اتفاق رائے کے بغیر اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے یا پھر اس میں من پسند ترمیم کے عندیہ کے معاملے پر وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے مشرق ٹی وی کے پروگرام کراس روڈز میں اظہار خیال کرتے ہوئے اگرچہ یہ ضرور کہا ہے کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے معاملے کو چھیڑا جائے لیکن ساتھ ہی وفاقی حکومت کے اس خیال کو دہرایا بھی ہے کہ البتہ وہ اس حق میں ہیں کہ دس سال گزرنے کے بعد اس ترمیم کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کو دور کیا جائے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اٹھارہویں ترمیم بچانے کیلئے ایکا کر لیا ہے اور مرکزی قائدین متحرک ہیں، حزب اختلاف اسے سیاسی اور آئینی بحران پیدا کرنے سے تعبیر کر رہی ہے۔ دو وفاقی وزراء اسد عمر اور شفقت محمود کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم میں خامیوں کے باعث اس میں ترمیم کے حوالے سے اظہار خیال سے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے اور حزب اختلاف کی جانب سے اس کی مزاحمت اور رابطے ایسے وقت شروع ہوئے ہیں جب ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح آخری حدوںکو چھونے جارہی ہے، وفاقی حکومت اٹھارہویں ترمیم کو مرکز اور وفاق کو کمزور بنانے سے تعبیر کرنے لگی ہے اور اسے شکوہ ہے کہ وفاقی ٹیکس محصولات کا 59فیصد صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر حکومت نے گفتگو کا آغاز کیا ہے۔ وزیراطلاعات نے اپنی تقریری کے پہلے ہی دن حکومتی مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کرنے کی بجائے نرم انداز اور مصلحت پسندی سے ضرور کام لیا ہے لیکن ان کی تقرری سے قبل ہی اس معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اٹھارہویں ترمیم کو وزیراعظم وفاق کو دیوالیہ کرنے سے تعبیر کرتے ہیں، اس کے علاوہ آرٹیکل چھ بھی ایسا کھٹکنے کا باعث امر ہے جس میں تبدیلی کی بعض قوتیں خواہشمند ہیں، اگرچہ اس کے چار اہم حصے ہیں جس میں تعلیم کو آئینی طور پر صوبوں کو منتقلی کا معاملہ بھی شامل ہے لیکن اصل معاملات مالیاتی اور اختیارات سے متعلق ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بغیر تیاری اور حزب اختلاف سے بات چیت کے بغیر اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کی ٹھان چکی ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ ایوان میں دوتہائی اکثریت حاصل کیسے کی جائے اگرچہ سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب اور بعدازاں عدم اعتماد میں حزب اختلاف اکثریت کے باوجود شکست خوردہ ہونے کے باعث کمزور حالت میں ضرور ہے لیکن آئینی ترمیم خفیہ رائے شماری نہیں ہوتی ایسے میں حکومت کے پاس فلور کراسنگ کے قانون کی پرواہ نہ کرنے والے فدائیں پیدا کرنے کا راستہ ہے جو مشکل ہونے کیساتھ ساتھ معیوب اور ناقابل قبول امر ہے، علاوہ ازیں بات چیت، مذاکرات اور پس پردہ لین دین کو مفاہمت کا راستہ قرار دینے کا بچتا ہے۔ ملکی سیاست میں امکانات کی وسعت کوئی راز کی بات نہیں، اٹھارہویں ترمیم کے جائزے اور ترمیم وخاتمے کا معاملہ ایسا نازک عمل ہے کہ سوائے قومی اتفاق رائے کے اور کوئی راستہ اختیار کرنا ملک میں انتشار اور صوبوں کی جانب سے احساس محرومی کے شدید جذبات کے اظہار کے ذریعے کا باعث ہوگا جس سے انتہاپسند اور ناپسندیدہ قسم کے عناصر فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم ملکی سیاسی جماعتوں اور دو بڑی حریف جماعتوں کے خصوصی اتفاق کے بعد ہی ممکن ہوا تھا اور صدر پاکستان نے اپنے اختیارات کی رضاکارانہ طور پر منتقلی کے مشکل فیصلے سے اتفاق کیا تھا، اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سی آوازیں خاموش ہوگئی تھیں اور صوبے اپنے وسائل پر انحصار کرنے لگے تھے، ایسے میں حکومت جن دو صوبوں کی جانب سے حمایت کا عندیہ دے رہی ہے ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس مرکزی قیادت سے اختلاف کی گنجائش نہیں البتہ دیگر دو صوبوں سے پوری مزاحمت ہو سکتی ہے۔ اختلاف کا یہ عالم ہے کہ حکومت مشترکہ قومی مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر این ایف سی ایوارڈ اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کا حصہ خیبر پختونخوا حکومت کے بجٹ میں شامل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے حزب اختلاف میں نئی جان ضرور پڑ گئی ہے، جاری حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی نظر نہیں آتی، کورونا سے پیدا شدہ حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف اقدامات، انتظامات اور فیصلے خاص طور پر قابل غور ہیں۔ سندھ اور وفاق کی چپقلش اور تضاد کے اثرات کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ صحت، تعلیم، مالیات اور اختیارات سمیت جن جن معاملات میں صوبوں اور مرکز کے درمیان مسائل سامنے آئے ہیں بہتر ہوگا کہ مرکزی حکومت سب سے پہلے اس بارے میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کرے جو اپنے اپنے صوبوں کی اسمبلیوں میں اس معاملے پر بات کر کے عوامی نمائندوں کی رائے لیں اس کے بعد جو صورتحال سامنے آئے وزیراعظم اس پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین وعمائدین سے بات کریں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ساری صورتحال پیش کی جائے وہاں سے جو بھی صورت سامنے آئے وہ غیرمتنازعہ اور سب کیلئے نہیں تو غالب اکثریت کیلئے قابل قبول ہوگا اور تضادات کی نوبت نہیں آئے گی۔