زندگی اور زندگی کا پہیہ دونوں اہم ہیں

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب میں خاصے پراعتماد نظر آئے اور کورونا کے جو اعداد وشمار اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے پیش کئے وہ بھی اس لحاظ سے حوصلہ افزا تھے کہ کورونا کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں اب متاثرین ہونے والوںکی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب روز اول کے مقابلے میں وائرس کے پھیلاؤ کی سطح صرف پچیس فیصد رہ گئی ہے۔ عمران خان نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ ماہرین اور حکومت کے اندازے کے مقابلے میں کورونا کے نقصان اور پھیلاؤ کا تناسب صرف تیس فیصد رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جزوی لاک ڈاؤن میں توسیع کیساتھ ساتھ رمضان المبارک کے حوالے سے اس میں کچھ نمایاں نرمی کی گئی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کا طریقہ ہی کورونا کے کنٹرول میں ممد ومعاون ثابت ہوا۔ اب جن دکانوں کو مزید کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے ان سے عام آدمی کا واسطہ روزانہ پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بازار میں گزشتہ لاک ڈاؤن کی نسبت رش بڑھ جائے گا۔ ان حالات میں معاشرتی دوری کے اصول پر کس حد تک عمل درآمد کیا جا سکے گا؟ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں فاصلے کے اصول پر عمل درآمد خاصا مشکل ہوگا۔ یہ کورونا کیخلاف جنگ کے سب سے بڑے ہتھیار کو کمزور کرنے کے مترادف تو نہیں ہوگا ایسے میں جبکہ کورونا کا خطرہ پوری قوت سے سروں پر منڈلا بھی رہا ہے۔ یہ معاملہ پہلے ہی سندھ اور وفاق کے درمیان کھٹ پھٹ اور بیان بازی کی وجہ بن کر رہ گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان تاجر برادری کے دباؤ میں ہیں اور ہماری قومی رسم وریت کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ تاجر برادری کیلئے جائز وناجائز کمائی کا سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔ اس لئے رمضان المبارک میں تاجر برادری کسی طور کاروبار بند رکھنے پر آمادہ نہیں ہو سکتی۔ کاروبار کا پہیہ رواں رکھنا ضروری ہے مگر پہئے کی روانی کیلئے زندگی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ان دو حقیقتوں کے درمیان اب حکومت کو حکمت اور تدبر سے ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ کاروبارحیات مکمل طور پر ٹھپ بھی نہ ہو مگر کورونا کا خطرہ بھی کم سے کم ہوتا جائے۔ اس دوران عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان جیسے چھہتر ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ان ملکوں کی طرف سے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کو ایک سال کیلئے مؤخر کر دیا جائے گا۔ یہ کورونا بحران کے باعث لڑکھڑاتی اور ڈولتی ہوئی معیشتوں کیلئے فوری اور بڑا سہارا ہے۔ اربوں روپے کی جو قسط قرض کی ادائیگی کی نذر ہونا تھی اب ترقی پذیر ملکوں کے پاس ہی رہے گی اور وہ اسے معیشت کی بہتری اور استحکام کی خاطر استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ملنے والے ریلیف کے اثرات عام آدمی تک منتقل کریں گے۔ حکومت نے شرح سود میں دوفیصد کمی کردی ہے، اس سے پہلے بھی دو فیصد سود کم کیا گیا تھا اور یوں مجموعی طور پر مختصرعرصے میں چار فیصد کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے سے تیرہ سوارب کی بچت ہوگی۔ پاکستان کی معیشت کیلئے آگے کئی سخت مقام آنا ابھی باقی ہے۔ کورونا بحران سے پیدا ہونے مسائل کے باعث شرح نمو میں کمی ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ یوں معیشت کو ایک سنگین دھچکا لگ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کی قسط کا ایک سال تک التوا کچھ دوسری سہولیات کے بعد معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا کسی حد تک ازالہ کیا ممکن ہو سکتا ہے۔ کورونا بحران نے دنیا کی مضبوط اور کمزور ہر معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ سیاحتی مراکز ویران ہیں، صنعتوں کا پہیہ جام ہو چکا ہے، ایئرپورٹس بند ہیں، جہاز ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں، بازار سائیں سائیں کر رہے ہیں، گاڑیوں کے انجن ٹھنڈے پڑے ہیں، درآمدات اور برآمدات کے معاملات رک گئے ہیں، یہ کسی ایک ملک کا حال نہیں بلکہ مشرق سے مغرب تک پوری دنیا اس وقت نبضِ زندگی کے رک جانے اور زندگی کے ٹھہر جانے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ چین اور امریکہ جیسی طاقتور معیشتوں میں یہ حالات ایک زلزلہ برپا کر رہے ہیں مگر جن معیشتوں میں دم ہے وہ اس جھٹکے اور معاشی بھونچال کو سہ جائیں گی اور وہ اس وقت بھی کورونا کے نقصانات سے نمٹنے کیلئے بہتر منصوبہ بندی کر رہی ہیں، اپنے محصور اور مقید عوام کو سہولیات فراہم کر رہی ہیں مگر جو ملک پاکستان کی طرح پہلے ہی قرض کی مے پر چل رہے تھے ان کیلئے یہ صورتحال کسی صدمے سے کم نہیں۔ ایسے میں وفاقی حکومت کی طرف سے دیہاڑی دار طبقے کیلئے ایک سو چوالیس ارب کے پیکج کی منظوری بھی بہت بڑا قدم ہے گوکہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے مگر پاکستان کی معیشت کی موجودہ حالت زار کے پس منظر میں یہ بھی ایک بڑا فیصلہ ہے۔ حکومت نے تعمیراتی صنعت کیلئے ایک رعایتی پیکج تیار کر لیا ہے جس سے پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریوں کا ایک راستہ کھل جائیگا اور دیہاڑی دار طبقے کیلئے یہ ایک اچھا موقع ہوگا۔ یوں یہ توقع کی جارہی ہے کہ کورونا بحران سے لگنے والے دھچکے سے ملک اگلے چند ماہ میں ہی سنبھل جائیگا۔ تاہم ملکی معیشت میں بہتری کے حقیقی اثرات عام آدمی کی زندگی میں نظر آنا لازمی ہیں۔