جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد

چلیں صدر مملکت عارف علوی تو نہ صرف خود ڈاکٹر بھی ہیں اور انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی ہے کہ انہوں نے جو این95 ماسک پہنا ہوتا ہے وہ انہیں اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران ملا تھا، اس لئے وہ اکثر تصاویر میں یہ ماسک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس کا جواز بھی واضح ہو گیا ہے، تاہم یہ جو ہمارے اکثر وزرائ، مشیران اور دیگر اعلیٰ عہدیدار تحفے میں ملے ہوئے این95 ماسک استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کا کیا جواز ہے؟ کیونکہ یہ تو ان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس افراد کے استعمال کیلئے ملے ہوئے ہیں، مگر حیرت اور افسوس تو اس بات پر ہے کہ کورونا کٹس مانگنے پر ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو نہ صرف مارنے پیٹنے تک کی نوبت آگئی ہے بلکہ انہیں جیلوں (حوالاتوں) میں بھی ڈال دیا گیا ہے، یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ روز کوئٹہ میں پیش آیا تھا اور جب سول ہسپتال کوئٹہ کے متعلقہ سٹاف نے اپنی حفاظت کیلئے ضروری میڈیکل کٹس طلب کیں تو پولیس والوں نے ان پر ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بارش کر دی اور ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس سٹاف کو پہلے پولیس کی گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا جبکہ پھر حوالات میں گنجائش سے زیادہ افراد کو بند کر کے کورونا وائرس کے حوالے سے اُٹھائی جانے والی حفاظتی تدابیر کی دھجیاں بھی اُڑائیں
لہولہان تھا میں اور عدل کی میزان
جھکی تھی جانب قاتل کہ راج اس کا تھا
یہ جو مختلف ملکوں سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کٹس اور خاص طور پر لاکھوں کی تعداد میں فیس ماسک تحفے کے طور پر آرہے ہیں وہ کہاں جارہے ہیں؟ اس سوال کو تھوڑی دیر کیلئے موقوف رکھتے ہوئے ہانگ کانگ سے آئی ایک خبر پر نظر ڈالتے ہیں، خبر کے مطابق ہانگ کانگ کے ارب پتی سماجی رہنما ایڈرین چینگ نے ایک کروڑ سے زائد فیس ماسک مفت بانٹنے کا اعلان کیا ہے، رپورٹ کے مطابق ایڈرین چینگ کی کمپنی نیو ورلڈ ڈویلپمنٹ ہانگ کانگ کے 18اضلاع میں وینڈنگ مشینوں کے ذریعے لوگوں میں فیس ماسک تقسیم کرے گی، اس سے پہلے ایک اور خبر بھی آئی تھی بلکہ ساتھ ہی ایک تصویر بھی شائع ہوئی تھی جس کے ذریعے ضرورت مند لوگوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ کلو چاول، اے ٹی ایم مشین کی طرز پر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، تاہم ایسے کام صرف ایسے ممالک میں ہوتے ہیں جہاں لوگوں میں نظم وضبط ہوتا ہے، اگر ایسے مشین ہمارے ہاں لگا دیئے جائیں تو جس طرح اکثر بنکوں کے باہر لگے اے ٹی ایم مشینوں کو لوٹنے کی خبریں آتی رہتی ہیں تو لوگ ان مشینوں کو بھی توڑ پھوڑ کر فیس ماسک اور چاول وغیرہ لوٹنے کے مواقع ضائع نہ کریں، بقول شاعر
محشر میں گئے شیخ تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
بات ماسک کی ہو رہی ہے، این95 یعنی صرف میڈیکل استعمال میں آنے والے ماسک کن لوگوں میں تقسیم کئے جا رہے ہیں؟ اس پر ایک بہت پرانی بات یاد آگئی ہے، ایوبی دور میں پاکستان کو جہاں امریکہ سے ہمیں تحفے کے طور پر (غالباً) پی ایل480 معاہدے کے تحت مفت گندم ملتی تھی وہاں خشک دودھ اور بٹر آئل یعنی دیسی گھی کے ڈبے بھی ملتے تھے جن کو اصولی طور پر سکول کے بچوں اور ڈسپنسریوں کے ذریعے غریب خواتین میں تقسیم کیا جاتا تھا، ابتداء میں اس پر کسی نہ کسی حد تک عمل درآمد ہوتا رہا، مگر بعد میں سرکاری عمال نے یہ ڈبے بازار میں فروخت کرنا شروع کرکے جیبیں بھرنی شروع کردیں جبکہ کئی دہائیوں بعد ایک بار پھر جب افغانستان میں ''جہاد'' کے نام پر فساد برپا ہوا اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان میں قدم رنجہ فرمایا تو نہ صرف بٹر آئل بلکہ مختلف قسم کے کوکنگ آئل کے پانچ پانچ کلو کے ڈبے مہاجرین کی امداد کیلئے ملنے لگے، اس میں بھی ڈنڈی ماری کرتے ہوئے مجاہدین کمانڈروں کیساتھ ملی بھگت کر کے ہمارے ہاں متعلقہ حکام نے وہی پرانا طریقہ اختیار کیا اور مختلف مہاجرین کیمپوں میں ہر گھرانے کو ایک ایک ڈبہ دیکر اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق کام چلایا جبکہ ٹرکوں کے ٹرک مقامی مارکیٹوں میں فروخت کرنا وتیرہ بنا لیا، بقول غلام محمد قاصر مرحوم
لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں
کل بھی قاصر کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ماسک سے ہوتے ہوتے دودھ اور بٹر آئل کی کہانی یاد آگئی، جبکہ اس کہانی کے اندر ہی اصل داستان پوشیدہ دکھائی دے رہی ہے یعنی ان دنوں وہ جو کچھ عرصہ پہلے دو ڈھائی روپے کا عام ماسک اور پانچ روپے کا کپڑے کا بنا ہوا ماسک راہ چلتے خوردہ فروشوں سے مل جایا کرتا تھا وہی ماسک اب چالیس پچاس روپے سے کم میں کہاں دستیاب ہے، تو کیا جو ماسک تحفے میں آرہے ہیں ان کیساتھ بھی ایوبی دور کے دودھ اور گھی والے ڈبوں کا حشر ہو رہا ہے؟ اگرچہ اس دوران یعنی کورونا کی ابتداء میں ایک بڑے عہدیدار پر ماسک بیرون ملک برآمد کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے مگر کورونا میں تیزی آنے سے وہ معاملہ دب گیا تھا، بہرحال جو لاکھوں ماسک تحفے میں مل رہے ہیں ان کا مصرف اگر عوام کے سامنے آجائے اور خاص طور پر یہ جو بعض اہم لوگ این95 والے ماسک بلاضرورت استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں ان کی حقیقت بھی عوام پر واضح کی جائے تو ڈاکٹروں پر لاٹھیاں برسانے اور عوام کو دو روپے کا ماسک پچاس میں خریدنے کی مجبوری ختم ہو جائے گی۔
کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبار کا
آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں