معنوںمیں مستحق ہوں گے مگر ان کی رسائی اس نظام اور حکمرانوں تک نہ ہوگی، ان کے محروم رہ جانے کا قوی خدشہ ہے۔ حکومت کو ان لوگوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس قاری نے دوبار شناختی کارڈ ایک بار فون نمبر کمپیوٹرائزڈ نمبر پر ارسال کیا تھا ان کا کہنا ہے کہ وہ ہرگز مستحق نہیں ان کے علاقے کا نام ہی اگر کوئی دیکھتا تو اس امر کے فیصلے کیلئے کافی تھا کہ وہ مستحق نہیں اور نہ ہی اسے امداد کی ضرورت ہے، ان کا مقصد صرف اس نظام کوجانچنا تھا، حکومتی دعوئوں اور انتظامات اور خاص طور پر اس طریقہ امداد کا امتحان مقصود تھا جس پر دم تحریر یہ نظام اور طریقہ کار پورا نہیں اُتر سکا۔ معلوم نہیں کب جواب ملے گا اور ملے گا بھی یا نہیں، بہرحال انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی ان کو امداد کے مستحق نہ ہونے کا پیغام موصول ہوگا وہ بتادیں گے تاکہ جانچ پڑتال کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ اس پروگرام کے منتظمین کا یہ امتحان ہوگا کہ وہ جلد سے جلد اسے معذرت کا پیغام دیکر ثابت کریں کہ ان کے کوائف چیک کر لئے گئے ہیں اور یہ نظام فول پروف ہے۔ اگرچہ دیگر موضوعات اور پیغامات بھی ہیں لیکن جاری صورتحال کے تناظر میں چترال بالا یعنی اپر چترال سے ایک دو قارئین کے پیغامات شامل کرتے ہیں جن کے مطابق ایک اپنے اہل خاندان کے ہمراہ جبکہ دوسرا انفرادی طور پر کسی نہ کسی طرح لاک ڈائون سے نکل کر اپر چترال پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لوئر چترال میں اتنی سختی برتی جاتی ہے کہ قرنطینہ میںچودہ دن ہر حال میں گزارنا ہوتے ہیں، کوئی سفارش کام نہیں کرتی۔ ایک نوجوان نے دس دن گزرنے کے بعد بڑی سفارش سے قرنطینہ سے گھر جانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ دوسری جانب بالائی چترال میںصرف اندراج کر کے گھروں کو جانے کی اجازت دیدی جاتی ہے، محولہ نوجوان کو اس بات کا قسم اُٹھانے کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی کہ وہ خود کو گھروالوں سے چودہ دن تک الگ تھلک رکھے گا۔اس امر کی سمجھ نہیں آتی کہ دو جڑواں ضلعوں کیلئے الگ الگ معیار کیوں ہے۔ قرنطینہ میں اندراج پراگر سرکار سے ان کے اخراجات کی وصولی ہوتی ہے تو یہ بدعنوانی اور بددیانتی ہوگی اور اگر کسی پالیسی کے تعداد صرف اندراج کر کے باہر سے آنے والوں کا ریکارڈ رکھنا ہے کہ بوقت ضرورت کام آئے تو یہ الگ بات ہے لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئے کہ ایک صوبے کے دو جڑواں ضلعوں میں الگ الگ فیصلے اور انتظامات، بہرحال اضلاع میں اس کی گنجائش ہوتی ہے اور موجودہ حالات میں غالباً اس کی اجازت بھی دیدی گئی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چترال بالائی وزیریں سے ابھی تک کورونا سے متاثرہ کسی مقامی شخص کی نشاندہی نہیں ہوئی اور اب تک یہ محفوظ علاقہ متصور ہوتا ہے۔ بہرحال احتیاط کے تقاضے نظرانداز نہیں ہونے چاہئیں۔
ضم اضلاع سے رسکیو 1122 میں ملازمت کیلئے درخواستیں دینے والے اُمیدواروں نے ارکان ہائے پارلیمان کی جانب سے مداخلت اور سفارشی افراد بھرتی کرنے کا الزام لگایاہے۔ الزام بہرحال الزام ہوتا ہے اس کی جانچ کا پیمانہ تحقیقات ہوتی ہیں جس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ معمول کاحصہ بن چکا ہے کہ میرٹ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جائے، اس کے باوجود میں شکایت کرنے والوں کو الزام نہیں دوں گی کیونکہ تحقیقات کا مطالبہ ان کا حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت کے حوالے سے اُمیدواروں کو مطمئن کرے۔ عوام کو آگاہی سے متعلق حق،آرٹی آئی کے تحت ہدایت اللہ ولد شیرمست، موضع بلند خیل پوسٹ آفس شہباز خیل لکی مروت نے ڈی ای او لکی مروت سے چھ ماہ قبل باقاعدہ طریقہ کار کے تحت استفسار کے باوجود جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ عملے کی جانب سے بار بار یاددہانی کے خطوط بھی ارسال کئے گئے مگر ڈی ای او لکی مروت خاطر میں نہیں لاتے۔ حکومت نے ایک اچھی قانون سازی ضرور کی ہے لیکن اس کو لاگو کرنے میں جس سختی کی ضرورت ہے اس میں ابھی کمی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آرٹی او کو سرکاری اہلکاروں کیخلاف عدم جواب دہی پر زیادہ سخت کارروائی کے اختیارات دیئے جائیں یا پھر ان کی سفارشات پر محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے، جرمانہ کی بجائے تنخواہ کی بندش کا اختیار ملے تو مؤثر ہوگا۔ اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔