موقع سے فائدہ اُٹھانے والا قبرستان قبضہ مافیا

نوتھیہ قدیم زیارت میںلاک ڈائون سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قبضہ مافیا کا قدیم زیارت ولی محمد کیساتھ ملحقہ قبرستان کے راستے پر مکان کی تعمیر اور راستے کی بندش خدا خوفی سے عاری ہونے کا ایک ایسا مظہر ہے جس کا تصور کر کے ہی خوف سے لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ پشاور کے قبرستانوںپر قبضہ کرنے والا مافیا کس قدر طاقتور اورہٹ دھرم ہے اس کے مقابلے میںسرکاری مشینری یا تو کمزور ہے یا پھرسرکاری اہلکاروںکی ملی بھگت ان کی دیدہ دلیری کا باعث ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں اس مسئلے کیخلاف احتجاج کیلئے تنظیم بھی بنائی گئی، وزرائے اعلیٰ نے بھی نوٹس لیا اورعدالتوں نے بھی جواب طلبی کی، علاقہ تھانہ اور محکمۂ مال کو بھی سخت ہدایات دی گئیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق ساری تپسیا عارضی، وقتی اور انتہائی غیر مؤثر ثابت ہوگئیں۔نوتھیہ میں راستے کی بندش اور قبرستان وآبادی کے راستے پرمکان تعمیر کرنے اور گیٹ لگانے کیخلاف علاقہ مکینوں کی حکام تک کو بار بار درخواستوں کے باوجود اس حوالے سے کسی کارروائی کا نہ ہونا افسوسناک امر ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس میں انتظامی اہلکاروں کا اگر کوئی مفاد وابستہ نہیں بھی ہے تو سنگین غفلت کے مرتکب ضرور ٹھہرتے ہیں۔ کوئی مسئلہ اخبارات تک پہنچے، جلی سرخیوں اور تصاویر سے مسئلے کی نشاندہی ہو اور اس کے باوجود حکام کے کان پر جوں نہ رینگے تو سمجھ جانا چاہئے کہ شہرناپرسان میں حکومت کی عملداری باقی نہیں رہی، اس کے باوجود توقع ہے کہ کورونا وائرس سے پھیلائو کے حالات کے باعث حکام کی جانب سے اس کا نوٹس لینے میں تاخیر ہوگئی ہوگی جس کا اب مزید تاخیر کے بغیر نوٹس لیا جائے گا اورقانونی کارروائی ہوگی۔
عام مریضوں کو علاج کے حق سے محروم نہ رکھا جائے
ہمارے نیوز رپورٹر نے اس امر کی درست نشاندہی کی ہے کہ کورونا وائرس کے خوف سے سرکاری ہسپتالوں میں اوپی ڈی کی بندش اور طبی سہولیات کی معطلی سے بیماریوں کے مسائل سنگین اور ان کے علاج کا عمل رک گیا ہے۔ جاری صورتحال میں ان کے پاس نجی علاج کے مواقع بھی زیادہ میسر نہیں اور نہ ہی ہر مریض نجی علاج کرانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس امر کی باز گشت عدالت عظمیٰ میں بھی سنی گئی۔ فاضل منصف کے استفسار کابھی کوئی تسلی بخش جواب نہیںملا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات ضروری ہیں مگر محض خوف کے بناء پر دیگر مریضوں کو علاج کے حق سے محروم رکھا جانا کسی طور قابل قبول امر نہیں، اس پر توجہ کی ضرورت ہے کہ ہسپتالوںمیں ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے تحفظ اور وائرس کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا کر مریضوں کو علاج کی بلا تاخیر سہولت دینی چاہئے۔ہسپتالوں کو تالا لگانا مسئلے کا حل نہیں۔ مشکوک مریضوں اور کورونا وائرس کی علامات سے ملتے جلتے مریضوں کے معائنے کیلئے ہسپتالوں میںعلیحدہ جگہاور ان کو مخصوص مراکز میں بھیجنے کے انتظامات کیساتھ او پی ڈی کھول دی جائے تو مناسب ہوگا۔ صوبائی حکومت کو اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ طویل ہوتے بندش کے عمل میں لوگوں کے تحفظ کے نام پر ایسے قابل علاج مریضوں کوکیوں محروم رکھا جائے جن کا علاج ہونے پر ان کی صحت یابی کی اُمید ہے اور ان کے مرض کا علاج موجود ہے۔ تھرمل سکرینگ، ہاتھ دھونے اور جراثیم کش سپرے کے اقدامات کے ذریعے جس طرح دیگر محکموں میںکام جاری ہے اس طرح کے اقدامات کیساتھ اوپی ڈی کھول دیئے جائیں اور مریضوں کا علاج جلد سے جلد شروع کیا جائے۔