لاک ڈائون میں توسیع در توسیع

وزیراعظم عمران خان کے عوامی بیانات میںلاک ڈائون کی مخالفت اور سندھ حکومت پر تنقید کے برعکس انہی کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈائون میں نو مئی تک توسیع کورونا وائرس کی روک تھام کی ممکنہ مساعی کے حوالے سے موزوںفیصلہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں سہ پہر چار بجے کے بعد ادویات کی دکانوں کے علاوہ کاروبارکی بندش کا فیصلہ اس تناظر میں بہتر فیصلہ ہے کہ عوام اور کاروباری طبقہ دونوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور حکومتی ہدایات ڈاکٹروں اور ماہرین کی تجاویز اور طے کردہ اصولوں کو بالکل ہی بالائے طاق رکھ کر لاک ڈائون کو مذاق بنادیا تھا، وگرنہ رمضان المبارک میں اس قدر سخت فیصلہ متوقع نہیں تھا۔ اس ضمن میں حکومت اور انتظامیہ کو الزام نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ہر جگہ مداخلت کر کے لاک ڈائون کی پابندی کروائے، شہریوں کا ذمہ دارانہ کردار ہی لاک ڈائون کے مقاصد کے حصول کا ضامن امر ہے لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور میں رمضان المبارک سے ایک دن قبل اورپہلے روزے کے موقع پر شہریوں نے غیر ذمہ داری کا جو مظاہرہ کیا اب اس کے فوری نتائج اور خدانخواستہ کورونا کے مزید کیسز کی صورت میں آمدہ دنوں میں بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئے، بہرحال صورتحال کے تناظر میں صوبائی حکومت نے جو احسن فیصلہ کیا ہے اس کی پابندی ہونی چاہئے، نیز بغیر ماسک کے باہر نکلنے پر پابندی میں کسی ایک فرد سے بھی رعایت نہ کرنے اورگلی محلوں میںبھیڑ پر اچانک رائیڈرز کی آمد کا سلسلہ باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر لاک ڈائون میں توسیع کی یہ تپسیا بھی رائیگاں جانے کا خطرہ ہے۔ عوام اور کاروباری طبقے کو یہ امر سمجھنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈائون کی پابندی، حفاظتی اصولوں کو اپنانے اور احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی کورونا وائرس کے پھیلائوکو محدود کیا جاسکتا ہے جب تک کورونا وائرس کے پھیلائو میں اضافہ ہوتا رہے گا حکومت کے چاہنے اور وزیراعظم کے پبلک بیانات کے باوجود لاک ڈائون کا سلسلہ کم نہ ہوگا بلکہ اس میں توسیع کی ضرورت ہی مجبوری بن جائے گی جس کا عوام حکومت اور ملکی معیشت سبھی پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔ عوام کو اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈائون اور حفاظتی احتیاطی تدابیر بارے فیصلہ وزیراعظم کے زیرصدارت اجلاس میں ضرور ہوتا ہے، اس کا اعلان بھی قومی رابطہ کمیٹی کرتی ہے مگر اس کے بنیادی فیصلہ میں طبی ماہرین کی صورتحال کا اعداد وشمار کے تناظر میں پیش کردہ سفارشات ہی محرک ہوتے ہیں اور قومی رابطہ کمیٹی طبی ماہرین کی سفارشات شرح اموات، مرض کے پھیلائو میں اضافہ اور مریضوں کی تعداد کی مناسبت سے ہی پیش کی جاتی ہیں۔ حکومت نے نو مئی تک کی توسیع اور خیبر پختونخوا میں جن اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے اس حوالے سے اب قبل ازیں کی غفلت کی گنجائش نہیں تاکہ لاک ڈائون پر لاک ڈائون اور اس میں بار بار کی توسیع کی نوبت نہ آئے۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ رمضان المبارک کا مہینہ کورونا کے حوالے سے فیصلہ کن مہینہ ہے اگر ہم ڈاکٹروں کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے تو عید کے بعد صورتحال بہتر ہو نا شروع ہو جائے گی اور روزگار کی بندشوں میں نرمی لائی جاسکے گی اور اگر خدانخواستہ بے احتیاطی اور غیرذمہ دارانہ طرز عمل ہی اپنانے کی روش برقرار رکھی گئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کیلئے اور بندشیں لگانی پڑ جائیں۔ حکومت نے عوام کو جو رعایتیں دی ہیں خدشہ ہے کہ ان کے غلط استعمال کے باعث حکومت ان کی واپسی پر مجبور ہو اور کاروبار پر قد غن سخت کرنے کی نوبت آجائے۔ اس مشکل وقت میں صبر وبرداشت اور خود کو روکے رکھنا ہی بہتر حکمت اورمصلحت ہے، رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا بنیادی فلسفہ بھی صبروبرداشت اور صلہ رحمی اور دوسروں کا خیال رکھنا ہے۔ احتیاطی تدابیر سے خود کو محفوظ رکھنا اور دوسروں کو محفوظ بنانے کی کوشش کو اگر اس رمضان میں اولیت کا حامل عمل قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ رمضان کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کا تقاضا یہ ہے کہ طبی ماہرین کی سفارشات وہدایات پر عمل دینی ومذہبی فریضہ سمجھ کر کیاجائے، احتیاطی تدابیر پر جس قدر بہتر طور پر عملدرآمد کیا جائے اس وباء کی اضافہ کی شرح میں اسی قدر کمی آئے گی اور لاک ڈائون کے سخت فیصلے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔