ریلیف کے اقدامات میں بہتری اور تیزی کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان اس امر کے داعی ہیں کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی ساری توجہ وباء پر قابو پانے کیساتھ ساتھ کمزور اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ ساتھ ہی احساس پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم کا آغاز بھی کردیا گیا ہے، حکومت کی طرف سے امدادی رقوم کی تقسیم کے آغاز اور فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کی جانب سے بساط بھر لوگوں کی مدد کرنے کے باوجود اس قسم کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں کہ لوگ خودکشیاں کرنے لگے ہیں حالانکہ ابھی لاک ڈاؤن کی مزید ضرورت باقی ہے۔ پشاور اور بنوں میں دو رکشہ ڈرائیوروں کے خودکشی کے واقعات روزگار وکاروبار کے متاثر ہونے کی ابتدائی مثالیں ہیں۔ وطن عزیز میںغربت کی لکیر سے نیچے اور غربت کی لکیر کے آس پاس کے افراد کی تعداد اتنی ہے کہ ان سب کو دستگیری کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کی عام دنوں میں بھی زندگی میں راحت تو نہ تھی لیکن شبانہ روز محنت ومشقت کے بعد بمشکل دو وقت کی روٹی کما پاتے تھے جس سے بھی اب وہ محروم ہوگئے ہیں جبکہ ایک جانب موت اور دوسری جانب شدید بھوک وافلاس ہے جس میں کسی ایک کا انتخاب بھی آسان نہیں، بہرحال اجتماعی موت کی وکالت نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں لاک ڈائون میں گھر گھر خوراک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن ابھی تک ٹائیگر فورس کی وردیاں ہی بن رہی ہیں اور اس پر کروڑوں روپے صرف ہورہے ہیں، ان کا میدان عمل میں آنا ایک طرف ان کی کارکردگی اور حکومتی امداد وخوراک کی بہم رسانی کا دعویٰ کب پورا ہوگا اس کا جواب حکومت ہی دے سکتی ہے۔ اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ حکومت کی طرف سے احساس پروگرام کا جس بے ڈھنگے طریقے سے اجراء ہوا ہے اگر فلاحی تنظیموں اور مخیرحضرات روزاول سے دستگیری کی ذمہ داری نہ سنبھالتے تو اب تک نجانے کتنے خاندان فاقوں سے مرچکے ہوتے۔ احساس پروگرام کی تقسیم کا جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس سے یہ سوال اُٹھتا ہے کہ جب پورا آن لائن نظام موجود تھا، کارڈ ایشو ہوئے تھے پھر قریہ قریہ گائوں گائوں لمبی قطاریں لگوا کر امداد کی تقسیم کی کیا ضرورت تھی، اتنے لوگ اکٹھے کر کے اور معاشرتی فاصلے کو روند کر کیا مقاصد حاصل کئے گئے، بھگدڑ اور بدانتظامی اتنی کہ پہلے دن کے واقعے میں ایک خاتون جاں بحق اور20زخمی ہوگئے۔ ایسا لگتا ہے کہ منصوبہ بندی اور انتظامات کی تو زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ حکومت کو اب بھی احساس ہونا چاہئے اور اب بھی وقت ہے کہ اپنی ترجیحات درست کرے، امداد کی شفاف تقسیم کا عمل یقینی بنایا جائے، محرومی کی شکایت کا ازالہ ہونا چاہئے اور لوگوں کو خودکشی پر مجبور ہونے سے بچایا جائے۔
کورونا کے پھیلائو میں اضافہ مزید اقدامات پر توجہ دی جائے
حکومتی ذمہ دار اورماہرین کی جانب سے اب اس خدشے کا مزید کھل کر اظہار کیا جانے لگا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک ملک میںکرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ میں پیش کردہ حکومتی رپورٹ کے مطابق 25اپریل تک مریضوں کی تعدادپچاس ہزار تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ٹیسٹ کرنے کی تعداد اور رفتار بڑھانے پر ہی حقیقی صورتحال سامنے آسکتی ہے اور درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔ اس طرح کے حالات کے تناظر میں حکومتی اقدامات پر نظر دوڑائیں تو سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیںآتا کیونکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ہمارے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں۔ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کوئی پوشیدہ امر نہیں، اس صورتحال میں کورونا کے پھیلتے وباء میں کمی کی توقع ہی عبث ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اس وقت بھی صحت کا نظام بہتر بنانے سے زیادہ سابق حکمرانوں کو مطعون کرنے کی پڑی رہتی ہے۔ کوئی بھی اپنی ذمہ دای پوری کرنے اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کو تیار نہیں۔موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات کو ایک طرف رکھ کر اور گزشتہ وموجودہ کے موازنے کو چھوڑ کر اس وباء سے مشترکہ طور پر نمٹنے ہی کو ترجیح بنانا چاہئے، تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مل کر اپنی حکمت عملی پر نظرثانی اور مزید مؤثر اقدامات پر اتفاق کر لینا چاہئے، ماہرین کو اس امر پر اتفاق ہے کہ معاشرتی فاصلوں کی پابندی کر کے اور ٹیسٹوں کی شرح میںاضافہ کر کے ہی درست اندازے اور وباء سے کسی طور مقابلہ ممکن ہوگا۔
نجی سکولوں کے دفاتر کھلے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے
خیبرپختونخوا حکومت نے نجی سکول کو فیس وصولی کیلئے مہینے میں پانچ دن کی خصوصی اجازت دے کر والدین اور سکول دفاتر کے درمیان رابطہ کا جو موقع فراہم کیا ہے اس سے فائدہ اُٹھا کر نجی سکول مالکان اور انتظامیہ اپنے طالب علموں کو معمول کے تدریسی مواد کو تحریری صورت میں پہنچانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے تاکہ طالب علموں کو کلاس ورک کی صورت میں ماہانہ بنیادوں پر درسی مواد ملتا رہے اور وہ تعلیمی ماحول سے یکسر دور نہ ہوں۔ سکول مالکان فیسیں وصول کریں، سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تعطل نہ آئے تو فیس بھرنے والے والدین اور طالب علم متاثر کیوں ہوں۔ حکومت کو نجی سکولوں کو ممکنہ طور پر آن لائن تعلیم دینے اور کلاس ورک بصورت فوٹو سٹیٹ اور طالب علموں کو گھر کا کام دینے کا پابند بنائے تاکہ دفاتر کھلنے کا جواز خصوصی رعایت نہ بن جائے۔