خطرہ ابھی ٹلا ہرگز نہیں

بلاول بھٹو اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بجاطور پر درست کہتے ہیں کہ ”معیشت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے مرنے والے لوگ نہیں” لاریب حالات ویسے ہرگز نہیں جیسے تسلی بھرے بیانات ہیں۔ کرونا متاثرین اور مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس وبا سے مرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 97ہو چکی ہے اور مریض5730 ہیں۔ پنجاب کے محکمہ صحت نے سوموار کو ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ بیرون ملک سے آکر غائب ہو جانے والے 7ہزار افراد کی تلاش جاری ہے۔ محکمہ داخلہ نے ان افراد کی تلاش علاج معالجے کیلئے صوبہ بھر کے کمشنروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران بیرون ملک سے 68720افراد پنجاب آئے، ان میں سے 61606افراد کو ٹریس کر لیا گیا جبکہ 7ہزار افراد کی تلاش جاری ہے۔ غائب افراد میں اٹلی، برطانیہ، فرانس، امریکہ، انڈونیشیا، ملائشیا، اسپین، سعودی عرب، عراق اور دیگر ممالک سے آنے والے شہری شامل ہیں۔ مختصراً یہ کہ جن خدشات اور دیگر معاملات کے حوالے سے ان کالموں میں پچھلے مہینہ بھر سے عرض کرتا آرہا ہوں اب وفاقی اور پنجاب کی حکومت نہ صرف ان کی تصدیق بلکہ یوں کہیں اعتراف پر مجبور ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس وقت بھی 5066افراد مختلف قرنطینہ میں مقیم ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کورونا وائرس کی آڑ میں مسلکی نفرتوں کا کاروبار کرنے والوں کے بارے میں گزشتہ روز جن خیالات کا اظہار کیا وہ بجا مگر بہت تاخیر کر دی۔ بنیادی طور پر ان کی وزارت کا فرض تھا کہ وہ عمرہ اور زیارت کے زائرین کے حوالے سے ابتدا ہی میں قوم کے سامنے حقیقت حال رکھتے۔ثانیاً یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک سے آکر غائب ہو جانے والوں کی تعداد بارے جو اعداد وشمار سندھ اور پنجاب کے حوالے سے سامنے آئے وہ تشویشناک ہیں۔ روحانی اور دیسی سائنسدانوں بارے قبل ازیں عرض کرچکا ان میں سے ایک گروپ پانچ وقت کے وضو کو کورونا کاعلاج بتا رہا ہے، دوسرا مقامی موسمی حالات اور پاکستانیوں کی سخت جانی کو، طبی اصولوں کی روشنی میں دونوں غلط ہیں بدقسمتی یہ ہے کہ ان روحانی ودیسی سائنسی ماہرین کا سوفٹ ویئر اب ڈیٹ کرنے کا ہمارے یہاںکوئی انتظام نہیں۔ ستم یہ ہے کہ اگلے روزہمارے قابل احترام دوست حضرت مولانا فضل الرحمن نے سوال کھڑکا دیا ، دو لوگ بازاروں میں اکٹھے ہو سکتے ہیں تو مساجد میں کیوں نہیں؟ مولانا مذہبی رہنما ہیں، سیاست دان بھی مگر ان کے وسیع مطالعے اور معاملہ فہمی کی وجہ سے ہمیشہ یہ عرض کیا کہ دیگر مذہبی سیاستدانوں سے مختلف ہیں۔ موجودہ حالات میں ان کا سوال عجیب سا لگا۔ کیا قبلہ یہی سوال سعودی عرب، شام اور عراق کی حکومتوں سے کرنا پسند کریں گے کہ کیوںمقدس مقامات سے ملحقہ مساجد میں نماز پنچگانہ اور جمعہ کی ادائیگی کو محدود کر دیا گیا؟ بعض مقامات پر تو پابندی بھی ہے۔ ہمارے مذہبی رہنما نیم خواندہ معتقدین کے جذبا ت سے کھیلتے ہیں، یہ اچھی بات ہر گز نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ لاک ڈائون سے دیہاڑی داروں اور سفید پوشوں کے مسائل بڑھے ہیں لیکن وفاق تو اعتراف کر رہا ہے کہ ہمیں15جنوری سے صورتحال کا ادارک تھا لاک ڈائون اس ادراک کے دو ماہ اور کچھ دن بعد شروع ہوا وہ دو ماہ برباد کیوں کئے گئے؟ وفاق نے صوبوں کیساتھ ملکر حکمت عملی وضع کیوں نا کی؟ وفاق اور صوبوں میں محبت زم زم جس طور ابل ابل رہا ہے اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم کی اطلاعات ونشریات کیلئے خاتون مشیر کے بیانات اور سیاسی مخالفین پر تابڑتوڑ حملے محبت کے سیلاب زم زم کا زندہ ثبوت ہیں۔ ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک جن مسائل اور خصوصاً کورونا وائرس کی وجہ سے جن حالات سے دوچار ہے ایسے میں کامل اتفاق رائے کیساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے مگر پچھلے تین دنوں کے دوران نصف درجن کے قریب وفاقی وزراء جس طرح سندھ حکومت پر حملہ آور ہوئے اور جیسے چند خودساختہ ترجمان گفتگو فرما رہے ہیں اس پر آگ بھڑک تو سکتی ہے قومی یکجہتی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ سندھ حکومت کا یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کے پی اور پنجاب میں مخصوص علاقوںمیں مکمل لاک ڈائون کے عمل کی تعریف کی جاتی ہے مگر یہی اقدام سندھ میں ہو تو نوکیلے سینگوں کا استعمال شروع ہو جاتا ہے؟ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر لاک ڈائون کا فیصلہ نہ ہوتا تو حالات پر قابو پانا ممکن نہیں تھا گو اب بھی مثالی صورتحال نہیں پھر بھی بہت بہتر ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم آفتوں، مشکلات اور وبائوں کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنے، سمجھنے کی بجائے عقیدوں کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ جس طرح طب کے پاس عبادات کے اصول نہیں اس طرح مذاہب اور عقیدوں کے پاس بیماریوں، مشکلات اور وبائوں کا کوئی علاج نہیں۔ دعائیں برحق ہیں لیکن اگر ساتھ میں دوائیں (ادویات) نہ ہوں تو یہ خودکشی کی ایک کوشش ہی کہلائے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پنجاب میں 3ہزار زائرین اور 11ہزار کے قریب تبلیغی جماعت کے لوگوںکو قرنطینہ میں رکھنے کے بعد ان کے آبائی شہروں کو روانہ کردیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی نے بیماری کو آبیل مجھے مار کے مصداق گلے نہیں لگایا تھا یا خوشی سے بیمار لوگوں کیساتھ مقیم نہیں تھے، اکثریت صحت مندوں پر مشتمل ہے مگر ان کیلئے جو حفاظتی اصول اپنائے گئے وہ بہت ضروری تھے، ان اقدامات کو فرقہ پرستی کا رزق بنانے کی بجائے انسانیت کی خدمت کے طور پر لیا جانا ضروری ہے۔