صبر اوج ثریا تک

اس وقت ہر سو کرونا وائرس کا چرچا ہے اور پوری دنیا میں وحشت کا عالم ہے، جہاں ذرائع ابلاغ آئے روز یہ بتا رہے ہیں کہ یہ موذی مرض ہے کہ پھیلتا جا رہا ہے وہاں پاکستان کے ارباب حل وعقد بھی عوام کو وحشت وخوف میں مبتلاء کر رہے ہیں، جس سے عوام کے حوصلے پست ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ قوم کو یہ اعتماد دیتی کہ وہ اپنے فرض سے غافل نہیں ہے اس نے اب تک اس وباء سے خلاصی کیلئے کیا کیا اقدام کئے ہیں، جس کے کیا نتائج رہے اور اگر یہ نہ ہوتے تو کن تباہ کن نتائج سے دوچار ہونا پڑتا، مگر وزیراعظم سے لیکر مشیر ووزیر اور معاونین سب ہی ایک بات کہہ رہے ہیں کہ مزید تباہی کا سامنا ہوگا حتیٰ کہ وزیراعظم نے ماہ مئی میںکرونا سے مزید تباہی کی نشاندہی بھی کر دی ہے جبکہ بعض حلقے یہ نوید سنا رہے ہیں کہ اگلے ماہ سے حالات میں بہتری آنے والی ہے اور جلد ہی عوام کی گلوخلاصی کے امکانات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کے بارے میں یہ تاثر اُبھرا ہے کہ یہ کوئی نئی بیماری ہے اور سائنسی بنیادوں پر کووڈ19 جرثومہ سے پھیلا ہے مگر طب کی قدیم ترین کتابوں سے اس مرض کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایک قدیم مرض ہے، ایسی ایک ڈیڑھ دو صدی پرانی طب کی کتاب میں یوں درج ہے کہ جس طرح طاعون ہیضہ اور دیگر وبائی امراض بعض ایام میں وباء کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں اور درجنوں جانوں کو لقمۂ اجل بنا دیتے ہیں، تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ نزلہ اور زکام کا حملہ بھی بعض دفعہ وبائی طور پر ہوتا ہے، اسباب کے عنوان سے درج ہے کہ اس مرض کے باعث ہوا میں زہریلے اثر کا پیدا ہو جانا ہے (وائرس) یہ مرض اکثر جاڑوں میں ہوتا ہے بعض مرطوب نشیبی جہگوں میں یہ پھیلتا ہے اور ایک مقام سے پیدا ہو کر فوراً بہت سے مقامات میں پھیل جاتا ہے جس سے جوان آدمیوں کی نسبت بوڑھے اور بچے اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں، اگر عوارضات شدید ہوں تو انجام اچھا نہیں ہوتا بعض دفعہ ناک اور حلق کی سوزش آگے ہوا کی نالیوں تک بڑھ جاتی اور نمونیہ پیدا کردیتی ہیں۔ عام زکام کی نسبت وباء میں تکلیف اور کمزوری زیادہ ہوتی ہے اور دفعتاً مرض کا حملہ ہوتا ہے، یعنی دفعتاً بہت سے اشخاص کا مبتلائے مرض ہونا اور بخار کا ہونا اس کی خاص تشخیصی علامت ہے۔ اگر عوارضات شدید نہ ہوں اور اس مرض کیساتھ دوسرا کوئی مرض شامل نہ ہو جائے تو ایک ہفتہ کے اندر اندر مریض کو آرام ہو جائے گا، طب کی اس کتاب میں علاج کے عنوان سے درج ہے کہ بطور حفظ ماتقدم اس وباء کے زمانہ میں چائے کا استعمال ضرور رکھنا چاہئے (یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس سلسلے میں کالی چائے کم دودھ والی، قہوہ، کافی، مرغ کی یخنی وغیرہ شامل ہیں اور ان میں اگر ادرک، دارچینی، موٹی الائچی شامل ہو تو سونے پر سہاگہ کے مترادف ہے) غذا میں احتیاط رکھنا، کم کھانا، قبض قطعی نہ ہونے دینا، کھلی ہوا میں رہنا اور لباس صاف رکھنا، اس مرض کے حملے سے بچاتا ہے۔ حالت مرض میں مریض کو ایک علیحدہ کمرے میں آرام سے لٹائیں، شروع میں معدے اور آنتوں کے صاف کرنے کیلئے قرص ملین چار عدد نیم گرم پانی کیساتھ دیں تاکہ دوتین دست آکر پیٹ صاف ہو جائے اور اس کے بعد بہدانہ، عناب، دانہ سپستان دیا جائے اس کی مقدار بھی کتاب میں درج ہے۔ مختصر یہ کہ علاج کیلئے مختلف ادویہ تجویز کی گئیں ہیں جس کی طرف حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ عوام کو گھبرانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ اب بات کرتے ہیں جدید تحقیق کی جو کچھ طب کی اس قدیم کتاب میں درج ہے، بعینہ دورجدید کے ماہرین بھی اس مرض کے بارے میں کہہ رہے ہیں بس فرق انداز گفتگو کا ہے۔ امریکا کے ایک سائنسدان نے اپنی نئی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ موسم گرم کیساتھ ساتھ اس وباء سے بھی جان چھوٹ جائے گی ان کا کہنا ہے کہ نیا کورونا وائرس سورج کی روشنی میں بہت جلد ناکارہ ہو جاتا ہے۔ امریکا میں محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی امور کے مشیر ولیم برائن نے وائٹ ہاؤس میں گزشتہ روز بتایا کہ بالائے بنفشی شعائیں وائرس پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ برائن ایک تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تاہم اس تحقیق کے نتائج عام نہیں کئے گئے۔ اکیس سے چوبیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں وائرس کے کارآمد رہنے کی صلاحیت میں پچاس فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔ اس تحقیق کے ابتدائی نتائج سے یہ اُمید قائم ہو گئی ہے کہ موسم گرما کووڈ انیس کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے۔ تاہم تحقیق میں بہت سے پہلوؤں کی ابھی تصدیق باقی ہے۔ محولہ بالا جس کتاب طب کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بھی یہ نچوڑ پایا جاتا ہے کہ مریض کو یا صحت مند کو جتنا زیادہ گرم رکھا جائے اور ٹھنڈ سے بچایا جائے اتنا ہی یہ مرض دور رہتا ہے اور صحت یابی ہو جاتی ہے۔ آئیے اب ایک اور بات کی طرف چلتے ہیں، مسند احمد کی ایک حدیث ہے کہ ایک مرتبہ طاعون کی بیماری پھیل گئی جس پر صحابہ کرام نے حضور انورۖ سے استفسار کیا کہ وہ اس وباء کے دوران پھل استعمال کر سکتے ہیں، تو حضور نے منع فرمایا جس پر صحابہ نے استفسار کیا کہ کب تک ایسا نہ کریں تو رسول کریمۖ نے فرمایا کہ ستارہ ثریا کے صبح سویرے طلوع ہونے تک، اس حدیث کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو ماہرین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ماہ مئی میں حالت میں بہتری پیدا ہو جائے گی، ایسا وہ کس بنیاد پر دعویدار ہیں وہ تو اس حدیث سے نابلد ہیں مگر ماہرین فلکیا ت کو کہنا ہے کہ ثریا ستارہ 12مئی کو اپنے اوج فلک صبح کے وقت چمکے گا۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اوج ثریا کے موقع پر موسم میں تبدیلی آتی ہے اور گرم موسم کا آغاز ہوتا ہے جس سے وبائی امراض کا خاتمہ بھی ہو جایا کرتا ہے۔