تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کے بعد۔۔

لفظ تاریخ، عبرانی زبان سے عربی میں آیا ہے۔ اس کا مادہ ارخ، یورخ، تاریخاً ہے، اس کے لفظی معنی ہیں،درج کرنا۔۔ انسان جب اس دنیا میں آیاتو پڑھنا لکھنا جانتاتھا کیونکہ قرآن کریم میں حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشیاء کے نام وغیرہ سکھانے کا ذکر موجود ہے یا جب سے انسان پڑھنا لکھنا سیکھنا سکھانا شروع کیا تو اُس وقت اقوام پر آئے،گزربے واقعات کو اُن کے بڑوں نے اپنی اولادوں کے سامنے بھی اپنے انداز میں رکھا ہوگا کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہونے کیساتھ ساتھ ضرورت بھی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ معلوم تاریخ کی ابتداء وہاں سے ہوتی ہے جہاں سے قرآن کریم نے لوگوں کو بتایا۔قرآن کریم کے نزول سے قبل بھی تورات، زبور اور انجیل میں انبیاء کے قصے اور واقعات درج تھے اور ان کتب کے ماننے والے اپنی نسلوں کو سناتے اور سکھاتے آئے ہیں لیکن ان کتابوں میں دست برد زمانہ اور انسانی مزاج وخواہشات کے اثرات اُس وقت واضح طور پر سامنے آئے جب قرآن کریم نے اہم تاریخی واقعات کو اصلاح (تحصیح) کیساتھ بقدر ضرورت بیان کیا۔
قرآن کریم نے حضرت آدم کے قصے کو متعدد بار اجمال کیساتھ بیان فرمایا ہے، اس کے بعد حضرت نوح پھر ابراہیم اور پھر اسباط ابراہیم کے واقعات مختلف پیرایوں میں قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔ قرآن کریم کا اپنا اسلوب سارے علوم کے حوالے سے اپنی نوعیت کا منفرد ہے۔کیونکہ قرآن کریم بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاتم النبیینۖ پر بنی نوع انسان کی رشد وہدایت کیلئے نازل ہوا ہے لہٰذا تاریخ اور تاریخی واقعات کے حوالے سے کتاب مبین کا فلسفہ یہ ہے کہ واقعات ایسے انداز میں اُس حد تک بیان کئے جائیں جہاں تک انسان کے بطور سبق وعبرت ضروری ہے۔قرآن کسی بھی تاریخی واقعے اور قصے کے غیرضروری حصوں کو ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔
اس حوالے سے ذرا دیکھئے کہ آدم کے قصے میں انسان کیلئے کیا اسباق ہیں ایک یہ کہ آدم اس کائنات کے پہلے انسان اور ساتھ ہی پہلے نبی ہیں اور حضرت آدم اور حضرت حوا بطور انسان برابر حقوق کیساتھ اس دنیا میں تشریف لائے اور حضرت حوا کا آدم کو جنت سے نکالنے میں کوئی کردار یا قصور نہیں تھا جبکہ قرآن کریم میں اس وضاحت سے پہلے دنیا کے سارے مذاہب میں آج تک حضرت حوا کو اس کا قصوروار قرار دیتے ہوئے ایک طویل زمانے تک دنیا کی ساری عورتوں کو بھی اس کا حصہ دیا جاتا رہا۔
دنیا کی تاریخ کا دوسرا بڑا واقعہ جس کا قرآن میں ذکر ہے طوفان نوح ہے۔سورة نوح میں اس کا بہت عبرت انگیز انداز میں ذکر ہے کہ نوع جیسے اولوالعزم پیغمبر اپنی قوم کے بداعمالیوں سے آخر اتنے تنگ آئے کہ پکار اُٹھے کہ ”رب، زمین پر کافروں کی ایک بستی بھی باقی نہ رہے” طوفان نوح نے سب کو ڈبو دیا اور کشتی نوح سے اُتر کر چند اہل ایمان نے دوبارہ کائنات کو آباد کرنا شروع کیا۔اس کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے مل کر تعمیر کعبہ تک تاریخ انسانی اگر کہیں بیان ہوئی ہے تو اندازوں، تصورات، تخمینوں اور شاید وباید کے تحت بیان ہوئی ہے اور اس میں انسان نے اپنی سوچ وفکر وشہادت وغیرہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خواہشات ومفادات کا بھی خیال رکھا۔
ہندوئوں کے ہاں تو تاریخ درج کرنے یا لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔ہزاروں صفحات کی مذہبی کتب میں تاریخ کے نام پر بے بنیاد قصوں کے علاوہ کچھ نہیں۔
حضرت ابرہیم کے بعد حضرت عیسیٰ تک جتنے انبیاء کرام تشریف لائے ان میں سے بڑے بڑے انبیاء کے بڑے بڑے واقعات مثلاً حضرت ابراہیم کا آتش نمرود میں پھینکا جانا، حضرت اسماعیل کی ذبح کیلئے حضرت ابراہیم کا تیار ہونا اور تعمیر کعبہ اور اس کے طواف کیلئے حضرت ابراہیم کی منادی واعلان وغیرہ۔ پھر حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ۔ حضرت صالح اور قوم ثمود اور لوط اور عادوغیرہ کے قصے کفار مکہ اور بنی نوع انسان کیلئے قیامت تک قرآن کریم کے ذریعے محفوظ کئے گئے تاکہ عبرت وتذ کیر حاصل کی جاسکے۔
حضرت عیسیٰ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں زندہ اُٹھایا جانا اور بعضوں کو یہ شبہ ہونا کہ آپ صلیب پر چڑھائے گئے،کتنا بڑا واقعہ ہے۔قرآن کریم نے کس خوبصورت اور دوٹوک انداز میں عیسیٰ کی پیدائش سے لیکر رفع تک کے واقعات کس اجمالی تفصیل کیساتھ بیان فرمائے ہیں۔ خاتم النبیینۖکی بعثت تاریخ انسانی کا سب سے بڑا واقعہہے، اس سے پہلے عرب واقعہ ابرہہ سے تاریخ کا تذکرہ کرتے تھے۔لیکن ہجرت کے بعد دنیا کے سارے واقعات اس تاریخی واقعہ کے بعد ماند پڑ گئے ہیں ۔ ہجرت نبیۖآج بھی دنیا کو پوری اسلامی تاریخ کی یاد دلاتی ہے اور مسلمانوں کیلئے لازمی ہے کہ اس کو یاد رکھے اور اپنے تقویموں کو اس کے مطابق کر لیں کیونکہ دنیا کے دیگر واقعات تواریخ میں درج تو ہیں لیکن ان کے سند کے بارے میں آج بھی ابہامات موجود ہیں۔ کورونا وائرس بھی انشاء اللہ گزر جائیگا اگرچہ کہا جاتا ہے کہ دو عظیم جنگوں کے بعد یہ تاریخ انسانی کے برے واقعات میں شامل ہوگا۔ ہوسکتا ہے لیکن ہماری دعا ہے کہ یہ اتنی بڑی اہمیت حاصل نہ کرے۔ ہاں مسلمانوں کیلئے بالخصوص اور انسانوں کیلئے بالعموم اس میں بڑی اہمیت تب ہو سکتی ہے جب دنیا توبہ تائب ہو کر خاتم النبیینۖ کے لائے ہوئے اُس نظام حیات کی طرف پلٹے جو پاک صاف، طیب ومنفرد، عدل وانصاف پر مبنی اور بنی نوع انسان اور پوری کائنات کی بقاء وحفاظت کی ضامن ہے۔
تنگ آجائے گی خود اپنے چلن سے دنیا
تجھ سے سیکھے گا زمانہ تیرے اندازکبھی