وزیر اعظم عمران خان کے خدشات

وزیر اعظم عمران خان نے مئی میں کورونا کے پھیلائو میں اضافے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک قومی بحران ہے' اس پر سیاست نہ کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے پوری قوم کو نقصان ہوگا' وزیر اعظم عمران خان نے عندیہ دیا کہ 15سے 20مئی تک مشکل صورتحال ہوگی' لوگ بھوک سے سڑکوں پر آگئے تو لاک ڈائون کا فائدہ نہیں ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس جس ملک میں بھی گیا ہے کچھ ہی عرصہ میں پھیل گیا' چین کے بعد امریکہ و یورپ اس کی واضح مثال ہیں' برطانیہ نے بھی کورونا کو سمجھنے میں غلطی کی کہ نہیں پھیلے گا لیکن نہ صرف یہ کہ برطانیہ میں کورونا بری طرح پھیلا بلکہ برطانوی وزیر اعظم بھی اس سے متاثر ہوگئے۔ ہمارے ہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ پاکستان میں کورونا نہیں ہے لیکن اگر خدانخواستہ وزیر اعظم عمران خان کے خدشات درست ثابت ہوئے تو ہمارا کیا ہوگا کیونکہ پاکستان کے پاس اس درجے کے وسائل ہیں، نہ ہماری معیشت اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی ہمارا شعبہ صحت اس وباء سے نمٹنے کی سکت رکھتا ہے' اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کیا جائے اور لاک ڈائون میں کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہ دی جائے کیونکہ فی الوقت لاک ڈائون ہی کورونا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
لاک ڈائون کو سخت کرنے کی ضرورت
خیبر پختونخوا حکومت نے لاک ڈائون میں نرمی کے بعد عوام کی کثیر تعداد کا بازاروں کی طرف رخ کرنے کے بعد حجام' درزی اور دیگر دکانوں کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے' حکومت نے تعمیراتی شعبے اور ضروری تجارتی مراکز کھولنے کی اجازت دی تھی مگر تاجروں نے ازخود پورے بازار کھول دئیے جس کے بعد انتظامیہ کو لاک ڈائون کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عوام کی غالب اکثریت کورونا کو سنجیدہ لینے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی اس ضمن میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے حالانکہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کورونا پر قابو پا سکتے تھے لیکن روز اول سے ہی عوام اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے تیار نہ تھے۔ عوام کو یہ بات بڑی شدت کیساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا ایک مہلک اور جان لیوا وائرس ہے تاحال جس کی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے' دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کورونا کی وجہ سے سخت پریشان ہیں' ان ممالک کی معیشت تباہ ہونے کیساتھ ساتھ عوام بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں لوگ جان سے گئے کیونکہ انہوں نے شروع میں احتیاط نہیں برتی اور کورونا پھیل گیا۔ یاد رہے جب کورونا پھیل جاتا ہے تو پھر اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمیں قدرت کی طرف سے ملی مہلت کو غنیمت جاننا چاہئے اور ایسا کوئی بھی اقدام اُٹھانے سے گریز کرنا چاہئے جو کورونا کے پھیلنے کا سبب بنتا ہو۔
وزیر اعظم کی پولیس کو ہدایت
وزیر اعظم عمران خان نے پولیس کی جانب سے عوام کو لاک ڈائون کی خلاف ورزی پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس عوام کو ڈنڈے مارنے کی بجائے لاک ڈائون سے متعلق سمجھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کی ٹریننگ اور تربیت بالکل مختلف ہے' موجودہ صورتحال میں بلا شبہ پولیس کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں تاہم پولیس کو خیال رکھنا چاہئے کہ جن لوگوں پر وہ لاٹھیاں برسا رہے ہوتے ہیں وہ کوئی مجرم نہیں ہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں گھر سے نکلے ہوں' گزشتہ دنوں ٹرک میں سفر کرتے ہوئے 10کے قریب مزدوروں کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے فاصل جج کے سامنے کہا کہ شہر کراچی میں مزدوری ختم ہونے کی وجہ سے بیروزگار ہوگئے تھے، گھر جانے کیلئے کوئی راستہ دکھائی نہ دیا تو ٹرک میں سفر کرنے پر مجبور ہوئے اور ٹرک والے کو بھی ڈبل کرایہ ادا کیا تاکہ اپنے بیوی بچوں کے پاس پہنچ سکیں۔ اس طرح کے متعدد واقعات موجود ہیں جن میں مجبوری نمایاں طور پر محسوس کی جاسکتی ہے لیکن عام پولیس والوں کی چونکہ تربیت میں یہ امور شامل نہیں ہوتے اس لئے وہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کے درد کا بروقت ادراک کرتے ہوئے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں اب پولیس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ لاک ڈائون پر عمل درآمد کیلئے احتیاط کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔