کورونا ازخود نوٹس- سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں کسی چیز میں کوئی شفافیت نہیں -چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ماسک اور گلوز کےلیے کتنے پیسے چاہیے؟ اگر ہول سیل میں خریدا جائےتو2 روپے کا ماسک ملتا ہے تو ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں؟ , کسی چیز میں کوئی شفافیت نہیں، لگتا ہے سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں۔

حاجی کیمپ قرنطینہ سے متعلق چیف جسٹس کے استفسار پر سیکریٹری صحت نے کہا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ کا  دورہ کیا تو وہ غیر فعال تھا، ایک کمرے میں پارٹیشن لگا کر 4  افراد کورکھا گیا، ضلعی انتظامیہ نے گرلز ہاسٹل میں قرنطینہ سینٹر منتقل کیا، گرلز ہاسٹل میں 48 کمرے ہیں۔  چیف جسٹس پاکستان کے استفسار پر ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنائی،

معزز چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں، خریداری کیسے ہو رہی ہے اور  کن کمپنیوں سے ہو رہی ہے؟ سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں، کورونا اخراجات کا آڈٹ کروایا جائے گا تو پتہ چلے گا اصل میں ہوا کیا ہے۔

اس دوران سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ وائرس کی دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف شکلیں ہیں، امریکی اور یورپی کورونا وائرس زیادہ خطرناک ہے وہاں ہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ امریکا سے ہمارا موازنہ کیوں کررہے ہیں، یہ بالکل نہ کریں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ابتر حالت ہے، اسلام آباد میں کتنے شاپنگ مالز ہیں؟ ان میں کتنی دکانیں کرائے پر ہیں؟ کتنے ملازمین کام کرتے ہیں؟ شاپنگ مالزمیں سامان کی تقسیم سے کتنے لوگ وابستہ ہیں؟ شاپنگ مالز سے وابستہ تمام کام رک گیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سندھ حکومت پالیسی بنانے کی بجائے صنعتیں کھولنے کی اجازت دے رہی ہے، صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں، سمجھ نہیں آرہی ملک میں کیا ہورہا ہے، ملک میں مکمل طور پر استحصال ہورہا ہے، لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں، کوئی یکساں حکمت عملی نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومتیں پیسے مانگ رہی ہیں، اگر وفاق کے پاس فنڈز ہیں تو اسے دینے چاہییں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ  حکومت ہر کام منصوبہ بندی کے ساتھ کرتی ہے لیکن اس معاملے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی، کورونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے، ہمارا گزشتہ حکم شفافیت سے متعلق تھا اس کو نظر انداز کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں میں تعاون نہ ہونےکی وجہ مرکز میں بیٹھےلوگوں کا متکبرانہ رویہ ہے،کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے، ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کورونا سے متعلق یکساں پالیسی بنائی جائے، جسٹس یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔