زمینی ارتعاش میں کمی

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 18لاکھ52ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ14 ہزار تک پہنچ چکی ہے تاہم4لاکھ23ہزار سے زائد افراد وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ یورپ میں عالمی وباء کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 75ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن میں سے80فیصد ہلاکتیں صرف چار ممالک اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ میں ہوئیں۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد19ہزار899 تک پہنچ گئی جبکہ اسپین میں مرنے والوں کی تعداد17ہزار209 ہو گئی ہے۔ فرانس میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید561افراد لقمہ اجل بن گئے، اب تک 14ہزار 393افراد ہلاک اور ایک لاکھ32ہزار 591متاثر ہو چکے ہیں۔ امریکا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے، اب تک وائرس سے ساڑھے5 لاکھ سے زیادہ امریکی متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بائیس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ نیویارک سٹی میں تعلیمی ادارے پورے سال کیلئے بند کئے گئے ہیں، نیویارک، نیوجرسی، مشی گن، لوزیانا اور میسا چوسٹس امریکا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستیں ہیں، نیویارک میں ایک روز میں مزید758 افراد ہلاک ہوگئے۔ نیویارک سٹی کے میئر نے بیس اپریل سے کھلنے والے تعلیمی اداروں کو سارا سال بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ملک بھر میں 30 اپریل تک لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق اگر30اپریل کو پابندیاں اُٹھائی گئیں تو گرمیوں کے موسم میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ برطانیہ میں مرنے والوں کی تعداد دس ہزار612 ہوگئی، جرمنی میں بھی عالمی وباء سے اب تک 3ہزار22افراد ہلاک اور ایک لاکھ27ہزار854 متاثر ہوچکے ہیں جبکہ برطانیہ میں24گھنٹوں میں مزید737ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، مرنے والوں کی تعداد10ہزار612ہو گئی جبکہ 84ہزار279سے زائد متاثر ہیں۔
جہاں کرونا نے امریکا کو اپنی لپیٹ میں جکڑ لیا ہے وہاں دنیا میں حالات تیزی سے ایک نئی کروٹ لے رہے ہیں۔ کئی ممالک حرص مفادات میں کھیل کھیلنے میں مشغول ہیں، امریکا ایسے حالات میں چاند اور مریخ پر جاکر وہاں کھدائی کے اختیارات کا بل کانگریس میں پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ مریخ اور چاند میں تیل کے ذخائر کے آثار پائے گئے ہیں، اس کے علاوہ دنیا کی نظریں جہاں کورونا کی تباہ کاریوں پر ہیں وہاں یہ شنید بھی ہے کہ امریکا سعودی عرب سے امریکی فوجیں نکالنے کی تیاریوں میں ہے جس کو مبصرین یمن کیساتھ جنگ بندی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں تاہم یہاں یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ کیا سعودی حکومت امریکی فوج کا علاقہ سے انخلاء برداشت کر پائے گی جبکہ ایسے حالات میں کہ ترکی لیبیا پہنچ گیا ہے، جہاں اس وقت شدید ترین لڑائی جاری ہے۔ اس وقت ترکی کی علاقائی حکمت عملی کامیابی سے جاری ہے جو امریکا کیلئے پریشان کن ہے، ترکی نے فوری طور پر اسرائیل کو کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے طبی سامان اور اس سے متعلق آلات کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، اسرائیل کے پاس کرونا وباء سے نمٹنے کیلئے آلات اور ادویہ وغیرہ کی شدید کمی ہے۔ ترکی نے امداد کا بیٹرہ اُٹھا کر علاقہ میں صورتحال کو ایک نیا موڑ دیا ہے کیونکہ قبرص کے معاملے میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی ہے اور اس طرح ترکی نے ایک اہم کامیابی حاصل کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے۔ بھارت بھی بھریا میلے میں ہاتھ رنگنے میں لگا ہے اس نے بھی افغانستان کو چاہ بہار بندرگاہ کا پہلی مرتبہ استعمال کرتے ہوئے افغانستان کو کئی ارب روپے کی ملیریا سے روک تھام کی ادویات اور خوراک کا سامان بھیجا ہے تاکہ خود کو افغانستان میں مستحکم کر سکے۔
ادھر جہاں کرونا کی وجہ سے تباہی، اُجاڑ اور خوف وہراس پھیلا ہوا ہے وہاں اس کی بناء پر کئی سائنسی تبدیلیاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اداروں نے جو رپورٹس جاری کی ہیں اس کے مطابق دنیا بھر میں اربوں افراد کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے گھروں تک محدود ہیں یا ان کی نقل وحرکت محدود ہے جس کی وجہ سے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام یا تفریح کی غرض سے ٹرینوں اور گاڑیوں کا سفر بہت کم رہ گیا ہے اور بہت سے بھاری کارخانے بھی بند ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر انسانی سرگرمیوں میں کمی سے زمین کی سطح پر پیدا ہونے والا ارتعاش بھی کم ہو گیا ہے جو زمین کے کل وزن چھ سو ارب کھرب ٹن کے پیش نظر واقعی حیران کن بات ہے۔ بلجیم میں رائل آبزر ویٹری کے سائنسدانوں نے اس بات کو سب سے پہلے محسوس کیا، ان کا کہنا ہے کہ ”زمین کی تھرتھراہٹ کی فریکوئنسی1-20ہرٹز کے درمیان ہے اور ایسا سماجی پابندیاں لگنے کے بعد سے ہوا ہے۔ یاد رہے کے ایک سے بیس ہرٹز کی فریکوئنسی سے نکلنے والی آواز ایک بڑے گٹار یا موسیقی کے بڑے آلے سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ نیپال میں زلزلوں کے ماہرین سیسمولوجسٹ نے بھی اس ارتعاش میں کمی کو محسوس کی ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قائم پیرس انسٹی ٹیوٹ آف ارتھ فزکس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پیرس میں یہ کمی بڑی ڈرامائی ہے۔ امریکہ کی کال ٹیک یونیورسٹی لاس اینجلس میں ماہرین نے اس کو شدید قرار دیا۔ کورونا وائرس صرف اسی طرح ہماری زندگیوں پر اثرانداز نہیں ہو رہا بلکہ قدرتی دنیا پر بھی اس کا واضح اثر پڑ رہا ہے۔ سائنسدانوں نے گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں اور بجلی بنانے والے کارخانوں سے نکلنے والی نائٹروجن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں کمی کو بھی محسوس کیا ہے۔ دنیا پہلے سے خاموش ہے، واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے کی ویب سائٹ پر سیسمولوجسٹ اینڈی فراستو نے کہا کہ ”آپ کو ایسے سگنل مل رہے ہیں، جن میں شور کم ہے جس کی وجہ سے زیادہ معلومات اخذ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے” تاہم کچھ سائنسدانو ں کا اتفاق نہیں ہے وہ ارتعاش کی کمی پر فکرمند بھی ہیں۔