لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمدکی ضرورت

کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مؤثر ترین حکمت عملی لاک ڈاؤن ہے۔ چین سمیت جن ممالک نے کورونا وائرس پر قابو پایا ہے وہاں پر لاک ڈاؤن پر مکمل طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔ امریکہ اور اٹلی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد اب مکمل لاک ڈاؤن ہے جبکہ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ جب تک ملک میںکورونا وائرس کی ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی تب تک زندگی معمول پر نہیں آسکے گی اور شہریوں کو کچھ پابندیوں کیساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ پاکستان میں اگرچہ 22مارچ سے اصولی طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے تاہم مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہ ہونے کی بنا پر گزشتہ روز کراچی اور لاہور میں بڑے پیمانے پر کورونا کے متاثرین کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں ایک دن کے دوران ریکارڈ 15ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 86ہوگئی جبکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد 5ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، کراچی کے جن گلی محلوں میں کورونا کیسز سامنے آئے ہیں انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ سندھ میں کورونا وائرس سے صورتحال خراب ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہ ہونا ہے’ اسی طرح پنجاب میں بھی کورونا کے مریضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے بعد لاہور کے متعدد علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ پشاور کے ایک ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں ضروری اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ 22مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان تو کر دیا گیا لیکن عملاً جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا کیونکہ لاک ڈاؤن کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر آجا رہی تھی’ حکام کی طرف سے لاک ڈاؤن میں دوسری غلطی یہ کی گئی کہ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کیا گیا یعنی 22مارچ سے 5اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا بعدازاں اس مدت میں توسیع کرتے ہوئے 14اپریل تک کر دیاگیا’ اس کا نقصان یہ ہوا کہ 5اپریل کے بعد کچھ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے ازخود ہی لاک ڈاؤن ختم کر دیا۔ حکام کی جانب سے لاک ڈاؤن کے ضمن میں اب بھی ایک اور غلطی کی جا رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت ختم ہونے میں محض ایک روز باقی ہے جبکہ اس کی مدت میں توسیع کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے حالانکہ لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع انتہائی ضروری ہے اور اس توسیع کا اعلان کم ازکم تین روز قبل ہو جانا چاہئے تھا تاکہ عوام لاک ڈاؤن کی مدت ختم سمجھ کر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اب اگر حکومت تاخیر سے فیصلہ کرتی بھی ہے تو قوی اُمید ہے کہ اس وقت تک بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکل چکے ہوں گے جو یقیناً کورونا کے پھیلاؤ کا باعث بنیں گے۔ دوسری جانب حکام کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان تو کر دیا گیا لیکن اس حوالے سے جو ضروری اقدامات اُٹھانے چاہئے تھے اور جس سختی سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروانا چاہئے تھا حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان کی وہ سوچ تھی جس کے مطابق ”اگر ہم نے لاک ڈاؤن کیا تو پاکستان کے عوام بھوک کی وجہ سے مر جائیں گے” وزیراعظم عمران خان کی طرح بہت سے دیگر اہل دانش کی رائے بھی یہی تھی کہ مکمل لاک ڈاؤن سے اجتناب کیا جائے کیونکہ پاکستان بڑی آبادی والا ملک ہے جہاں شہروں میں گنجان آبادیاں قائم ہیں’ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور غریب آبادیوں کے مسائل اپنی جگہ مگر اب دنیا کی طرح پاکستان کی صوبائی قیادت بھی اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ لاک ڈاؤن پر مکمل عمل درآمد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ جسے اپنا کر کورونا سے بچا جاسکے۔ قدرت نے ہمیں ایک عرصہ تک کورونا کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھا اسے وارننگ اور غنیمت جانتے ہوئے ہمیں اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اُٹھانے چاہئے تھے لیکن ہم نے کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یوں وزیراعظم عمران خان کے خدشات درست ثابت ہوئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”کورونا پھیلے گا’ اسے پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہے” تاہم جب تک کورونا وائرس کی ویکسین تیار نہیں ہوتی اس وقت تک کورونا سے بچنے کا واحد اور مؤثر ترین حل لاک ڈاؤن پر مکمل عمل درآمد اور احتیاطی تدابیر ہیں’ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں کورونا سے نمنٹے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں اور مناسب ہوگا کہ حکومت تنہا فیصلے کرنے کی بجائے اپوزیشن کی جماعتوں کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کرے اور پھر ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی حکومت کے پیش نظر یہ پہلو بھی ہونا چاہئے کہ ہمارا صحت کا شعبہ اس قدر فعال نہیں ہے جس طرح کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ہمیں ضرورت ہے’ نہ ہی ہماری معاشی حیثیت اس بحران سے نمٹنے کی صلاحیتی رکھتی ہے اس لئے خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت کو قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے’ یاد رہے اگر اب بھی ہم نے فیصلے کرنے میں تاخیر کردی تو خدانخواستہ ہم بڑی تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
تاجر برادری کا لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا ازخود فیصلہ
پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں حالیہ ایک دو ہفتوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام بالخصوص تاجربرادری گھروں میں بیٹھنے یا کاروبار بند کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تاجروں کی طرف سے کاروبار کھولنے کیلئے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے یہاں تک کہ بعض علاقوں میں تاجروں نے ازخود لاک ڈاؤن ختم کرکے دکانیں بھی کھول لی ہیں۔ تاجر برادری کو یہ بات شدت کیساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان وہ ازخود نہیں کرسکتے ہیں’ یہ خالصتاً مملکت کا معاملہ ہے اور یہ کسی کے کاروبار کو بند کرنے کیلئے یا کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بظاہر مشکل فیصلہ کیاگیا ہے کیونکہ اگر لاک ڈاؤن نہیں کرتے ہیں تو کورونا سے بڑی تباہی کے خطرات سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ کورونا کے حالیہ پھیلاؤ سے تاجر برادری کو محض کاروباری نقصان ہو رہا ہے لیکن انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ جان بچے گی تبھی کاروبار ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تاجر برادری کو یہ باور کرا دے کہ اگر تاجروں نے لاک ڈاؤن کو ازخود ختم کرنے کی کوشش کی تو حکومت کے پاس آخری حل کے طور پر فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ ہی ہوگا۔ حالیہ لاک ڈاؤن میں کم ازکم نظام زندگی تو چل رہا ہے اگر فوج تعینات کر دی گئی تو نظام زندگی کے متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔