ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

آج اپریل کے مہینے کی28تاریخ ہے اور آج کے دن دنیا بھر میں کام کی جگہ پر تحفظ اور صحت کا عالمی دن منائے جانے کا قصد کیا گیا تھا، عالمی ادارہ محنت نے 2003 میں اس دن کو منانے کا آغاز کیا تھا اور اس وقت تک ہر سال28اپریل کو یہ دن منایا جاتا رہا جب تک کرونا نامی قاتل وائرس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا تھا، اقوام متحدہ یا عالمی ادروں کے زیراہتمام منائے جانے والے ہر دن کا مقصد اس دن کے حوالہ سے دنیا بھر کے لوگوں کا شعور بیدار کرنا ہوتا ہے، یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ کارگاہ ہستی کا کوئی کام بھی اتنا اہم نہیں جتنی اہمیت کا م کرنے والوں کی صحت اور تندرستی کی ہے، ہر کام کرنے والا مزدور اپنی محنت اور صحت کے عوض دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اسے رزق حلال ملنے کی توقع ہوتی ہے اور رزق حلا ل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا حصول عین عبادت ہے، گویا وہ زندہ رہنے کیلئے ریاضت اور عبادت کے اس عمل سے گزرتا ہے جسے محنت شاقہ کہتے ہیں لیکن اس سے کام لینے والے یا اس کو اس کے کام عوض اُجرت دینے والے آجر اس کی صحت اور تندرستی کا کتنا خیال رکھتے ہیں، اس سے کام لیتے وقت اس کیساتھ جانوروں جیسا تو سلوک نہیں کرتے، انسان تو انسان جانور بھی اس ہی وقت کسی کام کاج کو اپنے منتقی انجام تک پہنچا سکتا ہے جب اسے ایک صحت مند ماحول میسر ہو اور جو لوگ ڈھور ڈنگروں یا جانوروں سے کام لیتے ہیں وہ اپنے جانوروں کی بھوک پیاس کا غم کرنے کے علاوہ ان کی صحت کو پیش آنے والے خدشات کے تدارک کا پہلے خیال کرتے ہیں کیونکہ بیمار یا لاغر جانور کام کاج کے قابل نہیں رہتا اور اس کی بیماری سستی اسے نہ صرف بے کار کرکے رکھ دیتی ہے بلکہ پالتو جانور رکھنے والوں یا ایسے جانوروں کے مالکوں کے مالی نقصان کا باعث بھی بن جاتا ہے، فرض کیا کسی نے کوئی گھوڑا پال رکھا ہے، بظاہر گھوڑا اس ہی وقت تک بار برداری کا کام کرسکے گا جس وقت تک صحت مند حالت میں وہ اپنی پاور کو استعمال کرسکے گا، اگر نامناسب ماحول کی وجہ سے وہ آئے روز لاغر ہوکر مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے تو نہ صرف اس کے مالک کو وہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا جو اس کے کام کا نہ کاج کا، دشمن اناج کا کی صورت رونماء ہونے ہونے لگے گا بلکہ نامناسب ماحول کی وجہ سے اس کی صحت کے متاثر ہونے سے اس کی زندگی کے چراغ کے گل ہونے کے اندیشے بھی پیش آئیں گے۔ گھوڑے، اونٹ، گدھے، گائے اور بیل وغیرہ بے زبان جانور ہیں، حضرت انسان اس کو پال پوس اور سدھا کر اور ان کی دیکھ بھال کرکے ان سے جو جو کام لیتا آرہا ہے اس کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن مزدوروں اور محنت کشوں سے کام لینا بھی کاروبار زندگی چلانے کیلئے بے حد اہم ہے، پرانے وقتوں میں کسی انسان سے کام لینے کیلئے اسے خریدا جاتا تھا چونکہ وہ زرخرید غلام تھا اسلئے وہ سر جھکا کر ہر وہ کام کرتا رہتا جو اس کا مالک اس سے لینا چاہتا، لیکن وقت بدلنے کیساتھ اب زرخرید غلاموں کا زمانہ لدھ گیا، مزدور کام شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حقوق کی بات کرتا ہے اور پھر ہر محنت کش اپنی محنت کو کیش کرکے روزی روٹی کمانے کی خاطر ہر اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں اس کو زندگی کی یہ اہم ضرورت ملنے کا امکان ہو، جس طرح صبح سویرے پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر دانہ دنکا تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں اس طرح محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہر صبح اپنے کام کاج کی جگہ پر پہنچنے کی غرض سے رواں دواں نظر آتے ہیں لیکن جہاں پہنچ کر انہیں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کرنی پڑتی ہے کیا وہ جگہ یا اس جگہ کا ماحول اتنا پراگندہ تو نہیں جو اس کی صحت کو نقصان پہنچانے کا باعث ہو، کہتے ہیں کہ اپنی ذات کے علاوہ اپنے بیوی بچوں کیلئے روزی روٹی کمانے وا لے خطروں اور خدشات کی پرواہ نہیں کرتے، سو وہ کر گزرتے ہیں وہ سب کچھ پاپی پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے، کود جاتے ہیں ہر اس کنویں میں جہاں سے انہیں زندہ رہنے کیلئے دو گھونٹ پانی ملنے کی آس ہوتی ہے، اگر آپ کو یقین نہ آئے تو دیکھ لیجئے کوئلہ کی کانوں میں کام کرتے مزدوروں کی حالت زار، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے ننگ دھڑنگ مزدوروں اور اور ان کا ہاتھ بٹاتے بیوی بچوں کی حالت زار، کڑکتی دھوپ میں کوازوں پر چڑھ کر کام کرتے راج مزدوروں کی حالت زار، دو گھونٹ پانی کیلئے ہر روز کنواں کھودنے والے یہ محنت کش اپنی صحت اور تندرستی کا خیال نہ رکھنے پر مجبور ہیں اور بقول کسے مجبوری کا نام شکریہ ہے، لیکن آج کے دن ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس پیغام کو عام کریں مزدوروں اور محنت کشوں کے کام کاج کی جگہ کو ان کی صحت تندرستی اور زندگی کو درپیش ممکنہ خطرات یا خدشات سے محفوظ ہونا چاہئے، ورنہ وہ کہتے رہ جائیںگے کہ
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات