گیس کے اضافی بل اور صارفین کی مشکلات

لاک ڈائون کے ایام میں ایس این جی پی ایل کے عملے کی جانب سے گیس کے بھاری بھر کم اضافی بل بھجوا کر عوام کو جس طرح اپنے دفاتر کے باہر ہجوم اکٹھا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، قارئین ہمارے اخبار کے سٹی پیج پر سوئی گیس کے دفتر کے باہر کے عکسی منظر دیکھ چکے ہوں گے۔ ممکن ہے ارباب اختیار کی نظر بھی ان لاچارلوگوں کی بھیڑ پر پڑ ی ہوگی جو جسمانی فاصلے کی پابندی نہ کرتے ہوئے بلوں کی تصحیح کیلئے کڑی دھوپ میں گھنٹوں کھڑے رہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بازاراور مارکیٹیں بند ہیں، کاروباربند ہیں، لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیںمگر بجلی، ٹیلیفون اورگیس بل، سکولوں کی فیسیں، پانی وصفائی کے واجبات کی ادائیگی اور تاخیر کی صورت میں جرمانے کیساتھ ادائیگی کیلئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ آمدنی تو دور کی بات اب لوگوں کے پاس اگر چند روپے پس انداز تھے بھی وہ بھی ختم ہورہے ہیں، ایسے میں بجلی وگیس کے وہ اضافی بل جو انہوں نے خرچ ہی نہیں کئے کیسے ادا کریں گے؟ اصولی طور پر تویہ ہونا چاہئے تھا کہ اس عرصے کیلئے حکومت اپنے تمام ٹیکس معطل کر دیتی اور گیس وبجلی کے اداروں کو حکم دیتی کہ وہ اس عرصے کیلئے عوام کو رعایت دیں، اس کی بجائے اُلٹا اضافی یونٹ ڈال کر صارفین کو پریشان کیاگیا ہے، اس طرح کی صورتحال دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ عوامی حکومت کی بجائے ایسے حکمران بیٹھے ہیں جن کو عوام کو اذیت دیکر ہی چین ملتا ہے، اگر ایسا نہیں تو گیس کے اضافی بل ارسال کرنے والوں کیخلاف ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور ان سے اضافی بل ارسال کرنے کی باز پرس کیوں نہیں ہوئی۔ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت عوام کو بجلی، ٹیلیفون اور گیس کے بلوں میں رعایت دے، حکومت ٹیکس معطل کر کے ایسا کرسکتی ہے، نیز تاریخ ادائیگی میں کم ازکم ایک ماہ کی توسیع کی جائے اور صارفین سے تاخیر سے ادائیگی پر کوئی سر چارج نہ لیا جائے۔
گندم کی ترسیل پر پابندی اُٹھائی جائے
صوبہ پنجاب سے خیبرپختونخوا کو گندم کی سپلائی پرپابندی لگانا بین الصوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے علاوہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، پنجاب کے اس اقدام کے بعد خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر پنجاب کو بجلی کی سپلائی معطل کرنے کے بیانات شروع ہو جائیں گے اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ سرحدوں کی بندش کے ایام میں صوبے سے گندم کی سمگلنگ ممکن نہیں علاوہ ازیں صوبائی حکومت سمگلنگ کی مؤثر روک تھام کیلئے ٹاسک فورس بھی بنارہی ہے۔ صوبائی حکومت کو صوبے کے عوام کو آٹا بحران سے بچانے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پنجاب کی حکومت سے شیئر کئے جائیں اور ان کو اطمینان دلایا جائے کہ صوبائی حکومت گندم کی سمگلنگ کی روک تھام میںسنجیدہ ہے۔ پنجاب حکومت کے پاس اگر خیبر پختونخوا سے گندم کی سمگلنگ کاکوئی ثبوت ہے تو اسے صوبائی حکومت کے سامنے رکھا جائے، محض زبانی الزام لگا کر گندم کی ترسیل پر پابندی مناسب نہیں۔پنجاب کی حکومت کو پابندی اُٹھالینی چاہئے تاکہ خیبر پختونخوا میں آٹا قلت اور بحران کا خطرہ ٹل جائے۔
ذمہ داری نبھانے کے بعد ہی مطالبہ جائزہوگا
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر کی حکومت کو ایس اوپیز کے تحت کاروبار مرحلہ وار کھولنے کی اپیل اور تاجربرادری کے مزید لاک ڈائون کے متحمل نہ ہونے کا بیان اپنی جگہ توجہ کا حامل امر ضرور ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ابھی سرکاری طور پر کاروبار کی مکمل بحالی کی اجازت نہیں دی گئی ہے، تاجروں نے لاک ڈائون میں نرمی کا غلط فائدہ اُٹھانا شروع کردیا ہے، شہری بھی سڑکوں پر ایسے اُمڈ آئے ہیں جو معمول سے بڑھ کر ہے، تاجروں کی جانب سے نہ صرف حفاظتی اقدامات کا خیال رکھتے ہوئے کاروبار کرنے کی ذمہ داری پوری کی جارہی ہے بلکہ خلاف ورزی کی توجہ دلانے پر سرکاری اہلکاروں سے مشت وگریباں ہونے سے دریغ نہیں کر رہے ہیں۔ جب تک تاجر برادری اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اس کی پابندی یقینی نہ بنائے دیگر کاروبار کھولنے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ تاجر برادری کے مفاد میں یہ ہے کہ وہ قانون کی پاسداری اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں ذمہ داری کا ثبوت دے تاکہ دیگر کاروبار بھی معمول کے مطابق کھولنے کی راہ ہموار ہو۔ سرحد چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کو جہاںتاجروں کی مشکلات کی طرف حکومت کی توجہ دلانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے وہاں اس سے بڑھ کر ان کی ذمہ داری تاجروں کو حفاظتی اقدامات کی پابندی کی سختی سے تاکید کرنی چاہئے اور خلاف ورزی پر خود ان کیخلاف کارروائی کرنی چاہئے اور انتظامیہ سے تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
طے شدہ دستورالعمل کی پابندی کرائی جائے
علمائے کرام اور حکومت کے درمیان جن نکات پر اتفاق رائے سے مساجد میںباجماعت نماز کی اجازت کی آئمہ مساجد کی طرف سے بار بار گزارشات کے بعد بھی نمازی حضرات کی طرف سے پابندی نہ کرنے کا انتظامیہ کونوٹس لینا چاہئے۔مساجد کی صفائی اور صفوںمیں تین فٹ کے فاصلے کی پابندی ہورہی ہے لیکن پچاس سال سے زائد العمر افراد کی مسجد آمد اور ماسک کے بغیر آنا نمازیوں کی طرف سے علماء کے معاہدے کا احترام نہ کرنا ہے۔ آئمہ حضرات کے پاس کوئی ایسی صورت نہیں کہ وہ اس معاہدے کی اپنے بل بوتے پر پابندی کرائیں۔ آئمہ حضرات کی باربار تلقین صدا بصحرا ثابت ہورہی ہے، ایسے میںایک یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ علاقہ پولیس کو ماسک پہننے اور طے شدہ عمرسے زیادہ اور کمسن بچوں کو مسجد جانے سے روکنے کا حکم دیا جائے، بعض مساجد میں انتظامیہ یہ ذمہ داری پہلے سے نبھارہی ہے، باقی ماندہ میں بھی یہ ذمہ داری صرف آئمہ حضرات پر چھوڑ نے کی بجائے انتظامیہ مسجد کمیٹی اور متولین سے بات کر ے اور علمائے کرام نے جس دستورالعمل سے اتفاق کیا ہے اس کی پابندی یقینی بنائی جائے۔