کورونا سے بگڑتی صورتحال

صوبے میں اکتیس نئی اموات صوبائی دارالحکومت میں دس مریضوں کا انتقال اور 78نئے کیس رپورٹ ہونا خیبر پختونخوا میں کورونا وباء کا بے قابو ہونا ہی نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ صوبے کی کثیر آبادی وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ پشاور کے نواحی علاقوںسے خطرناک صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے اور صوبائی دارالحکومت کی گنجان آبادی پوری طرح وباء کی لپیٹ میں ہے جس کی روک تھام اور علاج دونوں ناممکن ہونے کا خطرہ ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلائو کے حوالے سے ملک بھر کے ڈاکٹروں نے یکے بعد دیگرے صوبائی دارالحکومتوں میں پریس کانفرنس کر کے حکومت کو بار بار لاک ڈائون سخت کرنے کے جو مشورے دیئے تھے اس پر عمل درآمد کیا جاتا تو وباء کی شدت شاید آج یہ نہ ہوتی، معلوم نہیں روزانہ کی بنیاد پر پھیلنے اوراموات کا باعث بننے والی وباء کا شکار اور متاثر اور کتنے لوگ ہوںگے۔ اس قسم کی صورتحال سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ جانا فطری امر ہے، صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر لوگ ذہنی دبائو کے باعث اب حواس کھوتے جارہے ہیں اور ذہنی امراض وگھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ایک اور بڑی وجہ بیروزگاری، غربت اور معاشی دبائو بھی ہے۔ حکومتی اقدامات کوشش کے باوجود اس معیار کو نہیں پہنچ سکتے ہیں کہ مریضوں کا علاج اور نادار افراد کی پوری طرح مدد کی جا سکے۔ خیبرپختونخوا میں صحت کا نظام مزید بگڑنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ عاجلانہ اقدامات اور ٹھوس منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے، صوبے کے ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز مریضوں کیلئے علاج گاہ اور تحفظ دینے کے اداروں کی بجائے کورونا زدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، قرنطینہ مراکز میں جسمانی دوری کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث وہاں ٹھہرائے گئے افراد یکے بعد دیگرے کورونا وائرس کا شکار بنتے جارہے ہیں۔ یہ خطرناک صورتحال ہے جس پر توجہ اور ماہرین کی آراء کے مطابق قرنطینہ مراکز کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے، اس ساری صورتحال میں ذرائع ابلاغ کا کردار مثبت اور تعاون کے باوجود صوبائی وزیرصحت کا میڈیا کو بروقت اطلاع دینے پر پابندی، عالمی میڈیا کو مقامی میڈیا پر بلاوجہ کی ترجیح، صوبائی حکومت اور میڈیا کے خوشگوار تعلقات پر اثر انداز ہو نے کا عمل ہی نہیں بلکہ تصدیق کے ذرائع کو مسدود ومحدود کرنے کے باعث غیرمصدقہ اطلاعات کے باعث عوام میں مزید خوف وہراس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ سرکاری طور پر اعداد وشمار دینے اور تصدیق کا تسلی بخش اور سہل اطلاعات کی ذمہ داری نہ نبھانے کی صورت میں ذرائع کے حوالے خبریں دینے کے علاوہ میڈیا کے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں بچتا، بہرحال یہ مسئلہ اخبارات کے ذریعے وزیراعلیٰ محمود خان اور مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے سامنے آچکا ہے ہم ایک مرتبہ پھر ان سے یہی گزارش مناسب سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے ترجمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کو اطلاعات فراہم کرے، بہتر ہوگا کہ وزیر صحت اپنے محکمے کو درپیش چیلنجوں پر توجہ دے اور میڈیا سے رابطے کی ذمہ داری مشیر اطلاعات کو انجام دینے دی جائے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وزیرخزانہ اگر بجٹ کی تیاری میں مصروفیت اور عدیم الفرضی کی بناء پر صحت کے محکمے کے معاملات اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں مشکل کا شکار ہیں تو صحت کے محکمے کا تجربہ رکھنے والے کابینہ ارکان میں سے کسی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ اس وقت صوبے میں عوام کی صحت اور علاج کے حوالے سے اقدامات سے زیادہ ضروری کوئی امر نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صحت کے محکمے کی کارکردگی اور مشکلات کا فوری جائزہ لیا جائیگا اور اصلاح احوال پر توجہ دی جائے گی۔
حزب اختلاف کی بے وقت کی راگنی
خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کا امداد میں نظرانداز کرنے پر سفارتخانوں کے سامنے احتجاج اور صوبائی حکومت کو دیئے جانے والے قرضوں کی تفصیل کیلئے امداد دینے والوں کو خط لکھنے کا عندیہ بے وقت کی راگنی اور نامناسب فیصلہ ہے۔اولاً یہ وقت ہم آہنگی کیساتھ اور حکومت کو اعتماد دے کر صورتحال سے نمٹنے کا ہے سیاست کا یہ موقع نہیں۔ دوم یہ کہ حزب اختلاف اسمبلی میں حکومت سے جواب طلبی کر سکتی ہے اور حکومت ایوان میں جواب دینے کی پابندہے۔سیاسی اختلافات کے باعث ایسے اقدامات سے پرہیز کیا جائے جو نامناسب اور جگ ہنسائی کا باعث ثابت ہوں۔ حزب اختلاف کے تحفظات سننے کیلئے وزیراعلیٰ اگر اپوزیشن کو ملاقات کا موقع دے کر غلط فہمی کا ازالہ کر ے تو مناسب ہوگا۔
نادرا دفاتر کھولتے ہوئے احتیاط کے تقاضے
نادراکے دفاتر کھلنے کے بعد اس امر کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ قطاریں نہیں لگیں گی اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود کہ نادرا حکام نے حفاظتی اقدامات کا عندیہ دیا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ عملے کیساتھ ساتھ دفتر آنے والوں کو بھی محفوظ بنانے کی ذمہ داری محکمہ نبھائے۔یہاں تو لوگ سرعام ماسک پہننے سے سراسر اجتناب کرتے ہیں، بازاروں اور عوامی مقامات پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر نہیں لگتا کہ صوبے میں کورونا سے متاثر ہونے والے اور شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔ نادرا کے دفاتر سے معمول کے دنوں میں بھی عوام کی شکایات ہیں عملہ کی غیرضروری تاخیر اور اعتراضات سے عوام عاجز آچکے ہیں نادرا کے دفاتر کھولتے ہوئے عملے کو خصوصی ہدایات دی جائیں اور رش سے بچنے کیلئے فون نمبر دے کر باقاعدہ نمبر اور وقت لیکر دفتر آنے کا طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ عملے کو بھی آسانی ہو اور لوگوں کو بھی بلاوجہ کے انتظار اور زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔