بے روزگاری الائونس کا اجرائ

پوری دنیا کی طرح پاکستان نے بھی کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے لاک ڈائون کیا ' متعدد بار اس میں توسیع بھی کی لیکن کوئی بھی ملک غیرمعینہ مدت تک لاک ڈائون کا متحمل نہیںہو سکتا ' کیونکہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کورونا وائرس پر قابو پانے میںکتنا وقت لگے گا اور یہ کہ آنے والا وقت کیسا ہو گا؟ ماہرین کے مطابق اگر کورونا کے کیسز میں کمی آ بھی گئی توان میں دوبارہ اضافے کے خدشات موجود ہیں' یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور اقوام عالم سمارٹ لاک ڈائون کیساتھ ساتھ ملک چلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ چین ' امریکہ اور دیگر ممالک میں کاروبار زندگی بحال ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اگرچہ پاکستان میں روز اول سے ہی مکمل لاک ڈائون کیخلاف تھے تاہم اب انہوں نے مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے چند ایسے اقدامات اُٹھائے ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں کسی قدر کمی واقع ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان نے بیروزگار غریب افراد کو کورونا ریلیف فنڈ سے مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے احساس پروگرام کی ویب سائٹ پر ایپلی کیشن پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ملازمت سے محروم افراد کو کام چھوٹ جانے کا ثبوت فراہم کرنے پر 12ہزار روپے ملیں گے ' بیروزگار افراد صرف اتنا بتائیںگے کہ وہ کہاں کام کرتے تھے ۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بیروزگاروںکیلئے الائونس کا اجراء اس بات کی علامت ہے کہ وہ بحران کے مشکل ایام میںعوام کے مسائل سے غافل نہیں ہیں' اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں، تاہم خوش آ ئند امر یہ ہے کہ حکومت حتی المقدور عوام کو سہولت فراہم کرنے میں کوشاں دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین طب کے خدشات کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق صورتحال اگر 6ماہ یا ایک سال تک برقرار رہتی ہے تو پھردنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پیش بندی کرنی پڑے گی کیونکہ جب ترقی یافتہ ممالک مسلسل لاک ڈائون کے باعث اپنی بقاء کو برقرار نہیںرکھ سکتے تو پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک معاشی مسائل کے اعتبار سے کہاں کھڑا ہو گا ' اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے' دریں حالات وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی صنعت کو مکمل طور پر کھولنے اور انہیں مراعات دینے سے بحران میںکافی حد تک کمی واقع ہو گی کیونکہ تعمیراتی صنعت کے رواں رہنے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ اسی طرح پیٹرولیم کی قیمتوں میں واضح کمی کافائدہ اُٹھا کر عوامی مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اشیائے خورد ونوش کی ترسیل اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا براہ راست تعلق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے ہے' کس قدر افسوسناک بات ہے کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اسے جواز بنا کر تاجر حضرات اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ دیتے ہیں لیکن جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میںکمی نہیں کی جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو پیغام دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ثمر عام افراد تک پہنچایا جائے، اس ضمن میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد ضلعی انتظامیہ ناجائز منافع خوروں کیخلاف ایکشن لے۔ یہ حقیقت ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مسلسل لاک ڈائون سے عوام تنگ آ چکے ہیں' عوام کو اپنے گھروں میں محصور ہوئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے' اب حالات سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عوام مزید گھروں میںبیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس قدر وسائل ہیں کہ گھر میں بیٹھ کر وقت گزار سکیں۔ بیروزگاروںکیلئے 12ہزار روپے الائونس سے حکومت کچھ عرصہ مزید نکال سکتی ہے لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی معیشت لوگوں کو گھروں میںبٹھا کر ان کی تمام ضروریات پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتی' سو ایسے حالات میں ضروری ہے کہ تعمیراتی صنعت کی طرح دیگر کاروبار کو بھی مرحلہ وار کھولنے کیلئے غور کیا جائے اور احتیاطی تدابیر اپنا کر کاروبار کی اجازت دی جائے جس طرح کہ کریانہ سٹور ' دودھ دہی،پھل ،سبزیوں اور راشن کے میگا سٹوروں کو اجازت دی گئی ہے' کاروبار بحال کرنے سے پہلے تاجر برادری کیساتھ معاملات کو ان خطوط پر تشکیل دیا جائے جیسے مساجد کو کھولنے سے پہلے حکومت نے علماء کے وفد کیساتھ طویل نشست میں اجتماعی اصول چلانے کے عملی طریقہ کار (ایس او پیز) طے کرنے کے بعد مساجد کو کھولنے کی اجازت دی تھی اور بڑی حد تک مساجد میں ان ایس اوپیز پر عمل بھی ہو رہا ہے' بعینہ بازار اور کاروباری مراکز میںصفائی ستھرائی ' سوشل ڈسٹینس ' ہینڈ سینٹائزر اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کورونا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے جس طرح بروقت لاک ڈائون کے فیصلے کی ضرورت تھی اسی طرح کورونا کے بحران سے نکلنے کیلئے بھی بروقت پیش بندی کی ضرورت ہے،یاد رکھیں اگر ہم نے اس بحران سے نجات کیلئے منصوبہ بندی کرنے میں تاخیر کر دی تو پھر بھوک اور افلاس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔