بنک اوقات، کمپنی ڈرائیوروں اور قیدیوں کی شکایات

ورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون سے درپیش مسائل اور مشکلات کے حوالے سے کئی قارئین نے اپنے پیغامات بھیجے ہیں۔ بینکوں کے اوقات کار، کریم سروس کے ڈرائیوروں کے مراعات کی کٹوتی، جیل کے اندر قیدیوں کی بارکوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بندش اور کئی دیگر مسائل کا تذکرہ ہے۔ ہمارے ایک قاری نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بینکوں کے اوقات کار نو بجے کی بجائے دس بجے کرنے کا قدم کئی لحاظ سے درست نہیں، گرمی میں دس بجے بینکوں کے باہر قطار بنانا مشکل ہے، رمضان المبارک میں تو یہ بالکل بھی درست نہیں۔ اکثر لوگ نو بجے ہی پہنچ جاتے ہیں اور دس بجے تک برانچ کھلنے کے انتظارمیں خواہ مخواہ کارش بن جاتا ہے۔ مضافات میں تو لوگ آٹھ بجے ہی پہنچ جاتے ہیں اوپر سے لوگوں کے بیٹھنے اور انتظار کرنے، پانی اور سایہ کا کوئی بندوبست نہیں ایسے میں برانچیں اگر آٹھ بجے ممکن نہ ہو تو مقررہ وقت نو بجے ہی پر کھولے جائیں۔ ایک گھنٹہ کی تاخیر کا کوئی فائدہ نہیں الٹا عوام کو مشکل پیش آتی ہے۔ بینکوںکے اوقات کار میں ایک گھنٹے کی تاخیر سے لاک ڈائون اور سماجی فاصلہ رکھنے میں کیا مدد مل سکتی ہے، اسے میں خود بھی غور کے باوجود نہ سمجھ سکی۔ جو صورتحال قارئین نے بیان کی ہے اور جن مسائل کی نشاندہی کی ہے اس کے پیش نظر نوبجے کا وقت موزوں نظر آتا ہے۔ سٹیٹ بینک کو جہاں فیصلے میں اپنی مصلحت درکار ہوںوہاں عوام کی مشکلات کا بھی اگر جائزہ لینے کی زحمت کی جاتی تو عوام کو آج اس نئی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ گرمی، رمضان اور صبح جلدی ہونے کے باعث بینکوں کے اوقات کار میں تبدیلی پر توجہ دی جانی چاہئے نیز بینکوں کے باہر عوام کیلئے سائباں کا بندوبست کیا جائے۔ بینکوں کی جانب سے کسی بھی اے ٹی ایم کیساتھ سینی ٹائزر رکھنے کی تو پابندی ہی نہیں ہورہی ہے لوگوں کا سینی ٹائزر کی بوتل اُٹھا لے جانا اپنی جگہ بنک گارڈ کے پاس اگر گیٹ پر سینی ٹائزر کی بوتل رکھ دی جائے تو کم ازکم بینک کے اوقات کار کے دوران تو صارفین کے ممکنہ تحفظ کی کوشش ہو سکتی ہے۔ بینکوں میں حفاظتی اقدامات اور ایس اوپیز کی خلاف ورزی کا سٹیٹ بنک فوری نوٹس لے اور کورونا وائرس کے پھیلائوں کا باعث بننے والے بینکوں کی برانچیں بند کردی جائیں۔ عوام کو بھی اس پر احتجاج کرنا چاہئے، میڈیا کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت بھی اس سنگین غفلت کانوٹس لے۔ ایک قاری نے بڑا دلچسپ میسج بھیجا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن دونوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ گھر پر نماز ادا کریں گے تو مساجد میں باجماعت نماز کیلئے وہ زور کیوں دے رہے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے علماء احتیاط کے قائل ہیں لیکن وہ کسی ایسے فتویٰ اور فیصلے سے گریز کرتے ہیں جس کی جواب دہی کے دن جواب دینا مشکل ہو۔ علماء نے جن شرائط کے تحت مساجد میں نماز کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، اولاً اس پر عمل درآمد سے احتیاط کے وہ درجے بھی لازم ہیں جن پر خود ہمارے حکمران، انتظامیہ اور پبلک کوئی بھی عمل نہیں کرتا۔ اگر مساجد میں احتیاط اور حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں، سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے، جس عمر اور صحت کی صورتحال کے لوگوںکو نماز باجماعت کی ادائیگی کیلئے آنے سے منع کیا گیا ہے اگر وہ اس کی پابندی کریں تو احتیاط کے تقاضے پورے ہوں گے۔ جہاں تک محولہ علمائے کرام کی بات ہے ان کی عمریں پچاس سال سے زائد ہیں جو اس ضابطہ اخلاق کے تحت مسجد نہیں جا سکتے، جس پر علماء اور حکومت نے اتفاق کیا ہے۔ دوم یہ کہ فتویٰ دیکر دوسروں کو روکنا مشکل اور خود مسجد کی بجائے گھر پر نماز کی ادائیگی کا اعلان کر کے لوگوں کو عملی ترغیب دینا زیادہ مؤثر ہے۔ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جب خود علمائے کرام ازراہ حفاظت واحتیاط گھر میں نماز پڑھنے کا اعلان کر رہے ہیں تو وہ بھی ان کی پیروی میں گھروں ہی پر نماز پڑھیں۔ بنوں جیل سے ایک قیدی عالم دین نے جیل میں قیدیوں کی بیروکوں میں سینکڑوں قیدیوں کو اکٹھا رکھنے اور کسی قسم کے حفاظتی اقدامات اور صفائی نہ ہونے پر قیدیوں میں کورونا کی وباء پھوٹ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ حکومت کہتی ہے مناسب فاصلہ نہ رکھنے سے کورونا لگنے کا خطرہ ہے، یہاں تک کہ مساجد میں نماز باجماعت بھی مختصر اور پانچ افراد پر مشتمل ہونی چاہئے تو جیل میں قیدیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کیوں نہیں؟ جیل میں قیدی اپنے جرم کی سزائیں بھگت رہے ہیں وہ اپنی جگہ، ان کو سزا قانون نے دی ہے لیکن قانون کے تحت ان کے جو حقوق ہیں اور ان کی زندگی وصحت کے تحفظ کے جو تقاضے ہیں اس کا حکومت کو پاس کیوں نہیں؟ سوال بالکل درست اور شکایت بالکل بجا ہے، صوبائی حکومت کو قیدیوں کے تحفظ میں غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ عدالتوں کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ کریم کمپنی سے وابستہ ایک ڈرائیور نے شکایت کی ہے کہ مسافروں کی تعداد میں کمی نہ ہونے بلکہ اضافہ کے باوجود کمپنی نے ان کی 35فیصد مراعات بند کردی ہیں۔ ایک خاص شرح سے شیئر کمپنی ان سے باقاعدگی سے حاصل کررہی ہے، کمپنی تو نقصان نہ ہونے اور ڈرائیوروں کو معاہدے کے باوجود مراعات سے محرومی کا نوٹس لیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی سفری سہولت دینے والے اداروں کیلئے بھی حکومت باقاعدہ قوانین وضع کرے اور اس کی پابندی کرائی جائے۔ حکومت اگر ان کمپنیوں سے ٹیکس لے سکتی ہے تو قوانین بنانے اور لاگو کرنے میںکیا امر مانع ہے۔ سواریوں اور ڈرائیوروں دونوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں۔قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔