ازسرنو معاہدے میں عوامی مفاد کا خیال رکھا جائے

ماضی وحال کی حکومتوں کے بعض فیصلے پاکستانی عوام کو بھگتتے بھگتتے زمانہ گزر گیا، حکمرانوں کے فیصلوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ کتنے ہی قومی منصوبے اور معاہدے حکمرانوں کی غفلت کے باعث ملک وقوم کیلئے دردسر بن چکے ہیں، کتنے منصوبے کروڑوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود شروع نہ ہوسکے اور کتنے منصوبے محض حکمرانوں کے غلط فیصلوں کے باعث عالمی عدالتوں تک چلے گئے۔ وطن عزیز کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہر آنے والا حکمران ہر کہ آمد عمارت نوساخت کے مصداق اپنے فیصلے کرتا رہا، نئی بوتل میں پرانی شراب انڈیلنے میں ملکی خزانے کو کتنا خسارہ ہوا، اس کا کسی کو ادراک نہیں یا پھر حکومتی عناصر کو اس سے سروکار نہیں رہا۔ کئی ایسی مثالیں موجود ہیں اس کی تازہ مثال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام احساس پروگرام رکھنے کی خاطر جو پاپڑ بیلے گئے اس کے نتیجے میں ایک بنا بنایا نظام بگڑ گیا جس کے مظاہر لوگوں کے سامنے ہے۔ اس نظام میں اصلاحات اور غیرمستحقین کو نکالنے کافیصلہ احسن تھا، اگر تبدیلی کو اس حد تک ہی رہنے دیا جاتا تو آج گھروں میں بیٹھی خواتین کو پہلے کی طرح منظم طریقے سے وظیفہ مل جاتا۔ اس ضمن میں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ حکومت تین ماہ کا یکمشت وظیفہ بارہ ہزار روپے جاری کر کے اس کو امداد کانام دے رہی ہے جس کی تصدیق پروگرام کی سربراہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کی اور ساتھ ہی میزبان کا اس سوال پر شکریہ بھی اداکیا۔ معلوم نہیں ہمارے حکومتی نظام میں اصلاحات پر کب توجہ دی جائے گی اور درست فیصلہ کرنے کی نوبت کب آئے گی؟ جو ہوچکا سو ہو چکا کے مصداق کم ازکم موجودہ حکومت ماضی کی غلطی نہ دہرائے۔ اصلاح کی ابتدا اگر بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے نئے معاہدے کے وقت کی جائے تو بہتر ہوگا۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں بجلی کا بحران اور نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والے اداروں سے معاہدے کر کے بجلی کی پیداوار میںاضافہ کے جو معاہدے کئے گئے اس میں ملی بھگت اور ان معاہدوں کے عوامی مفاد میں نہ ہونے کے معاملات اعلیٰ سطح پر اُٹھائے گئے، تحقیقات بھی ہوئیں مگر رفتہ رفتہ سب معاملات دب گئے۔ اب ایک مرتبہ پھر حکومت بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے نئے معاہدے کرنے کے مذاکرات کررہی ہے۔یہ معاہدے پانچ سالہ مدت کیلئے کئے گئے تھے، جس کو گزرے عرصہ گزر چکا ہے مگر حکومت نے ابھی تک ان معاہدوں پر ازسرنو معاملات کرنے کو ٹالا ہوا ہے۔ یہ معاہدے جس وقت کئے گئے تھے، اسی وقت نشاندہی کی گئی تھی کہ ان معاہدوں کی شرائط ہر لحاظ سے پاکستان کیخلاف تھیں۔ ان معاہدوںمیں بجلی پاکستانی روپے میں خریدنے کے بجائے امریکی ڈالر میں خریدنے کی شرط مانی گئی تھی جس کا خمیازہ پاکستانی قوم گزشتہ25برسوں سے بھگت رہی ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ان کمپنیوں سے جان چھڑائی جائے اور جو بھی شرائط طے کی جائیں انہیں خفیہ رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاملات میں شفافیت رہ سکے۔ ایسے معاہدوں کو خفیہ رکھنا ہی کرپشن کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بہتر ہوگا کہ ان معاہدوں پر دستخط سے قبل انہیں مشتہر کیا جائے تاکہ ان میں کسی طرح کا ابہام نہ رہے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ خفیہ ڈیل کی گئی ہے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو سے لے کر اب تک جتنی حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے والے ان نجی اداروں سے جو جو معاہدے کیے ہیں، انہیں بھی پبلک کیا جائے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ اب تک ان اداروں کو کتنی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ ان اداروں کے اصل مالکان کے نام بھی سامنے لائے جائیں تاکہ پاکستان کے عوام یہ جان سکیں کہ ان میں اور معاہدے کرنے والی حکومتوں کے درمیان کیا تعلق تھا۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے یہ نجی ادارے قوم کی گردن پر بیٹھے وہ سفید ہاتھی ثابت ہوئے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو مزید قرضوں تلے دبنا پڑا اور آج ملک کے بجٹ کا نصف سے زائد حصہ محض سود کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔ یہ سود کی ادائیگی ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف کی ہر جائز و ناجائز کو طوعاً وکرھاًماننے پر مجبور ہے۔بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ماضی کی حکومتوں نے کیا غلطیاں کیں اور اس وقت نامناسب شرائط پر معاہدے کیوں کئے گئے اس سے قطع نظر اب حکومت کے پاس ان معاہدوں کو مناسب بنانے کا موقع ہے جسے ضائع نہ کیا جائے علاوہ ازیں بجلی کی ملکی پیداوار میں اضافہ اور بحران پر قابو پانے کے بعد اب حکومت کڑی شرائط کی بجائے موزوں شرائط پر معاہدے کرنے کی پوزیشن میں ہے جس کا فائدہ اُٹھایا جانا چاہئے۔
سزا کا دوہرا معیارکیوں؟
احساس ایمرجنسی پروگرام کے تحت امداد کی تقسیم کے موقع پر معاشرتی فاصلے کی خلاف ورزی ہوتی ہے، مفت درسی کتب کی تقسیم ہو یا سرکاری حکام کا خود جمگھٹا لگانا یا پھر بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلنے کے مناظر، صوبے میں اس قسم کے مظاہر عام ہیں، ایسے میں ایک پرائمری سکول کے اساتذہ کیخلاف ہی اقدام کسی صورت منصفانہ نہیں۔ احتساب اور انصاف کا اصول بلاتخصیص ہونا شرط ہے، اگر امتیازی سلوک ہو اور کمزوروں پر قانون لاگو اور بااثر وطاقتور کو استثنیٰ حاصل ہو تو پھر یہ انصاف نہیں ظلم کے زمرے میں شمار ہوگا۔ معاشرتی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر دنیا بھر میں سزا وجرمانے ہو رہے ہیں، ہمارے ہاں بھی اس کی ضرورت ہے یا تو ہمارے حکام پولیس افسران کی لاک ڈاؤن کی پابندی کو یقینی نہ بنانے پر، شہریوں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں پر اور حکمرانوں کو ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے تحفظ کے اقدامات میں ناکامی پر قصوروار ٹھہرا کر سزا دیں یا پھر پرائمری سکول کے ان دو اساتذہ کو بھی ان مشکل حالات میں معطل کرنے کی سزا کی بجائے وارننگ دیکر چھوڑ دیا جائے اور آئندہ اس امر کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے کہ حکومتی فیصلوں اور اقدامات پر عمل درآمد یقینی ہو۔