اک نظر ادھر بھی

ہم آج کل کرونا کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتے، ہر شخص خوف میں مبتلا ہے، لوگوں سے ملنے سے بھی خوف آنے لگا ہے، اچانک زندگی کی بے ثباتی بہت کھل کر سامنے آگئی ہے، ایک ایسا وائرس جو دکھائی ہی نہیں دے سکتا وہ کتنی زندگیوںکو ہڑپ کئے جا رہا ہے۔ پوری دنیا خوفزدہ ہے اور کوئی علاج نہیں۔ انسان تمدن کی تمام تر اونچائیاں بھول کر واپس بنیادی ضرورتوں کے بارے میں سوچنے لگا ہے، صرف دو وقت کی روٹی نصیب ہو، سر پر چھت ہو اور بدن پر کپڑے ہوں۔ یہ کپڑے کیسے ہوں اس حقیقت کے آزار سے بھی چھٹکارا ہونے لگا ہے۔ وہ لوگ جو ہمہ وقت اس پریشانی کا شکار رہے تھے کہ انہیں کس برانڈ کے کپڑے زیب تن کرنے ہیں اپنی خواہشات کے باوجود اب اس سوچ کے پہلو کوکوئی خاص فائدہ مند نہ پاتے ہونگے، نہ ہی اس کی تسکین کیلئے ان بناوٹی لوگوں سے ملاقات ہوتی ہوگی جو بڑی نخوت سے برانڈ پر تبصرہ کرتے تھے کیونکہ وہ سب تو مرنے کے خوف میں مبتلا ہیں اس لئے گھروں میں قید ہیں، وہ جنہیں شوقیہ گھر سے باہر کھانا کھانے کی عادت تھی وہ بھی گھروں کے اندر قیدہے اور اس گھبراہٹ میں مبتلا ہیں کہ کون جانے گھر پر آرڈر کئے جانے کی صورت میںگھر تک کھانا لانے والا اس بیماری کاشکار نہ ہو۔ لیکن یہ پریشانیاں اور اس سے ملتی جلتی کئی مصنوعی پریشانیاں اس ملک کی اکثریت کی پریشانی نہیں۔ یہ ملک ایک غریب ملک ہے، ہم زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے محتاج لوگ ہیں اور زندگی کے آزار کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں، ہم کرونا سے خوفزدہ ہیں کیونکہ میڈیا پوری دنیا سے یہ خوف مستعار لے رہا ہے اورہمارے گھروں تک پہنچارہا ہے اور ہم اس اُمید کیساتھ جھول رہے ہیں کہ ہماری قوم دنیا کی سب سے سخی دل قوموں میں سے ہے۔ کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے کی صورت میں لوگ فوراًان کی مدد کو پہنچنا چاہتے ہیں جو کسی آفت کا شکار ہوگئے ہوں۔ ماضی کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور اب بھی مسلسل لوگ حکومت کی امدادی کوششوں کے علاوہ بھی ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ ہی سوچتے رہے ہیں کہ پاکستانی کمال لوگ ہیں، عام حالات میں جیسے بھی ہوں مشکل میں آپس میں جڑ جاتے ہیں، ایک دوسرے کی یوں مدد کرتے ہیں جیسے ماں جائے ہوں لیکن یہ سب تو اس وقت ہوتا ہے جب مصیبت اور مشکل انہیں سامنے دکھائی دیتی ہو، سیلاب سے اُجڑے گائوں نظر آتے ہوں، زلزلے کی تباہ کاری سے بے حال لوگ نظر آتے ہوں، کرونا کا کیا کیجئے یہ تو نہ دکھائی دیتا ہے نہ معلوم ہوتا ہے، نہ اس کا کوئی علاج ہے، نہ اس سے کوئی محفوظ ہے۔ ہماری قوم کی طبیعت کی اُپج اس طور تو دکھائی دیتی ہے کہ ان میں خوفزدگی کا وہ عالم نہیں جو یورپ میں موجود ہے۔ یہ زندہ دل لوگ ہیں، غریب ہیں، کرونا کے نتیجے میں بھی گھروں میں بیٹھ کر حکومتی امداد کا انتظار نہیں کر سکے۔ اس لئے انہوں نے اس خوف کو خود پر اس طور طاری بھی نہیں ہونے دیا۔ انہیں کام کیلئے گھر سے نکلنا ہے، لیکن ان لوگوں کیساتھ ہی وہ لوگ ہیں جو فطرت کے منفی ترین پہلوؤں کو تھام کر معاشرے کی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ خود تو شاید کسی بھی احساس سے مبرا ہو چکے ہیں لوگوں کو بھی ایک عجیب منفی کیفیت کچھ خوف اور کچھ سراسیمگی کا شکار کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس حوالے سے حکومت نے انتظامیہ کو بھی ہدایات جاری نہیں کی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر پڑے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی گاڑی، کبھی موٹرسائیکل پر نظر آتے ہیں اور بھیک مانگ رہے ہیں۔ چند دن پہلے کی بات ہے میری والدہ بتا رہی تھیں کہ وہ اور میری بہن پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈلوانے کیلئے کھڑے ہوئے۔ ایک نوجوان لڑکا گاڑی میں سے اُتر کر ان کے پاس آیا اور گاڑی کے شیشے پر دستک دی، بہن نے شیشہ نیچے کیا تو اس نے نہایت سُلجھے ہوئے لہجے میں انہیں بتایا کہ وہ کوئی فقیر نہیں دراصل پشاور کا رہائشی ہے۔ اسلام آباد کسی کام کی غرض سے آیا تھا اسی اثناء میں اسے ایک نوجوان ملا اس نے اشارے سے انہیں دور کھڑا ایک لڑکا بھی دکھایا کہ اس نوجوان نے اس سے مدد مانگی کیونکہ اس کی والدہ فوت ہوگئی ہیں اور اب جنازے کی رقم کا بندوبست کرنا تھا۔ اس کی جیب میں سات ہزار روپے ہی تھے جو یہ نوجوان اس کو دے چکا ہے اور اب گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے پیسے نہیں اور اسے ظاہر ہے پشاور واپس لوٹنا ہے، بہن نے امی کے منع کرنے کے باوجود اپنے پرس سے ایک ہزار کا نوٹ نکالا اور اسے تھما دیا۔ وہ نوجوان شاداں وفرحاں اپنی گاڑی کی طرف لوٹ گیا، اس کے جاتے ہی وہ نوجوان جس کے بارے میں اس نے بتایا تھا کہ اس کی والدہ فوت ہوچکی ہیں لپک کر ان کی گاڑی کے پاس آیا اور زور زور سے رونے لگا، امی اس وقت تک خاصی پریشان ہو چکی تھیں انہوں نے اس سے پوچھا کہ اگر تمہاری والدہ فوت ہوگئی ہیں تو تم جنازے اور تدفین کا بندوبست کیوں نہیں کر رہے، یہاں کیوں لوگوں سے مانگ رہے ہو؟ اس نے آنکھیں صاف کیں اور کہنے لگا دیکھئے آنٹی پیٹ ہر ایک کیساتھ لگا ہے۔ امی چونکہ گھبرا چکی تھیں اور انہیں اس لڑکے کے تیور بھی اچھے نہیں لگ رہے تھے انہوں نے بہن کو فوری چلنے کیلئے کہا، یہ دونوں گاڑی گھما کر جب یوٹرن سے واپس آرہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لڑکا جو اپنی والدہ کے فوت ہونے کی بات کر رہا تھا اسی لڑکے کی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ وہ پشاور سے ہے اور اپنے تمام تر پیسے اس لڑکے کو دے چکا ہے جس کی والدہ فوت ہوچکی تھیں، اور دونوں ہی ہنس رہے تھے۔ کیسی افسوسناک بات ہے اور کیسا پریشان کن منظر ہے، موت کا خوف نہ ہونا جوانی کا تقاضا بھی ہے لیکن اس وقت ملکی صورتحال اور لوگوں کے جذبات کو یوں غلط طور پر استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ حکومت اس پر مکمل قابو نہیں پاسکتی لیکن پولیس کو ہدایات تو جاری کی جا سکتی ہیں کہ ایسے لوگوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ وہ لوگ جو اصل پریشانی کے باعث کبھی کسی سے مدد مانگیں گے، لوگ ان کی مدد کیلئے بھی تیار نہ ہوں گے۔ حکومت ہر ضرورت مند تک پہنچ نہیں سکتی لیکن کم ازکم لوگوں کے تحفظ کو یقینی بناسکتی ہے۔ ایک نظر ادھر ڈالنا بھی ضروری ہے یہ نہ ہو کہ لوگ حادثوں کا شکار ہونے لگیں۔