کورونا کا پھیلائو، نامور معا لجین کاانتباہ اوراپیل

پی ایم اے(پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن)نے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں ملک میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور مساجد کھولنے کے فیصلوں کو واپس لیا جائے، ادھر کراچی میں کل طبی ماہرین کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے ملک کے نامور معالجین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے تناظر میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ معالجین نے کہا ہم انسانیت کی خاطر اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں علمائے کرام سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور مساجد نہ کھولیں۔ صحت کیلئے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا نے بدھ کی سپہر معمول کی بریفنگ میں کہا کہ اگلے تین سے چار ہفتے اہم ہیں، وائرس کے پھیلاؤ کی بلند ترین سطح مئی کے آخر اور جون میں متوقع ہے۔ ملک بھر سے موصول اطلاعات کے مطابق 16اپریل تک مجموعی طور پر کورونا کے 6772کیسز تھے جبکہ اگلے چار دنوں کے دوران ان میں 2692مریضوں کا اضافہ ہوا۔ معروف طبی ماہرین اور سماجی خدمات کے حوالے سے معروف شخصیات کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں سختی نہ کی گئی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ افسوناک بات یہ ہے طبی ماہرین کی اپیل اور مشوروں پر ملک اور عوام کے مفاد میں غور وفکر کی بجائے وفاقی حکومت کی ایک ترجمان نے اس انتباہ کو سیاست کہہ کر مسترد کرایا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، پہلے ایک ہفتے کے دوران کورونا کے مریضوں کی تعداد میں جس تیزی کیساتھ اضافہ ہوا وہ تشویشناک ہے۔ اس اضافے کی وجوہات سب کے سامنے ہیں، لاک ڈاؤن میں نرمی سے سماجی فاصلوں کا عمل غیر مؤثر ہوا۔ بازاروں میں لوگوں کا ہجوم کسی احتیاطی تدابیر کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں، یہ غیرذمہ دارانہ طرزعمل اصل میں بعض شخصیات کے رویوں، غیر حقیقت پسندانہ بیانات اور ناخواندگی سے عبارت ٹوٹکوں کی بھرمار کا نتیجہ ہے۔ اس امر پر دو آرا ء نہیں کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ مسائل فقط اہل پاکستان کیلئے خاص بالکل نہیں پوری دنیا میں یہی صورتحال ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے دو روز قبل خود یہ کہا کہ نماز وتراویح کیلئے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل کیا جانا چاہئے، عدم احتیاط سے کورونا پھیلا تو ہم مساجد بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن دوسری طرف حالات کی سنگینی میں جس طور اضافہ ہورہا ہے وہ اس امر کا متقاضی ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول وزیراعظم وزرائے اعلیٰ اور دیگر شخصیات ایک بار پھر باہم ملکر بٹھیں اور صورتحال پر غور کریں۔ ملک میں اس وقت کورونا مریضوں کی تعداد 10520ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد222۔ کیا وائرس کے پھیلاؤ اور دیگر اقدامات کیلئے قائم وفاقی سطح پر قائم ادارہ اورخود حکومتی اکابرین اس سے لاعلم ہیں کہ14اپریل تک اعداد وشمار کیا تھا اور ایک ہفتہ بعد کیا ہیں؟ سماجی نفسیاتی اور معاشی مسائل ہیں یقیناً ان میں مزید اضافے کا خطرہ بھی ہے مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ ان خطرات سے بچاؤ کیلئے ہونے والے اقدامات پر وائرس کا پھیلاؤ پانی پھیر دے جس کے امکانات زیادہ ہیں۔ یہ کہنا بجاطور پر درست ہے کہ موجودہ صورتحال کا بہتر ادراک اورمؤثر انداز میں اس سے نمٹنے کی حکمت عملی طبی ماہرین کی مشاورت سے ہی وضع کی جا سکتی ہے۔ ملک میں طبی ماہرین کی بڑی تنظیموں کے ذمہ داران اور ملکی وعالمی سطح پر شہرت کے حامل معروف معالجین نے اگلے روز حکومت کی توجہ جن امور کی طرف دلائی ہے انہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ غربت، بیروزگاری، طبقاتی خلیج، وسائل میں کمی یہ سارے مسائل اٹل حقیقت ہیں اور ان سے سنگین مسئلہ کورونا وائرس کا ان دیکھا دشمن ہے۔ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت بعض فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ شہریوں کا جان ومال اہم تو ہیں خدانخواستہ بے احتیاطی جس کے مظاہرے پچھلے ایک ہفتہ کے دوران قدم قدم پر دیکھنے میں آئے کی وجہ سے وائرس مزید پھیلا تو اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں ڈاکٹرز کے اس انتباہ کو نظرانداز ہرگز نہ کریں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور شہریوں کی روایتی سہل پسندی سے ایک ہفتہ میں مریضوں کی مجموعی تعداد میں لگ بھگ 40فیصد اضافہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ احتیاطی تدابیر کو مذید نظرانداز کرنے کی بجائے ملک اور شہریوں کے وسیع مفاد میں اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے۔ یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ وفاقی حکومت نے علماء سے معاہدہ کرتے وقت عالم اسلام کے مؤثر ممالک میں اُٹھائے جانے والے اقدامات جامعہ ازہر، ریاض یونیورسٹی اور حوزہ علمیہ نجف کے فتاویٰ کو سامنے کیوں نہیں رکھا۔ جامعہ ازہر قاہرہ سے فتویٰ تو خود صدر مملکت نے منگوا لیا تھا۔ دیہاڑی دار مزدور، اوسط درجہ کی تنخواہوں پر نجی ملازمتیں کرنے والے لاکھوں افراد اور دوسرے طبقات کی زندگیوں پر موجودہ حالات نے جو اثرات مرتب کئے ان سے کسی کو انکار نہیں، ان مسائل اور اثرات میں کمی کا حل لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کو یقینی بنانا تھا۔ جن کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دیدی گئی ان کیلئے مختلف دن مکرر کئے جا سکتے تھے تاکہ بازاروں میں رش نہ بڑھتا۔ طبی ماہرین کے مشوروں سے بہتر اقدامات بھی ممکن تھے۔ یہ عرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ پچھلے ایک ہفتہ کی عمومی صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلوں پر نطرثانی ضروری ہے۔ وزیراعظم کی توجہ ان اطلاعات کی طرف دلانا بھی ازحد ضروری ہے کہ بعض حکومتی شخصیات اور حکمران جماعت کے رہنما ملک بھر میں تاجروں کی طرف سے یکم رمضان کو کاروبار کھولنے کے اعلانات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، یہ کسی بھی طور حکومت اور عوام کے مفاد میں نہیں۔ اندریں حالات بہت ضروری ہوگیا ہے کہ کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے سخت گیر اقدامات اُٹھائے جائیں۔ حکومت اس بات کو نظرانداز نہ کرے، اگر سماجی میل ملاپ کی حوصلہ شکنی نہ ہوئی تو حالات بے قابو ہوں گے، مناسب ہوگا کل ابتری میں جو قدم اُٹھانا ہے وہ آج اُٹھا لیا جائے۔