بھارت اس وقت بھی باز نہیں آیا

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا ہلاکت خیز وباء کی لپیٹ میں ہے، بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ اور بمباری عالمی سطح پر قابل مذمت واقعات ہیں۔ پاک فوج کے چوکس جوانوں نے گزشتہ روز کنٹرول لائن پر جو بھارتی ڈرون مار گرایا تھا اس شرمندگی کو چھپانے کیلئے بھارت معصوم سویلین آبادی پر غصہ اُتار رہا ہے، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں سویلین آبادی کے قریب اور آبادی کے وسط میں بھاری ہتھیار اور توپخانہ نصب کر کے کنٹرول لائن کے اس پار آبادی کو مزید ہراساں کر رہا ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل کے قانون کے نفاذ کی مزاحمت کو دبانا ہے، اس طرح سے بھارت مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو دوہری طرح پریشان کر رہا ہے۔ اس موقع پر بھارت کو اس امر کی بھی پرواہ نہیں کہ عالمگیر وباء کے باعث دنیا کے ممالک کے درمیان تلخیاں پس منظر میں جارہی ہیںلیکن بھارت اس موقع کو بھی اپنی سازشوں کو بڑھانے اور نفرت کو ہوا دینے کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر قابض فورسز کے مجرمانہ اقدامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ان تشویشناک حالات میں بھی بھارتی قیادت اپنی جارحانہ سوچ سے رجوع پر آمادہ نہیں، اس وقت جب دنیا امن کیلئے پرعزم ہے بھارت بدستور نفرت کی سیاست اور جارحیت کی راہ پر گامزن ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان پر بھی کان دھرنے کی زحمت گوارہ نہ کی جنہوں نے عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور دنیا کے ممالک سے اپیل کی تھی کہ تصادم سے گریز کریں۔ اس اپیل پر یمن سمیت کئی تنازعات میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا مگر بھارت نے اس کا اُلٹا اثر لیا اور مقبوضہ کشمیر میں جارحیت اور مظالم دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ اب لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کرنے لگا ہے، ان واقعات کے بعد دنیا کو کوئی شبہ نہیں رہ جانا چاہئے کہ اس خطے کے امن سے کھلواڑ بھارتی قیادت کا مطمح نظر ہے۔ اشتعال انگیز بھارتی اقدامات کا جواب دینا پاکستان کی مجبوری ہے، اس حساس صورتحال میں بھارت کو راہ راست پر لانا عالمی برادری کا مشترکہ فریضہ ہے، عالمی برادری کو خود لاک ڈاؤن کی اذیت سے گزرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور مشکلات کا شکار عوام کے مصائب کا اب اندازہ اور احساس ہو جانا چاہئے اور اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
مہمند قبیلے کا جرگہ ختم کیا جائے
مہمند قبیلے کے اکابریں اور افراد کا کورونا کے باعث لاک ڈاؤن اور دفعہ144 کے باوجود مہمند باجوڑ حدبندی تنازعہ کے باعث جرگہ نام پر دس روز سے جس سرگرمی میں مصروف ہیں حکام کا اس کا نوٹس نہ لینا نہ صرف حکومتی اقدامات کی ناکامی کا باعث ہے بلکہ جرگے میں شامل افراد اور ان کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ ہی خطرے سے دوچار ہے۔ خدا نخواستہ مجمع میں اگر کوئی ایک بھی کورونا وائرس کا شکار شخص انجانے میں شامل ہو جائے تو اس کے نتائج کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں ان کے مطالبات اور طرزعمل سے اس لئے اختلاف ہے کہ ایک اجتماعی نوعیت کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے جہاں مساجد میں نماز باجماعت ادائیگی ممنوع قرار دی گئی ہے وہاں احتجاج کے حق کو مؤخر نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ جو مصاحبین جرگے میں ثالثی کیلئے تشریف لائے ہیں یا پھر جرگہ کے عمائدین ان سب کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ فی الوقت اس سرگرمی کو معطل کردیں اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے اجتناب کریں، اور مقامی انتظامیہ اجتماع پر پابندی کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کی ذمہ داری پوری کرے۔
قابل رشک عمل
محکمہ مال سوات کے تین اہلکاروں کا کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کے غسل اور تدفین کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھانا قابل تقلید مثال ہے، ایک ایسے وقت میں جب میت اور مردے کے حقوق کا خیال رکھنا خود ان کے عزیز واقارب اور معاشرے کیلئے نہایت مشکل ہوگیا ہے ایسے میں ڈاکٹروں اور محکمہ مال کے عملے کی طرف سے اس ضمن میں خدمات کی انجام دہی خدمت نہیں بلکہ سب سے بڑی عبادت اور کارثواب ہے۔ علمائے کرام اور مدارس کے طلبہ سے بھی اس قسم کے مثالی کردار کی بجاطور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی میت کی شرعی حقوق اور شریعت کے مطابق غسل دینے اور تدفین تک کے مراحل میں رضاکارانہ طور پر آگے آکر لوگوں کی مدد اور رہنمائی کریں گے۔ محکمہ مال سوات کے اہلکاروں کا جذبہ ایثار وقربانی قابل صد تحسین اور معاشرے کیلئے روشن مثال ہے جن کیلئے حکومت تحسین کا کوئی اقدام کرتی ہے یا نہیں، معاشرہ ان کو داد تحسین دیتا ہے یا بخل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ان لوگوں کیلئے مالک کائنات کے ہاں خصوصی اجر وثواب کی قوی اُمید بلکہ یقین کیساتھ اس امر کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ ان کیلئے تو یہ توشہ آخرت بنے گا اور رب کائنات کے رحم وکرم کے حقدار ٹھہرائے جائیں گے۔