بیالیس فیصد آبادی کو امدادی رقم کی فراہمی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واضح الفاظ میں ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے مستحقین کیلئے بڑے امدادی پیکج میںکسی غریب خاندان کے امداد سے محروم رہنے کی شکایت نہ آئے۔ احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار کی یکمشت رقم سے بائیس لاکھ خاندانوں کے مستفید ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میںخیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے چھ ہزار روپے فی خاندان ادائیگی ہوگی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے زکوٰة فنڈ سے صوبے کے ایک لاکھ مستحق خاندانوں کو بارہ ہزار روپے فی خاندان الگ دیئے جائیں گے۔ تینوں پروگراموںسے صوبہ بھر کی بیالیس فیصد آبادی مستفید ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے اس امر کی تاکید کی کہ ماہ رمضان تک تمام ادائیگیاں مکمل کی جائیں۔جاری حالات میں اگرچہ امداد کی فراہمی کا کام تاخیر سے شروع ہوا ہے جسے حکومتی تیاریوں اور انتظامات کے تناظر میںنظرانداز کیا جا سکتا ہے اگرچہ سرکاری امدادی رقم کی ادائیگی کی شروعات کردی گئی ہے اور رقم کی تقسیم میںوقت لگنا بھی فطری امر ہے البتہ اس امر کی بار بار شکایت مل رہی ہے کہ غریب اور نادار افراد کو جس نمبرپر رجسٹریشن کی ہدایت کی گئی ہے وہاں سے ان کو تسلی بخش جواب نہیںمل رہا ہے۔ ہر میسج کرنے والے کو ”آپ کو اہلیت کے بارے میں کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد مطلع کیا جائے گا” کا ایک ہی پیغام مل رہا ہے۔ایسے میں اس امر کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ آخر حکومت کے پاس کونسا ڈیٹا ہے جس کی بنیاد پر امدادی رقم کی تقسیم شروع کردی گئی ہے، نیز امداد کے منتظر افراد کو ان کی اہلیت وحقدار نہ ہونے کے ہر دو صورت سے آگہی کا پیغام ملنے میںمزید کتنی تاخیر ہوگی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوانے صوبے کی بیالیس فیصد آبادی کو امداد کی فراہمی کے جو اعداد وشمار دیئے ہیں اگر اس کے مطابق واقعی امداد ملتی ہے تو یہ کہا جاسکے گاکہ صوبے میں کوئی بھی مستحق خاندان امداد سے محروم نہ رہا۔ وزیراعلیٰ نے کن اندازوںاور اعداد وشمار کی مدد سے صوبے کی بیالیس فیصد آبادی کو امداد کا مستحق ٹھہرایا ہے اور آیا یہ محض اندازے کی بنیاد پر ہے یا پھر مستنداعداد وشمار کی روشنی میں یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے، اگر یہ اعداد وشمار مستند ہیں تو پھر محولہ شکایات کیوں مل رہی ہیں۔ ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لئے بغیر مستحقین تک امداد کی فراہمی یقینی قرار نہیںپائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے بعد اعداد وشمار کے حوالے سے اور ایس ایم ایس پر غیرتسلی بخش جوابات کے ملنے کی شکایات کا تدارک کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ذاتی طور پر ایس ایم ایس کر کے جواب کی صورتحال سے ازخود آگاہی حاصل کریں تو انہیں شکایات کی حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا جس کی روشنی میں ان کو مزید احکامات واقدامات میں آسانی ہوگی۔جہاں تک صوبے کی بیالیس فیصد آبادی کو سرکاری امداد کی فراہمی کا معاملہ ہے صوبے کی کل مستحقین کی تعداد اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی اس امر پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ امداد صرف سرکاری کا غذوں تک ہی نہ ہو اور ماضی کی طرح سرکاری امداد اپنوں میں بانٹنے اور خوردبرد کی نذر نہ ہو جائے۔ وزیراعلیٰ نے رمضان المبارک تک تمام امداد کی فراہمی کی ہدایت شعبان کی سولہ تاریخ کو کی ہے جس کا مطلب ہے کہ آئندہ بارہ تیرہ دنوں کے اندر صوبے کی بیالیس فیصد آبادی کو امداد ملے گی، ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس کی استعداد نظر آتی ہے۔ ہمارے تئیں یہ ہدایت اپنی جگہ مناسب اور برموقع ہوتے ہوئے بھی تاخیر کی گنجائش ہو تو مضائقہ نہیں البتہ مستحقین تک امداد کی فراہمی شفاف طور پر ہونی چاہئے۔ بہت سے سادہ لوح افراد رابطہ کر کے پوچھتے ہیں کہ ان کو ایس ایم ایس تو موصول ہوا ہے اب وہ امدادی رقم کہاں سے وصول کریں؟ اس طرح کے لوگوں کی رہنمائی کا بھی کوئی انتظام ہونا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نادار اور زیادہ مستحق افراد کی مدد کے بعد صوبائی حکومت کو اس امر پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوگی کہ لاک ڈائون اور سرکاری سرگرمیاں معطل ہونے کے بعدمحض دیہاڑی دارمزدور اورگھروں میں کام کرنے والا طبقہ ہی متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ چھوٹا کاروباری طبقہ بھی متاثر ہورہا ہے۔اس لئے حکومت کو اس طبقے کی مدد کی سکیم پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے کاروباری طبقے کو بلا سود قرضے کی فراہمی ایک بہتر صورت ہوسکتی ہے تاکہ چھوٹے کاروباری طبقے کو کرائے، بجلی بلوں کی ادائیگی کیساتھ ساتھ بندش کے دنوں میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی صورت نکل آئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلاسود قرضہ کاروباری ڈھانچے کے استحکام کیلئے ضروری ہے، حکومت کو بندش کے دنوںکے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ اس طرح بہت سی ملازمتیں بچ سکتی ہیں اور معاشی بحران کو ایک حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔حکومت کو قلیل مدتی اقدامات کیساتھ ساتھ طویل المدتی اقدامات اور صوبے کی بندش کے اثرات سے بچانے کیلئے بھی منصوبہ بندی کرلینی چاہئے۔ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے اس وقت تک کے نقصانات کا اندازہ پریشان کن ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کا اندازہ ہی مشکل ہے ممکنہ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں ابھی سے غور وخوض اور اقدامات کی منصوبہ بندی کرے۔
مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا چینی مطالبہ
اقوام متحدہ میں چینی مشن نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، چینی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کشمیر کے مسئلہ کو اب بھی تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا سمجھتا ہے اور اس امر کا خواہش مند ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وستم فوری طور پر بند کر کے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ چینی مشن کے بیان سے بھارت کے اس پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکل گئی کہ چین نے سلامتی کونسل میں گزشتہ ماہ اپنی صدارت کے دوران کشمیر کے حوالے سے پاکستانی درخواست کو نظرانداز کر دیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اگست2019ء میں بھارتی پالیسی میں آئی تبدیلی کے بعد سے اب تک چین ، ترکی، ملائیشیا اور ایران نے دوٹوک انداز میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کر کے بھارت کو اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی حکومت اور عوام مسئلہ کشمیر پر ان دوست ممالک کے موقف کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کی حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل تک جنوبی ایشیاء میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔