کشمیر غزہ بن رہا ہے

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کے قہر سے جھوجھ رہی ہے۔ کھربوں کی معیشتیں زمین بوس ہونے لگی ہیں، تجارت تباہ حال ہے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ہسپتالوں میں تدفین کیلئے ترس رہا ہے لیکن اس صورتحال کے باوجود بھارتی حکومت کشمیریوں پر زور زبردستی کی پالیسی میں ذرا بھی کمی نہیں لا رہی ہے۔ حال ہی میں جموں وکشمیر پر اب ایک ایسا قانون مسلط کر دیا گیا ہے کہ جس کا مقصد سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلم اکثریتی کردار کو ختم کر کے غیرمسلموں کو وہاں آباد کرنا ہے تاکہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے جس کیلئے وہ گزشتہ سات دہائیوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اقامتی قانون یا ڈومیسائل لاء کو مارچ کے آخری دنوں میں جاری کیا گیا جس کو ریاست کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ایک سازش سے تعبیر کیا ہے اور کشمیر کو ایک کالونی میں تبدیل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
کشمیری شہری یہ ظلم و ستم گزشتہ72سال سے سہہ رہے ہیں اور اپنے حق کیلئے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر مردانہ وار لڑ رہے ہیں۔انڈین آرمی کی تقریباً ساڑھے دس لاکھ سے زائد تعداد (جو ہر طرح سے مسلح ہیں) تحریکِ حریت کی آگ کو بجھا نہیں پا رہی اور نہ بجھا پائے گی۔ بھارت تحریکِ حریت کو ختم کرنے کی اور کشمیر پہ مکمل قبضہ کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے اور ان کوششوں میں اس کیساتھ اب مزید خوارجی ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں جن میں اسرائیل سرِفہرست ہے۔ اس بار بھارت نے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کیلئے وہی حکمتِ عملی اپنائی ہے جو کبھی اسرائیل نے فلسطین پہ قبضہ کرنے کیلئے بنائی تھی کہ سب سے پہلے کچھ اسرائیلی فلسطین جا کر آباد ہوئے پھر انہوں نے اپنی آبادی میں اضافہ شروع کیا اور مقامی فلسطینیوں سے منہ مانگی قیمتوں پہ زمینیں اور جائدادیں حاصل کرنا شروع کی اس کے بعد انہیں لالچ دیا اور پھر تیزی سے منہ مانگی قیمت پہ زیادہ سے زیادہ زمینیں خریدنے لگے اور زیادہ تر فلسطینی علاقوں پہ اپنا تسلط قائم کر لیا۔ بالکل اسی طرح بھارت نیگزشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی آئین میں شامل آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کر کے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کیا اور ریاستی باشندوں کو حاصل سٹیٹ سبجیکٹ اور خصوصی حیثیت سے محروم کر دیا گیا۔ اس کیخلاف قومی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوانوں اور بچوں کو جیل میں بند کر کے پوری ریاست کو چھ ماہ تک محصور رکھا گیا۔ ترسیل کے تمام ذرائع کو بند کر دیا گیا تاکہ عوام کی آواز کو دبایا جاسکے۔
اب جو نیا اقامتی قانون لاگو کیا گیا ہے اس کی رو سے بھارت کے باشندے کشمیر میں زمین جائیداد کے مالک ہوسکتے ہیں، نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں اور تجارتی ادارے زمین خرید کر اپنی صنعتیں قائم کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلبا سات برس کی رہائش کے بعد اگر دسویں یا بارہویں جماعت کے امتحان میں داخل ہوئے ہوں گے تو وہ بھی شہریت حاصل کرسکتے ہیں یا بھارت سے آنے والے ملازمین کے بچے بھی شہریت کے حقدار بن سکتے ہیں۔ پھر کوئی بھی باہر کا ملازم کشمیر میں دس برس رہنے کے بعد وہاں جائیداد خریدنے کا اہل ہوسکتا ہے۔
یعنی کشمیر کی جو اپنی خصوصیت تھی اس کو سرے سے ختم کر کے غیر کشمیریوں کو یہاں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے جس کیلئے ہندوتوا سے جڑی جماعتیں 1947 سے تاک میں بیٹھیں تھیں۔
حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بھارت کے اس قانون کو بربریت اور جابریت قرار دیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ بھارت کشمیر میں دوسرا غزہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ”ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی وبا سے لڑ رہی ہے بھارت کشمیریوں کے سروں پر نئے قوانین لادھ رہا ہے حتی کہ دہلی کی آشیرباد سے جو حال ہی میں نئی پارٹی وجود میں لائی گئی ہے وہ بھی اس قانون کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوگئی”۔
عوامی حلقوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ کرونا سے لڑنے اور علاج ومعالجے پر توجہ دینے کی بجائے بھارتی حکومت کشمیریوں کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے اور اس نے منظم طریقے سے ان کی نسل کشی کے تمام اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔
جموں وکشمیر کے عوام گزشتہ برس سے محصور ہیں۔ انٹرنیٹ کی سہولت اب بھی میسر نہیں ہے۔ شبانہ چھاپوں اور نوجوانوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ معیشت مفلوج کر دی گئی ہے، اب جب سے کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہے لوگ انتہائی سہمے ہوئے اور خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ صحت کا شعبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے، مسلسل پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ڈاکٹر ہمیشہ دباؤ میں رہتے ہیں۔ اب کرونا کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، غرض ہر طرح سے وہ مصیبت میں پھنس گئے ہیں اور اس پر ہندوتوا کی یہ پالسیاں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام اقامتی قانون کیخلاف اُف بھی نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ پانچ اگست کے فیصلے کیخلاف بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ایک کشمیری صحافی کے مطابق ”بھارتی حکومت نے کرونا کا فائدہ اُٹھا کر کشمیریوں کا قافیہ مزید تنگ کر دیا ہے جس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی ادارے خاموش تماشائیوں کی طرح ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پانچ اگست کے فیصلے کی طرح پھر بھارتی حکومت کو دوسرا غزہ بنانے کی مہلت دے رہے ہیں۔
بشکریہ: انڈی پینڈنٹ