آٹا چینی مافیا اور عوام

وزیراعظم کی جانب سے ڈی جی آیف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں جو ہوش ربا حقائق سامنے لائے گئے وہ اصل صورتحال کا عشرعشیر بھی نہیں۔ یہ رپورٹ ان تمام استحصالی سرگرمیوں اور اقدامات کا خوب احاطہ کرتی ہے جو ہمارے ملک میں چینی کی صنعت سے وابستہ کاروباری افراد اپنی طاقت، تعلقات اور اثر ورسوخ کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال کر سرانجام دیتے ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ بھی افشا ہوتا ہے کہ چینی کے ان صنعتکاروں نے کس طرح حکومت کو چینی درآمد کرنے کی پالیسی ان کی مرضی کے مطابق ترتیب دینے کیلئے دباؤ ڈالا اورکیسے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خودساختہ بحران سے قیمتیں بڑھا کر خوب فائدہ اینٹا۔
ہماری معیشت کے دوسرے شعبہ جات میں بھی صورتحال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ صرف معمولی سی تحقیق ہی ہمیں اسی طرح کی استحصالی سرگرمیوں اور شاطر چالوں کا سراغ مل جائے گا جو دوسرے شعبے سے وابستہ بڑے اور طاقتور کاروباری افراد اپنے مفاد کیلئے سرانجام دیتے ہیں۔ رپورٹ نے اس بات پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ہمارے ملک میں ایک باقاعدہ چینی مافیا کارفرما ہے جو اپنی شرح منافع بڑھانے کیلئے عوام کا استحصال کرتا ہے۔ اس رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کس طرح بڑے کاروباری گروہ اپنے حق میں پالیسی بنانے کیلئے پالیسی سازوں پر دباؤ ڈالنے کی خاطر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ مزید برآں اس رپورٹ نے ہمارے نظام میں موجود اس سقم کو بھی خوب واضح کر دیا ہے جس کے سبب غلط حقائق کی بنیاد پر پالیسی سازی اور فیصلوں کی روک تھام یا نگرانی ہو پاتی ہے اور نہ ہی یہاں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والے معاملات پر فیصلے کرنے سے پہلے پیش کردہ حقائق کی تحقیق کی جاتی ہے۔ اگر چینی سے متعلق ہی زیربحث معاملے کی بات کی جائے تو شوگر ایڈوائزری بورڈ، ای سی سی اور وزیراعظم کی سربراہی میں کام کرنے والی کابینہ نے چینی کی درآمد کی منظوری دینے سے قبل اس کے عام آدمی پر مرتب ہونے والے اثرات کا قطعی خیال نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی بھیجی جانے والی سمری میں بیان کردہ حقائق کی کسی بھی متبادل ذریعے سے تصدیق نہیں کرائی گئی جو اس پالیسی سازی اور فیصلے کی شفافیت پر کئی طرح کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ لاکھوں زندگیوں پر اثرانداز ہونے والے معاملات سے متعلق پالیسی سازی کا یہ نظام غریب عوام کی بجائے اشرافیہ اور حکمران طبقے کے مفادات کا ہی تحفظ کرتا نظر آتا ہے۔
ستم ظریفی یہ کہ وہی طبقہ اشرافیہ جس نے ہمارے ہاں سیاست اور معیشت میں اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں، ہر طرح کے فیصلے لینے اور پالیسیاں ترتیب دینے میں اپنے ہی کاروباری مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔ ہمیں پالیسی سازی کے اس سقم زدہ اور غیرشفاف نظام کو بدل کر ایک ایسا نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو شفافیت اور انصاف کیساتھ اہم معاملات پر مؤثر پالیسیاں اور فیصلے صادر کرنے کے قابل ہو۔ چینی کی صنعت کو اس لئے بھی باقی شعبوں سے زیادہ توجہ حاصل رہتی ہے کیونکہ اس میں ہماری سیاست کے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اور چینی کے صنعتکاروں کا آپس میں گہرا گٹھ جوڑ ہے اور یہی آپسی تعلق کی بنا پر چینی کے صنعتکار ایک مافیا کی مانند کام کر کے اپنے منافع اور کاروباری مفاد کیلئے عوام کے استحصال کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔ یہی استحصالی گٹھ جوڑ ملک میں عوام کو چینی کی خریداری کیلئے صنعتکاروں کو کئی ارب اضافی دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نجی شعبہ ہمیشہ سے ہی کار خانوں کی سرکاری ملکیت کا مخالف رہا ہے کہ اس کے مطابق ایسا کرنے سے مقابلے کی فضا قائم نہیں رہ پاتی مگر نجکاری کے بعد ان بڑے کھلاڑیوں نے بھی وہی کچھ کیا جس کی وہ پہلی مخالفت کرتے آئے تھے۔ حکومت کی جانب سے کمزور قانون سازی اور ان صنعتی کارٹیلز کو باز رکھنے کیلئے ریاستی طاقت کے استعمال میں شش وپنج اور تاخیرکے باعث یہ اس قدر طاقتور ہو گئے کہ انہوں نے فری مارکیٹ معیشت ہونے کے باوجود قیمتوں تک کو اپنے قابو میں رکھنا شروع کر دیا۔
فری مارکیٹ یا کھلے مقابلے کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کے حامیوں کا یہ ماننا ہے کہ قیمتوں کے اس طور پر تعین سے خریداروں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ اس طرح مقابلے کی فضا میں اضافہ ہوتا ہے جس کا نتیجہ اشیاء کے معیار میں بہتری اور قیمتوں میں کمی کی صورت نکلتا ہے۔ یوں خریدار کے پاس چناؤ کی بہتر سہولت موجود ہوتی ہے۔ وہ ہمیں اس بات پر قائل کرنے پر مصر ہیں کہ فری مارکیٹ معیشت ہی خریدار کے مفاد کی ضامن ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ آزاد منڈی کو ضابطوںکے مطابق نہ کرنا بڑے کاروباری افراد کی طرف سے عوام کے استحصال کی راہیں کھول دیتا ہے۔ امریکہ سے لیکر یورپی اتحاد تک اور وہاں سے لیکر پاکستان اور بھارت تک میں ہماری تحقیق نے یہی آشکار کیا کہ بڑے سرمایہ دار یونہی پیداوار اور رسد کو اپنی گرفت میں رکھ کر اپنے منافع میں اضافہ کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کارٹیلز کے اثر ورسوخ اور گٹھ جوڑ کو توڑنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ مذکورہ معاملے میں ابھی وزیراعظم عمران خان کوئی بھی اقدام لینے سے پہلے فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں مگر حکومت کیوں اب تک ایسی پالیسی نہیں بنا پائی جو ان کارٹیلز کی کمر توڑ کر عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکیں؟
(بشکریہ دی نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)