سیاسی جماعتوں کا مایوس کن کردار

حکومت اور سیاست دونوں الگ الگ چیزیں ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومت کو ہی ہر معاملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں یقینا حکومت ہی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن جب قوموں پر کوئی بڑی اُفتاد آن پڑتی ہے تو سیاسی جماعتیں بالعموم ایسا کردار ادا کرتی ہیں کہ پوری قوم ایک پیج پر نظر آتی ہے، یہ کام سیاسی جماعتیں ہی کر سکتی ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کی عوام میں گہری جڑیں ہوتی ہیں اور ہر جماعت کے لاکھوں کروڑوں چاہنے والے ہوتے ہیں، اگر ہم کورونا کے موجودہ بحران میں سیاسی جماعتوں کے کردار پر نظر ڈالیں تو ہمیں مایوسی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، حقیقت یہ ہے کہ پوری دینا کی طرح پاکستان بھی اس وقت کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس بحران نے ہمیں بڑے سیاسی، سماجی، انتظامی، کاروباری، معاشی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ ایسے میں کمزور اور محدود آمدنی کے حامل افراد یا روزانہ کی بنیاد پر کام یا مزدوری کرنے والے حالیہ بحران میں سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ریاست، حکومت اور اس سے جڑے ادارے اپنے محدود وسائل اور صلاحیت کیساتھ کچھ اچھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بہت تنقید کی جاسکتی ہے اورکی بھی جانی چاہئے کہ عملاً ہمارے حکمران طبقات نے حکمرانی کے نظام میں کوئی اچھی مثالیں قائم نہیں کیں۔ اس لئے وہ ہر سطح پر جواب دہ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اس بحران میں کہاں کھڑی ہیں؟ تحریک انصاف وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں براہِ راست حکومت میں ہے۔ اس کی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، بلوچستان نیشنل پارٹی اور سندھ گرینڈ الائنس بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار ہے جبکہ بلوچستان میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) ایک بڑی اور مضبوط حزب اختلاف کے طور پر موجود ہے۔ لیکن ان سیاسی جماعتوں کا عملی کردار بہت کم نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف کی وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حیثیت پارٹی سے زیادہ حکومت کی ہے اور پارٹی ہمیں عملی میدان میں بہت کم سرگرم نظر آتی ہے۔ یہی رویہ پیپلز پارٹی کا ہے، وہ سندھ میں بطور حکومت تو کام کررہی ہے مگر اس بحران میں پارٹی کی فعالیت بہت کم ہے۔ اسی طرح پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی پیپلز پارٹی کا کوئی عملی کام نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ (ن) ایک مضبوط حزب اختلاف ہے جو پنجاب میں ایک بڑا سیاسی ڈھانچہ اور افرادی قوت رکھتی ہے مگر پارٹی کی فعالیت پر سوالیہ نشان ہے۔ شہبازشریف کی پھرتیاں نظر تو آتی ہیں مگر عملی سطح پر ان کی پارٹی اور ارکانِ اسمبلی اور سابقہ ضلعی حکومتوں کے چیئرمینوں کا کردار کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی اس بحران میں کہیں گم ہوکر رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ابھی تک امداد یا خوراک کی فراہمی کے منصوبے یا حکمت عملیاں ہی ترتیب دے رہی ہیں اور لوگوں کی بڑے پیمانے پر بدحالی ان کی سیاست میں گم نظر آتی ہے۔
دریں حالات ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی جماعتیں عملی طور پر انتخابات کے دوران ہی فعال ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ ان جماعتوں کا کوئی بڑا سماجی نیٹ ورک یا سماجی شعبوں سے جڑی خدمات کا نظام نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ مستقل بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کے مقامی نیٹ ورک بھی عملاً کمزور ہوتے ہیں اور ان کی سیاسی ساکھ پر بھی سوال اُٹھتے ہیں۔ ہمارے ارکانِ اسمبلی کوئی غریب لوگ نہیں ہیں، ان میں سے بیشتر لوگ کروڑوں روپے خرچ کرکے پارٹی ٹکٹ حاصل کرتے اور انتخاب جیتتے ہیں، جو لوگ انتخاب ہار جاتے ہیں وہ بھی دولت مند ہوتے یا لاتعداد وسائل رکھتے ہیں لیکن جب معاشرے کو ان کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ لوگ فعال ہونے کے بجائے محض ایک دوسرے سے سیاسی مقابلہ بازی، الزام تراشی اور خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی جنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ بات بجا ہے کہ حکومت یا ریاست کی ذمہ داری زیادہ اہم اور مستند ہوتی ہے لیکن ایسے بحران محض حکومت تنِ تنہا حل نہیں کرسکتی، اس میں حکومت سمیت سبھی سیاسی جماعتوں کو ملکر کام کرنا ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ کون حکومت میں ہے اورکون حزبِ اختلاف میں۔ اگر حکومت زیادہ فعال کردار ادا نہیں کررہی تو محض اس پر تنقید کرکے دیگر سیاسی جماعتیں خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں۔ یہ جماعتیں حکومت کی طرف بھی دیکھیں، اس کے کاموں پر تنقید بھی کریں اور دباؤ بھی ڈالیں مگر خود بھی عملی طور پر میدان میں آکر جس حد تک کام کرسکتی ہیں یا وسائل خرچ کرکے کمزور لوگوں کی مدد کرسکتی ہیں اس میں انہیں پیش پیش ہونا چاہئے اور یہ عمل نظر بھی آنا چاہئے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ عملی سیاست محض نعروں کی بنیاد پر مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے عوامی سطح پر کچھ کرکے دکھانا اورکمزور طبقات کیساتھ مشکل حالات میں کھڑا ہونا بھی اہم ہوتا ہے۔ یہی عمل ملک میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت اور ساکھ کو بھی لوگوں میں قائم کرنے کا سبب بنتا ہے اور لوگوں میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم تنہا نہیں بلکہ ہماری سیاسی قیادت ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں اگر عوام کو صرف یہ اعتماد دلا دیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ عوام کیساتھ کھڑی ہیں تو عوام کی آدھی پریشانی اور تکلیف محض اس عمل سے ختم ہو جائے گی لیکن کیا سیاسی جماعتیں عوام کی فلاح کیلئے ٹھوس کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں؟