ہم اپنا علاج کیوں نہیں کرتے؟

اپنے دادا کی لائبریری صاف کرتے ہوئے ایک عجیب خیال نے ذہن پر گرفت کرلی ہے اور اب میں مسلسل اسی خیال کا تجزیہ کر رہی ہوں، لائبریری میں کتابوں کو ان کے مضمون کے حساب سے علیحدہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں آج اپنے دادا کو نہیں، سید اسد گیلانی صاحب کو دیکھ رہی ہوں، وہ کون تھے کیسے تھے اور کیوں تھے؟ان کے نزدیک کیا باتیں محبوب تھیں اور وہ جتنے بڑے آدمی تھے اس میں ان کا اپنا کردار کیا رہا۔ قرآن کے کئی نسخے سنبھالتے، صاف کرتے، حاشیوں پر ان کی تحریریں پڑھتے مجھے احساس ہوا کہ فہم کی بنیاد ہی یہ تھی۔ اتنی بار، بار بار اتنے دھیان سے، اتنی تحقیق سے قرآن پڑھا جانا، اس کا کیا کمال اثر ہوگا، سینہ تو اپنے آپ روش ہوگیا ہوگا۔ راستہ تبھی تو اتنا صاف دکھائی دیتا تھا۔ زندگی تبھی تو اپنی تمام ترکٹھائیوں سمیت اتنی سہل تھی۔ مقاصد اسی لئے راستوں کو منور رکھتے تھے، حدیث کی ایسی نایاب کتابیں، تفاسیر کے انگنت نسخے انہیں سنبھال لینے کے بعد ایک بات واضح ہوگئی کہ انہیں اقبال سے عشق تھا۔ اقبال کی شاعری خواہ وہ فارسی میں ہے یا اُردو میں اقبال کے حوالے سے کئی نادر کتب، کئی اہم مضامین ایسے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر کسی کو اقبال کے حوالے سے پی ایچ ڈی کرنی ہو تو کسی اورکتاب کسی اور لائبریری کی ضرورت نہیں۔ ایک اور محبت جو اس لائبریری نے مجھ پر بالکل واضح کردی، مولانا مودودی سے تھی۔ انہوں نے نہ صرف خود مولانا مودودی کے حوالے سے کتابیں لکھی ہیں بلکہ مودودی کے حوالے سے لکھی گئی کتابوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ ایران سے،انقلاب ایران کے حوالے سے بھی ان کی دلچسپی اور محبت ان کی لائبریری سے بالکل واضح ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی بے شمار کتب اس لائبریری کا حصہ ہیں، ابھی تک میں آدھی ہی لائبریری کی صفائی اور ترتیب کر سکی ہوں اور مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ہم سے پہلے کے لوگ ایسے قدآور لوگ کیونکر تھے، ان کی شخصیت کے کئی پہلو تو ان کی پوتی ہونے کے حوالے سے مجھ پر بالکل واضح تھے کچھ ان کتابوں نے روشن کردیئے اور پھر اس نسل کے حوالے سے ایک آگہی کو جنم دیا۔ یہ کسی مقصد کسی مفادکیلئے محبت نہیں کرتے تھے، اپنے دادا کی محبت کی سمت تو مجھے معلوم تھی لیکن یہ احساس اب پیدا ہوا ہے کہ اس محبت میں کوئی تقاضا نہیں تھا کیونکہ اس زمانے کا دستور ہی یہ تھا محبتیں بے لوث ہی ہوا کرتی تھیں اور یہی اصول وہ اپنے بعد آنے والی نسل کو بھی سکھا رہے تھے۔ اسی لئے ہم ابھی تک ان کی باتوں کے حوالے دیتے ہیں۔ان کی دانائی، ان کی حکمت اب ہمیں اپنے اردگرد دکھائی ہی نہیں دیتی۔ اس وقت کے سب ہی لوگ ایسے تھے اس لئے وہ وقت ہی الگ تھا۔اس کے بعد کی نسل نے بھی ان سے یہ بے لوث محبت مستعار لی کیونکہ بے لوث محبت میں ایک بڑا کمال ہوتا ہے، یہ انسان کے کردار میں بڑی خوبصورتی پیدا کر دیتی ہے۔بڑا ہلکا پن ایسے جیسے کسی پر کشش ثقل اثر نہ کرتی ہو تو اسے زمین پر پیر رکھنے کی ضرورت ہی نہیں، وہ اُڑسکتا ہے پرندوںکی طرح اسی لئے اس کی نظر میں بڑی وسعت ہے انہیں پرندوں کی مانند وہ زمین پر پڑا دانہ تو دیکھ سکتے ہیں لیکن زمین کی کوئی مجبوری انہیں زمین سے باندھ نہیں سکتی۔
اس لائبریری میں میرے والد سید فاروق حسن گیلانی کی بھی کئی کتابیں موجود ہیں ان کی ڈائریوں میں ان کے دوستوں کے لکھے ہوئے جملے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دور میں دوستوں کی محبتیں بے لوث تھیں۔ ایک دوسرے پر جان لٹانے والے ایک دوسرے کیلئے چھائوں بن جانے والے ایک ڈائری میںجناب سید اظہر جو میرے والد کے بہت قریبی دوست تھے نے لکھا ہے، ''زندگی کی دھوپ میں چلتے چلتے جھلس گیا ہوں، تھوڑی دیر کو تمہاری دوستی کی چھائوں میں سستانا چاہتا ہوں، کب ملوگے! میں ان دونوں کو جانتی ہوں، انکل سعید اظہر گھر آئے ہوں گے، پاپا کی غیرموجودگی میں یہ تحریر لکھ کر چھوڑ گئے ہوں گے، اب ایسی دوستیاں بھی باقی نہیں رہیں۔ میرے والد بھی بیوروکریٹ تھے، ان کے کئی بیوروکریٹ دوست تھے جو آج ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ہمارے لئے چھائوں کی مانند ہیں، جن کے سینے میرے باپ کے جانے کے بعد کشادہ ترہوگئے تاکہ ہمارے سروں کی جگہ بن سکے، ایسے لوگ اب نہیں ملتے۔ اب ایسی دوستیاں بھی نہیں اب یوں کوئی مخلص بھی نہیں۔ زندگی کے ہنگام میں اُلجھے ہوئے پریشان حال مفادات کے تانوں بانوں میں اُلجھے چھوٹے چھوٹے لوگ، میں اپنے اردگرد دیکھوں تو شاید خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں کہ میرے اردگرد کئی بے لوث دوست موجود ہیں لیکن ہماری نسل کا المیہ یہ ہے کہ ہم محبت کم کرتے ہیں، نفرت زیادہ کرتے ہیں۔ اس نفرت میں جھلستے ہمارے سامنے نہ آگہی کے در وا ہوتے ہیں اور نہ ہی ہمارے قد بڑھتے ہیں۔ نہ ہمارے پروں کے نیچے وہ ہوا ہوتی ہے جو ہمیں اونچا اُڑا لے جائے۔ ہم سے پہلے لوگ اپنی محبتوں کی روشنی اور دھوپ میں اونچے نکلتے جاتے تھے اور ہمیں نفرتوں کے اندھیرے بڑھنے نہیں دیتے۔ مولانا اسرار احمد نے کہا تھا کہ ہم قوم نہیں قومیتیں ہیں اور مجھے لگتا ہے ہم لوگ نہیں عادتوں کے حصے بخرے ہیں جو ناپسند کے ڈبوں میں قید ہیں۔ مسلسل گھٹتے رہے ہیں، اسی لئے تو کسی کے باپ کے مرنے پر کوئی دوست چاچا نہیں بنتا۔ اب کسی کا سینہ چوڑا نہیں ہوتا کہ دوست کے بچوں کو سر رکھنے کی جگہ مل جائے۔ اب سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں کہ وہ تو مرگیا، یہ کتنے دن چلیں گے۔ یہ وہ وقت ہے جب صرف صرصر اور صموم چلتی ہے اور پودے جھلستے جاتے ہیں۔ ہم نفرتوں کے چھوٹے چھوٹے پیالوں میں زندگی بانٹتے ہیں نہ کسی کی پیاس بجھتی ہے اور نہ آنکھ دھلتی ہے۔ جانے یہ فیصلے ہم نے کیونکر کئے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے فیصلوں پر کوئی دُکھ نہیں، میں نے کتنی ہی بار یہ جملہ اپنے اردگرد بار بار سُنایا ''ہر کسی کو اپنے فائدے سے غرض ہوتی ہے'' اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایک ہجوم کا حصہ ہوتے اپنا، اکیلے سوچا بھی کیسے جا سکتا ہے، ہم محبت کرنا کیسے بھول گئے، اتنے بوجھل، اتنے مفاد پرست کیوں ہوگئے اور ہمارا دل اس سب سے اوب کیوں نہیں جاتا، ہم اپنا علاج کیوں نہیں کرتے؟۔