ہنوز دلی دور است

یہ پچھلے سال کے وسط کی بات ہے جب (ق) لیگ اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔ ق لیگ کا خیال تھا کہ اگر اس مرحلہ پر نون لیگ اس کا ساتھ دے تو پنجاب میں نئی حکومت سازی کا ڈول ڈالا جاسکتا ہے۔ ق لیگ کے دو اہم ارکان جن میں ایک سابق سینیٹر بھی شامل ہیں میاں شہباز شریف سے ملے بھی تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ ق لیگ کا دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف کے لگ بھگ 17ارکان ان کے ہم خیال ہیں۔ اب اگر نون لیگ ساتھ دے تو معاملہ آگے بڑھایا جائے۔ جاتی امراء کا خیال تھا کہ ق لیگ کی پیشکش قبول کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پنجاب میں چودھریوں کی حکومت قبول کرلی جائے۔ چند دن کے صلاح مشورے کے بعد چودھری پرویز الٰہی کے نامہ بر کو بلا کر بتایا گیا کہ ہم پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کیلئے تعاون کریں گے لیکن ق لیگ اس عمل سے قبل وفاقی حکومت سے الگ ہو اور ثانیاً یہ کہ وزیراعلیٰ نون لیگ کا ہوگا۔ یہ اگست 2019ء کے وسطی دن تھے’ تب یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کے بزدار مخالف 35ارکان نون لیگ سے رابطے میں ہیں۔ نون و ق کے رابطوں کی خبر اسلام آباد پہنچی تو جہانگیر ترین کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، شفقت محمود اور اسد عمر بھی اس میں شامل تھے، پھر خطرات ٹل گئے، معاملات طے پاگئے۔ گو ان طے شدہ نکات پر عمل نہیں ہوا مونس الٰہی اب تک وفاقی وزیر نہیں بن سکے۔ یہ کہنا کہ کرپشن کے کچھ پرانے الزامات کی وجہ سے عمران خان اسے وزیر نہیں بنانا چاہتے درست نہیں کیونکہ وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان ایسے الزامات کی زد میں رہے کچھ کیخلاف نیب میں تحقیقات ہو رہی تھی جو ختم یا رکوائی گئی۔ وزیراعظم اور مونس الٰہی کے درمیان کچھ ذاتی اختلافات ہیں اور یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اب جمعہ کے روز مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے اپنے چھوٹے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے ہمراہ چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی تو نون لیگ والے اس ملاقات کو کسی ممکنہ تبدیلی کا ابتدائیہ قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا مجاہدین کا خیال ہے کہ پانی پت کا نیا معرکہ برپا ہونے کو ہے لشکری جنگی لباس پہن رہے ہیںیا گھوڑوں پر زینیں ڈالی جا رہی ہیں۔ سوال پھر وہی ہے کہ اگر اس حالیہ ملاقات سے تبدیلی کشید کرنی ہے تو کیا نون لیگ پنجاب چودھریوں کے حوالے کردے گی؟
سادہ سا جواب ہے کہ بالکل نہیں کیونکہ نون لیگ پنجاب کے اقتدار اعلیٰ پر اپنا خاندانی اور سیاسی حق سمجھتی ہے۔ ثانیاً یہ کہ ان دنوں نون لیگ ایک داخلی بحران سے بھی دو چار ہے، اس کے لگ بھگ 22ارکان پنجاب اسمبلی وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے رابطہ میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ سے پچھلے دنوں ملاقات کرنے والے اپنے 6ارکان کو نون لیگ باقاعدہ شوکاز نوٹس دے چکی ہے۔ درون خانہ صورتحال سے آگاہ راوی کہتے ہیں کہ کورونا وبا کا معاملہ ہر چیز اتھل پتھل کرگیا ورنہ نون لیگ کے لگ بھگ 12ارکان پنجاب اسمبلی کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات طے تھی۔ ملاقات کرنے والے 6ارکان کے علاوہ ان 12 ارکان کو بھی گورنر چودھری سرور نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات پر آمادہ کیا، یہ رابطے سال بھر سے جاری تھے پچھلے سال جب ق اور نون والوں کے درمیان رابطے ہوئے تھے تو تب چودھری یہ خطرہ محسوس کر رہے تھے کہ اگر تحریک انصاف کو اعلانیہ طور پر نو ن لیگ کے 20 سے 25 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی تو ان کا سیاسی وجود غیر اہم ہو جائے گا۔ خواجہ سعد رفیق کی بھائی کے ہمراہ چودھری پرویز الٰہی سے حالیہ ملاقات کو نئی سیاسی ڈش کے طور پر پیش کرنے والوں کاخیال ہے کہ چونکہ اس ملاقات سے قبل میاں شہباز شریف سعد رفیق کے گھر گئے تھے ان کی رہائی پر مبارکباد دینے اس کے بعد سعد رفیق نے پرویز الٰہی سے ملاقات کی تو اندر کھاتے کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔ مگر یہ ملاقات تو ذاتی سپاس گزاری کیلئے تھی کیونکہ چودھری برادران خواجہ برادران کی گرفتاری پر کبھی بھی خوش نہیں تھے۔ ایک سے زیادہ مواقع پر وہ اس گرفتاری کو غلط کہہ چکے۔ خواجہ برادران کیلئے چودھری خاندان کی محبت کا سیاسی سے زیادہ خاندانی رفاقت اور تعلق سے عبارت پس منظر ہے۔ 1970ء کی دہائی میں جب لاہور میں خواجہ برادران کے والد خواجہ محمد رفیق ایک تنازعہ میں قتل ہوئے تو نوائے وقت کے مالک مجید نظامی نے اس قتل کو سیاسی رنگ دیکر بھٹو حکومت کو قتل کاذمہ دار ٹھہرایا اور چودھری ظہور الٰہی سے درخواست کی کہ خواجہ محمد رفیق کے خاندان کی کفالت کریں۔ کفالت کا یہ سلسلہ 1988ء تک چلا، سعد اور سلمان رفیق کی تعلیم و تربیت میں چودھری خاندان کا ہاتھ ہے۔ خواجہ محمد رفیق کی اہلیہ کو پہلی بار پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست بھی چودھری شجاعت کے کہنے پر ملی تھی۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے روز خواجہ برادران کی سپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات ذاتی سپاس گزاری کی ملاقات تھی کیونکہ دونوں بھائیوں کی رہائی میں چودھری خاندان کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس ملاقات سے مستقبل کا سیاسی منظر نامہ کشید کرنا درست نہیں ہوگا۔ جاتی امراء کے مکین کبھی بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی قیمت پر چودھریوں سے سودا نہیں کریں گے، دھڑے بندیوں کی سیاست کے ماہر چودھری بھی بہرطور موجودہ پوزیشن میں نون لیگ کی طرف نہیں جائیں گے۔ فی الوقت یہ کہنا کہ اسلام آباد میں کوئی کھچڑی پک رہی ہے، وفاقی حکومت کو مالکان رخصت کرنا چاہتے ہیں یا نون لیگ نے کوئی متبادل ضمانت حاصل کرلی ہے درست نہیں۔ عدم اعتماد کی کوئی تحریک پیپلز پارٹی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ پیپلز پارٹی عمران خان کی سربراہی والی حکومت سے تعاون نہیں کرے گی۔ شوگر سکینڈل اتنی بڑی وبا نہیں ہے کہ حکومت ہلا کر رکھ دے اورہمارے ملتانی مخدوم کی ہینگر پر لٹکی شیروانی الماری سے نکل کر تن مبارک پر آجائے۔ ملاقات سے لطف لیجئے اور نتائج نکال کر پیش کرنے والوں کو داد دیجئے۔ جی بہلانے کا سامان بھی ہے اور ناراض گروپ کو یہ پیغام بھی کہ معاملات طے پا گئے ہیں ہم آرہے ہیں سارے دکھ دور ہوجائیں گے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ”ہنوز دلی دور است”۔