”عظیم جمہوریہ” بھارت کا سیاہ چہرہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا بجاطور پر درست ہے کہ بھارت میںمسلمانوں سمیت دیگر مذہبی طبقات کیخلاف ریاست، حکومت کی اتحادی انتہا پسند ہندو تنظیموں اور خود بی جے پی کا رویہ انتہائی متعصبانہ ہے۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی منصوبے کے تحت مسلمانوں کیخلاف نفرت پیدا کررہی ہے۔ اُدھر ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارت میں کورونا وائرس کو مسلمانوں سے جوڑنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمانوں پر سماجی معاملات کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق حالیہ امریکی رپورٹ میں بھی بھارت کو اقلیتوں کیلئے غیرمحفوظ ملک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکمران جماعت اور اس کے اتحادی مسلمانوں کیخلاف مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں، ہم اسے بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بھارت کی مرکزی حکومت، اس کے اتحادیوں اور بی جے پی کی مدر تنظیم آر ایس ایس کے مسلمان دشمن عزائم اور کارروائیوں سے کاملاً آگاہی کے باوجود صرف بیانات کے اجراپر اکتفا کر رہی ہے۔ بی جے پی کے پچھلے دور میں بھی مسلمانوں اور دوسری اقلیتی برادریوں کیساتھ جو ناروا سلوک ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مودی سرکار کے دوسرے دور کی بنیاد ہی مسلم کشی سے شروع ہوئی۔ شہریت کے متنازعہ قانون کا نفاذ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔ مسلمانوں سے بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں سے غیرانسانی سلوک کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، متنازعہ قوانین شہریتی قوانین کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کیخلاف غداری کے مقدمات درج کئے گئے، دہلی میں منظم انداز میں مسلمانوں کی املاک کو نذرآتش اور ان کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ جھارکنڈ اُترپردیش اور بعض دوسری ریاستوں میں نہ صرف مسلمانوں کو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کورونا وبا کے حالیہ دنوں میں ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے ان کے علاج سے انکار کر دیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی سرکار کے ناروا اقدامات کے باعث بھارت میں آج مسلمان آبادی مکمل طور پر غیرمحفوظ ہے۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں آئے روز ایسے قانون کا نفاذ کیا جا رہا ہے جس سے مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، تعلیم، روزگار اور دوسرے شعبوں میں مسلمانوںکو بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں بھارتی بربریت کے نئے دور کا آغاز ہوا آئے روز ایسے متنازعہ قوانین کے نفاذ کا معاملہ جاری ہے جس سے کشمیر کی مسلم آبادی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔ عالمی برادری اور اداروں کے اس ساری صورتحال پر بیانات کو اگر بھارت کے مسلمان محض نمائشی بیانات قرار دیتے ہیں تو یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں، عالمی ادارے اور طاقتور ممالک کی مجرمانہ خاموشی نے بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتی برادریوں پر زندگی کے دروازے بند کر نے والوں کوشہ دی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس کی بنیادی وجہ عالمی برادری کے مؤثر ممالک کے بھارت سے وابستہ مالیاتی مفادات ہیں، ترقی یافتہ ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھارت میں مجموعی سرمایہ کاری180ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس طرح بااثر مسلم ممالک بھی بھارت سے لگ بھگ300ارب ڈالر کے کاروباری رشتوں میں بند ھے ہوئے ہیں، اقوام کی برادری کے باہمی مالیاتی تجارتی وسیاسی مفادات اور اشتراک پر حرف گیری مقصود نہیں بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ اگر ترقی پذیر ممالک اور بااثر مسلم ریاستوں کے حکمران چاہتے تو تجارتی مفادات کی محبت سے بندھے بھارت کی توجہ اس معاملے پر دلا سکتے تھے۔ افسوس کہ اس مرحلہ پر پاکستان، ترکی، ملیشیا اور ایران کے علاوہ کسی ملک نے بھی بھارتی حکومت کو مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کی حالت زار کی جانب توجہ نہیں دلائی۔ سوال یہ ہے کہ کیا محض چار مسلم ممالک کا اس افسوسناک صورتحال پر تشویش کا اظہار انسانی حقوق کی تنظیم کا حالیہ بیان اور اقلیتوں کے حوالے سے امریکی رپورٹ کے مندرجات سے بھارتی حکومت اپنی مسلم دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر آمادہ ہو پائے گی؟ غور طلب امر یہ ہے کہ آخر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اس انسانی مسئلہ پر اپنے کردار کی ادائیگی سے پہلوتہی کیوں برتے چلے آرہے ہیں؟پاکستانی دفترخارجہ کا یہ کہنا درست ہے کہ ''بھارت اپنے داخلی مسائل خصوصاً مسلمانوں کیخلاف جاری حکومتی اور انتہاپسند ہندوؤں کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی میں مصروف ہے'' جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھارت کے انسانیت وامن دشمن کردار کی نہ صرف کھل کر مذمت کرے بلکہ طاقتور ممالک اور عالمی ادارے اس امر کو یقینی بنائیں کہ بھارت اپنی جغرافیائی وحدت میں مساوی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے موجود سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بھی احترام کرے۔ کشمیریوں کی وحدت کو تقسیم کرنے اور اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازشوں سے باز رہے۔ بھارت کی داخلی صورتحال کے پیش نطر اگر دنیا بھر کے مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے تحفظ کیلئے عالمی طاقتیں اور ادارے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسی پالیسیاں کیوں نہیں اپناتے تو ہر سوال درست ہے۔اندریں حالات محض بیانات دینے سے فرق نہیں پڑے گا عالمی اداروں طاقتور ممالک کو اپنا کردار مئوثر انداز میں ادا کرنا ہوگا تاکہ بھارت میں مسلمان اور دوسری اقلیتی برادریوںپر زمین مزید تنگ نہ ہونے پائے۔