میری عینک کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

کچھ لوگ ناشتہ کرنے سے پہلے ہی اخبار دیکھ لیتے ہیں، کچھ لوگ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اخبار پڑھنا پسند کرتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اخبار پڑھنا پسند ہی نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ صبح سویرے اخبار پڑھنے سے بہتر ہے کہ کسی باغ میں ہلکی پھلکی چہل قدمی ہی کرلی جائے، اخبار پڑھنا آبیل مجھے مار والی بات ہے۔ پریشان کن خبریں آپ کو بھی پریشان کر دیتی ہیں، فی زمانہ پریشان ہونے کی باتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس حوالے سے ہم اچھے خاصے خود کفیل ہیں اس لئے ہمیں تو اخبار سے دور ہی رکھئے، بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا! ہمارا تو یہ خیال ہے کہ اخبار جدید دورکی اہم ضروریات میں شمار ہوتا ہے، صبح سویرے نت نئی خبریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں، اگرچہ ٹی وی پر بھی ہر وقت نیوز چینلز سرگرم عمل رہتے ہیں اور پل پل لمحے لمحے کی خبریں چلتی رہتی ہیں لیکن صاحب ذوق افراد کا کہنا ہے کہ جو مزا اخبار پڑھنے میں ہے وہ ٹی دیکھنے میں کہاں! اخبار ہم بھی پڑھتے ہیں لیکن حرام ہے جو کبھی موٹی موٹی سرخیوں سے بات آگے بڑھنے پائی ہو بس دوچار خبریں پڑھ کر دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اخبار بینوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اخبار اس قدر ڈوب کر پڑھتے ہیں جیسے امتحان کی تیاری کر رہے ہوں، وہ چھوٹی سے چھوٹی خبر کا مطالعہ بھی انتہائی باریک بینی سے کرتے ہیں اور پھر وہ مرحلہ بڑا دلچسپ ہوتا ہے جب وہ اخبار پڑھتے پڑھتے اچانک سر اُٹھا کر آپ کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر کسی دلچسپ خبر (جو یقینا صرف ان کیلئے دلچسپ ہوتی ہے) پر رننگ کمنٹری شروع کردیتے ہیں، انہیں آپ کی دلچسپی یا عدم دلچسپی سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ تو اپنا شوق خبر بینی پورا کررہے ہوتے ہیں۔ ہمار ے احباب میں کچھ ایسے زندہ دلان پشاور بھی ہیں جو اخبار میں صرف اور صرف دلچسپ خبریں پڑھتے ہیں اور پھر مزے لے لیکر آپ کے گوش گزار کر دیتے ہیں (جب سے کرونا ہمارا مہمان ہوا ہے دلچسپ خبریں مکمل طور پر مفقود ہوچکی ہیں) ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہے کہ جن خبروں پر ہماری نظر بھی نہیں پڑتی وہ انہیں کیسے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ جب ہم نے اس دریا کے پرانے شناور سے یہ سوال پوچھا تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے یار اپنے اپنے مزاج کی بات ہے، خدا شکرخورے کو شکر ضرور دیتا ہے میں تو کسی دل دکھا دینے والی خبر کے قریب بھی نہیں پھٹکتا! زندگی روزبروز مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے، اب اس بات کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم اچھی اچھی خوش کن خبروں تک ہی محدود رہیں، دکھی پریم نگری والے چینلز بھی دیکھنے سے پرہیز کریں میں تو وہی ٹی وی چینلز دیکھنا پسند کرتا ہوں جن میں دل کھول کر قہقہے لگانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر مجھے چند دن پہلے اپنی اچانک بے نام سی اُداسی یاد آگئی، طبیعت بے چین تھی، کرونا کرونا اور بس کرونا! یقین کیجئے کرونا نے دماغ جکڑا ہوا تھا اس میں دوسری کوئی سوچ ہی نہیں آتی تھی بے دھیانی میں یوٹیوب پر مختلف ویڈیوز دیکھتے ہوئے انور مسعود کی ویڈیو سامنے آگئی، انہوں نے اپنی مزاحیہ شاعری سے محفل کو کشت زعفران بنا رکھا تھا اور وہ خود بھی بے تحاشہ قہقہے لگا رہے تھے۔ ہم حیران ہورہے تھے کہ 80برس کی عمر میں بھی اتنے زورشور سے قہقہے لگائے جاسکتے ہیں۔ وہ شاعری کے دوران چھوٹے چھوٹے چٹکلوں سے بھی حاضرین میں قہقہے بانٹ رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے مزاح اور مزاج میں صرف ایک نکتے کا فرق ہے، مزاح تو مزاج میں ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک بہو نے ناشتہ تیار کرتے ہوئے اپنے سسر سے پوچھا ابا جان میں آپ کو انڈہ نہ بنادوں؟ سسر نے کہا نہ بیٹا تو مجھے بندہ ہی رہنے دے! ہم کافی دیر تک انورمسعود کی دلچسپ باتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے، ہمیں اپنی اُداسی مکمل طور پر بھول چکی تھی واقعی دیکھنے اور سوچنے کا انداز بدل جائے تو چیزیں مختلف نظر آتی ہیں! زندگی کے اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، ہر وقت تنقید، ہروقت نکتہ چینی، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا اور دوسروں کو طفل مکتب! یہ کوئی اچھا رویہ تو نہیں ہے۔ کبھی دل نادان کی بات بھی سن لی جائے تو بہتر ہے، سنجیدہ شاعری کی افادیت واہمیت اپنی جگہ مگر کبھی کبھی مزاحیہ شاعری سے بھی لطف اندوز ہونے میں کیا قباحت ہے، ویسے ہمارا ذاتی خیال تو یہی ہے کہ کرونا کرونا کی رٹ لگانے سے تو یہی بہتر ہے کہ کسی اچھے شاعرکی پرلطف مزاحیہ شاعری سے لطف اندوز ہوا جائے، ہلکے پھلکے چٹکلوں سے دل بہلایا جائے! چند اشعار پڑھئے اور تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی کرونا کے چنگل سے نجات حاصل کریں:
اُردو سے ہو کیوں بیزار انگلش سے کیوں اتنا پیار
چھوڑو بھی یہ رٹا یار ٹونکل ٹونکل لٹل سٹار
لطف نظارہ ہے اے دوست اسی کے دم سے
یہ نہ ہو پاس تو پھر رونق دنیا کیا ہے
تیری آنکھیں بھی کہاں مجھ کو دکھائی دیتیں
میری عینک کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے