فراہمی انصاف میں خلل نہ آنے دیں

حالات جیسے ہی نامساعد اور مشکل کیوں نہ ہوں فراہمی انصاف میں کوئی خلل نہیں آنا چاہئے کیونکہ عام طور پر نظام کی کمزوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شرپسند عناصر مختلف وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں اس لئے دریں حالات وزیراعظم عمران خان کی طرف سے آن لائن کھلی کچہریوں کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر 10وفاقی وزارتوں کے 24اداروں کیلئے ایس او پیز تیار کئے گئے ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے پی ایم ڈلیوری یونٹ کو کھلی کچہریوں کو مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ کورونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کھلی کچہریوں کی اجازت دی گئی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری کئے گئے ہدایت نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے کھلی کچہریاں مستقل بنیادوں پر کام کریں گی اور حالات کی بہتری کیساتھ ہی روبرو کچہری کا انعقاد ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو بڑھتی آبادی کی وجہ سے فراہمی انصاف میں مسائل کا سامنا ہے۔ دریں حالات اگر انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے تو متاثرین کی دادرسی کیساتھ ساتھ زیرالتوا کیسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے’ پاکستان میں کئی مقدمات دہائیوں تک چلتے رہے ہیں بلکہ دوسری نسل میں کیسز کے فیصلے آنے کی مثالیں موجود ہیں’ یہی وجہ ہے کہ قانون کی زبان میں انصاف میں تاخیر کو انصاف سے انکار کہا گیا ہے۔ پاکستان میں انصاف کی فوری فراہمی ہمیشہ ایک خواہش رہی ہے لیکن دو اقدام سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فوری انصاف کی فراہمی کا خواب اب پورا ہونے جا رہا ہے’ ماڈل کورٹس کے قیام سے بھی فوری انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی اور آن لائن کھلی کچہریاں بھی اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ اعلانات کے مطابق ان اقدامات پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی ہوگا۔
پاورسیکٹر میں کرپشن کا انکشاف
چینی اور آٹا بحران کے ذمہ داروں کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پاور مافیا کیخلاف ایکشن لیا ہے’ پاور سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں قومی خزانے کو 100ارب روپے سے زائد کرپشن کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے’ اس حوالے سے بننے والی کمیٹی نے پاور پلانٹس کیساتھ ہونے والے معاہدوں کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا انکشاف کیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب 2008ء میں پرویز مشرف کا دوراقتدار ختم ہوا اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو ملک بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار تھا’ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بسیار کوشش کی لیکن توانائی بحران پر مکمل طور پر قابو نہ پایا جاسکا’ یوں کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو توانائی بحران لے ڈوبا’ مسلم لیگ ن نے توانائی بحران کو حل کرنے کے وعدے پر حکومت حاصل کی اور اقتدار کے ابتدائی سالوں میں ہی توانائی کے بحران پر قابو پا لیا اور عوام نے توانائی بحران کے خاتمے کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو دیا، تب سے لیکر اب تک معاملات یونہی چلتے رہے لیکن اب جا کر عقدہ کھلا ہے کہ پاور سیکٹر میں بھی بے پناہ کرپشن کی گئی ہے’ اب چونکہ پاور سیکٹر میں سکینڈل سامنے آگیا ہے تو ضروری ہے کہ اس سکینڈل کی تمام تر تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔