تبدیلی کا نہیں تعاون کا وقت

کورونا کی وباء پر قابو پانے کی جدوجہد اور حکومتی مساعی کیساتھ ساتھ چیف جسٹس گلزار احمد خان نے حکومتی معاملات سے متعلق دوران سماعت جن خیالات کا اظہارکیا اگرچہ وہ عدالتی احکامات کے زمرے میں نہیں آتے، عدالتی حکمنامے میںمشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا بھی حکم نہیں دیا گیا لیکن معززعدالت کے چیف جسٹس کے یہ خیالات حکومت کیلئے کئی حوالوں سے مثبت نہیں بلکہ اس سے عوام میںحکومت کے حوالے سے منفی تاثرات کو اُبھار ملے گا۔ ایک عام آدمی ججوں کے اٹارنی جنرل اورقانونی ٹیم سے مکالمہ اورعدالت کے تحریری احکامات میں فرق سے بالکل واقف نہیں، ایسے میںمیڈیا میں عدالت میں ہونے والی گفتگو نہ صرف اس وقت بلکہ قبل ازیں کی حکومتوں میں”عدالتی فعالیت ”کی اصطلاح کیساتھ بڑی اہمیت اختیار کر گئی تھی جس کے اثرات سے حکومت، ادارے اور عوام کوئی بھی اثر لینے سے رہ نہیں گئے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میںاس قسم کے معاملات کو حکومت کیخلاف عدم اعتماد اور کشمکش وتبدیلی سے تعبیر کرنے کا رواج پرانا ہے، ماضی کے بر عکس اس وقت کورونا وباء کے باعث ملک خاص طور پر نازک حالات کا شکا رہے، معاشی حالات اور لاک ڈائون کے سنگین ہوتے معاملات حکومت اور عوام کیلئے نہ صرف لمحہ موجود میں سخت حالات اور مشکلات کا باعث ہیں بلکہ حکومت کو سیاسی طور پر بھی کمزور بنا دینے والے عوامل کی بات ہورہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مل جل کر کام کرنے کا وقت ہے حکومت کی کارکردگی پر سوالات اُٹھانا سیاسی جماعتوں ہی کا کام ہے، اس ضمن میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا یہ ٹویٹ نہایت صائب ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں مگر کورونا بحران کے دوران سب اداروں اور سٹیک ہولڈرز کی تمام تر توانائیاں متاثرین کی خدمت پر صرف ہونی چاہئے۔ کورونا کے بجائے حکومت سے نجات پر توجہ دی تو معرکہ سر نہیں ہوسکے گا۔ سیاست کو ریفریجریٹر میں رکھیں، مخلوق خدا کی خدمت کیلئے یکسو ہو جائیں۔ چیف جسٹس نے حکومتی کارکردگی کے حوالے سے جو سوالات کئے ہیں حکومت کا کٹہرے میں ان کے جواب دینے میں ناکامی اس امر کا عملی اعتراف ہے کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکی، جو وعدے اور دعوے کئے گئے تھے عوام کی عدالت میں اس کا اُلٹ چلنے کا الزام اب تقریباً ثابت ہونے کو ہے۔ اس ساری حقیقت کے باوجود اس امر کی وکالت ممکن نہیں کہ حکومت کو کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں مطعون کیا جائے۔ اس وقت ملکی قیادت وسیاستدانوں اور عوام سب کی توجہ اور توانائیاں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کی طرف ہوں تو بہتر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ تمام عوامل کے باوجود چیف جسٹس کے یہ ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ضرور ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت کی اجازت سے آٹا بھیجا گیا،پھر چینی بھی حکومت ہی کی اجازت سے باہر بھیجی گئی، پھر میڈیکل آلات حکومت کی اجازت سے امپورٹ کی جائیں گی۔ صوبائی حکومتیں کچھ اور کررہی ہیں اور مرکزی حکومت کچھ اور کررہی ہے۔ چیف جسٹس کے اس مشورے پر حکومت کو عمل کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پرلانے کیلئے صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں، عدالت میں حکومتی وزراء اور مشیروں کے حوالے سے جو ریمارکس آئے اس کے بعض حصے خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ اس ساری صورتحال میں مکمل قومی یکجہتی ہی اُمید اور روشنی کی وہ کرن نظر آتی ہے جو مطلوب بھی ہے اور ضروری بھی۔ حکومت پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کو تیار نہ ہو اور وزیراعظم اس وباء کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مواصلاتی کانفرنس کو سنجیدگی سے نہ لینے کا عملی مظاہرہ کر چکے ہوں تو جس قسم کے سوالات اُٹھیں گے حکومت کو سیاسی جماعتوں، عوام یہاں تک کہ عدالتوں میں بھی جوابدہی میں ناکامی ہوگی، تو اس کا الزام کس کو دیا جائے اس سوال کا جواب حکومت خود دے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے روئیے اور طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ان کو اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ ہر قیمت پر حکومت کی تبدیلی کی ملک کو کیا قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور اس کے نتائج کیا نکلے ہیں۔