احتسابی عمل پر بڑھتے خدشات

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے میڈیا میں پہلے سے لیک شدہ تحقیقاتی رپورٹ کو عوام کی وسیع تر آگاہی اور تصدیق کیلئے جاری کرنے کے عمل سے ملک میںاحتساب کے ایک نئے عمل کی جو نوید سامنے آئی تھی اس پر اب گرد پڑنے کے خدشات کا کئی وجوہات کی بناء پر اظہار سامنے آرہا ہے۔ اولاًیہ کہ وزیراعظم نے اپنی کابینہ کی تطہیر نہیں کی ذمہ داروں کی موجودگی اب بھی کابینہ میںپوری طرح ہے، دوم یہ کہ پہلے دن کے سخت فیصلوں میں ایک مرتبہ پھر ترمیم اور واپسی کا معترضانہ اقدام دہرانے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے، سوم یہ کہ مزید تحقیقات اور فرانزک آڈٹ کا عمل تسلی بخش نہیں اور اس کا مرکز ومحور اور ذمہ دار عناصر پر مرتکز نہیں۔ ان سارے عوامل اور دیگر کئی محسوس ہونے والے اور پس پردہ ممکنہ عوامل کے باعث چینی کے حالیہ سکینڈل اور سبسڈی دینے کے ذمہ داروں اور اس سے بھاری رقم کمانے والوں کیخلاف شفاف تحقیقات اور حکومتی ذمہ داری سے لیکر اس کے تمام کرداروں کو سزا مل سکے گی یا کم ازکم ان سے وہ رقم ہی وصول کی جاسکے گی جو انہوں نے ہتھیائی، ان خدشات کا اظہار بلاوجہ نہیں بلکہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ اس طرح کے سارے کردار طاقت کی راہداریوں میں بلا روک ٹوک پہلے ہی کی طرح گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ اس بات کی بھی کوئی واضح اُمید نہیں کہ احتساب کے ادارے اور عدالتیں اس سلسلے میں کوئی کرداد ادا کرسکیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو ایک جانب خود احتسابی کا ڈھونگ رچایا گیا اور اسی لمحے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کمیشن بٹھادیا گیا جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ ایسا میڈیا پر رپورٹ کے لیک ہونے کے بعد کے حالات اور تاثرات کو زائل کر نے کیلئے کیا گیا ہو وطن عزیز میں کسی معاملے پر کمیشن کی رپورٹ اور اس پر کارروائی کی روایت کوئی مثالی نہیں رہی بلکہ ہمیشہ سے ایسا تب ہوتا ہے جب کسی معاملے کو سردخانے میں ڈالنا ہو یا پھر عوام کے سوالات کی جوابدہی مشکل ہو۔پاکستان کے عوام نے عمران خان کے وعدوں پر اعتبار کرتے ہوئے ان سے جو توقعات وابستہ کی ہیں اس پر پورا اُترنا کسی امتحان سے کم نہیں، بااثر عناصر پر ہاتھ ڈالنے سے خود حکومت بھی مشکلات کاشکار ہو سکتی ہے اور اس کے مختلف نتائج کا بھی سامنے آنا فطری امر ہوگا لیکن کسی نہ کسی نے اور کہیں نہ کہیں سے احتساب کے عمل کی ابتدا تو ہونا ہے، اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان اس لئے بھی سب سے زیادہ موزوں شخصیت ہیں کہ انہیں اقتدار اور نفع ونقصان کی زیادہ پرواہ نہیں۔ اس امر کا وہ خود بار بار برملا اظہار کرتے بھی آئے ہیں۔ قوم منتظر ہے کہ احتساب کا بلاامتیاز اور بلاتخصیص عمل کا کہیں سے تو آغاز ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کرپشن کیخلاف ابھی سے کارروائی شروع نہ کی گئی اورہمارے چور اچھے اور تمہارے چور برے قسم کا فارمولہ مروج رہا، مصلحت اور سیاسی خسارے کی پرواہ کی گئی تو پھر کرپشن کیخلاف مہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ اگر بات کورونا کی صورتحال اور ملکی حالات کی ہے تو پھر اس موقع پر رپورٹ سرکاری طور پر رائے عامہ کیلئے جاری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ مشکل امر یہ ضرور ہے کہ مافیا کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ہر حکومت میںاقتدار کے ایوانوں میںموجود اوراردگرد اس کے نمائندے موجود ہوتے ہیں، کوئی ایسی حکومت نہیں ہوتی جس میں اس قسم کی صورتحال نہ ہو موجودہ حکومت بھی اس منظر نامے سے مبرا نہیں۔ انہی عناصر کے باعث قانون اور ادارے بھی مکڑی کا جالا بنے ہوتے ہیں جسے مافیا باآسانی کاٹ کر نکل جاتی ہے۔ شوگر مافیا ہر دورحکومت میں بااثر متحرک اور سبسڈی وفوائد سمیٹنے والی رہی ہے۔ گنا خریدنے اور چینی بنانے اور مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچنے، برآمد کرکے سبسڈی سمیٹنے کا عمل اگرچہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہر دور میںیہی دہرایا جاتا رہا ہے۔ چینی کے کارخانوں کے تقریباًسارے مالکان سیاسی خاندانوں یا ان کے قرابت داروں کے ہیں۔ اب اگر معاملہ اُٹھا ہے اور حکومت غیرملکی قرضوں سمیت کئی معاملات کی تفصیلی چھان بین کا اعلان کر چکی ہے اگر شوگر اورگندم وآٹا مافیا جیسے عام آدمی کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے والوںکو بلاامتیاز وبلا تخصیص کیفر کردار تک پہنچایا جائے تو یہ موجودہ حکومت کاکارنامہ ہی نہ ہوگا بلکہ یہ مافیاز کی کمر پر کاری ضرب ہوگی اور آئندہ کی حکومتوں کیلئے عمدہ مثال۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شوگرسکینڈل کی تحقیقات اور رپورٹ آنے میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا۔